ڈی ایس پی غضنفر عباس تنگوانی اور حقیقی میرٹ کی داستاں
تحریر علی امجد چوہدری
مہر غلام قاسم سرگانہ ضلع جھنگ کے جاگیر داروں میں صف اول میں ہیں سیاسی طور پر بھی غیر معمولی حد تک بااثر ہیں انہیں صاحبزادہ گروپ کی ریڑھ کی ہڈی بھی سمجھا جاتا ہے ان کا تمام سیاسی کیریئر صاحبزادہ گروپ کے گرد ہی گھومتا ہے یہ صاحبزادہ نزیر سلطان اور صاحبزادہ سلطان مجید کے لنگوٹیے یاروں میں سے تھےان کی یہ پچاس سالہ رفاقت صاحبزادہ امیر سلطان اور صاحبزادہ محبوب سلطان تک برقرار ہےماضی میں سردار غلام قاسم سرگانہ کو صاحبزادہ گروپ سے جدا کرنے کی کئی کوششیں ہوئیں کہیں پیار دکھایا گیا تو دھونس مگر ان کی رفاقت ختم نہ ہو سکی
اب آتے ہیں ان سے جڑے ایک واقعے کی طرف جب چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت ختم ہوئی محسن نقوی نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیئے گئے اور تحریک انصاف کا بڑا امتحان شروع ہو گیا اس دور اور مارشل لاء دور کو اپنی زندگی میں observe کرنے والے مختلف بزرگوں سے جب میری گفتگو ہوئی تو وہ محسن نقوی کی وزارت اعلیٰ کے دور کو سول مارشل لاء سے تشبیہ دیتے ہوئے دکھائی دیئے بلکہ ان کا خیال تھا کہ یہ دور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک تھا کیونکہ جس طرح اس period میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہوئی یہ ناقابل تھے سردار غلام قاسم سرگانہ بھی اسی کے زد میں آگئے ان کے خلاف دو ایف آئی آرز رجسٹرڈ کی گئیں ان میں کلمہ چوک احمد پور سیال کے خود ساختہ وقوعہ کی ایسی بھونڈی ایف آئی آر بھی شامل تھی جس پر سب ہکا بکا رہ گئے غضنفر عباس تنگوانی انہیں دنوں ڈی ایس پی احمد پور سیال تعینات ہوئے تھے سردار غلام قاسم سرگانہ نے راہ فرار کی بجائے مقدمات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تاہم یہ انتہائی غیر یقینی کی سی کیفیت کا شکار تھے ان کا خیال تھا کہ اس سول مارشل لاء میں انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف تھا یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈی ایس پی غضنفر عباس تنگوانی کے دفتر جا پہنچے اور ممکنہ ناانصافیوں کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا مجھے آج بھی تنگوانی صاحب کے یہ الفاظ یاد ہیں کہ ان کا تبادلہ ہو یا کوئی اور سزا مگر وہ ناانصافی نہیں ہونے دینگے اور تفشیش میرٹ پر ہوگی اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ ان کے الفاظ ان کے قول اور فعل کی یکسانیت کے عکاس تھے تمام تر دباؤ کے باوجود تفشیش میرٹ پر ہوئی اور یہ ایف آئی آرز discharge ہوئیں یہ معاملہ صرف ایک شخصیت تک محدود نہیں رہا بلکہ جو بھی sdpo آفس تک گیا وہاں دباؤ میں اس کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوئی تنگوانی صاحب اب لیہ چاجکے ہیں مگر ان کی خوشگوار یادیں آج بھی یہاں موجود ہیں
علی امجد چوہدری











