خدمت خلق

تحریر۔ متین قیصرندیم

انسانیت کی بنیاد خدمت کے جذبات پر استوار ہے۔ خدمت خلق ایک بہترین عمل ہے جو ہر انسان کو انفرادی اور مجموعی طور پر معاشرے کے لئے انجام دینا چاہئے۔ یہ عمل نہ صرف انسانیت کی ترقی و تحریک کا سبب ہے بلکہ اس سے فرد کی شخصیت میں بھی نکھار پیدا ہوتا ہے۔خدمت خلق کا مظاہرہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ شہری خدمات ہو سکتی ہیں جیسے کہ سڑکوں کی صفائی، بچوں کی تعلیم یا مساجد اور اسکولوں میں تعلیمی مدد فراہم کرنا۔ علاوہ ازیں، طبی خدمات بھی خدمت خلق کا ایک شاندار طریقہ ہے۔یہ عمل نہ صرف معاشرتی بلکہ انسانیت کی بھلائی کے لئے بھی بہترین ہے۔ خدمت خلق کے اثرات معاشرے پر بڑے گہرے ہوتے ہیں اور اس سے لوگوں میں تحریک بھی پیدا ہوتی ہے۔دنیا بھر میں دیکھے جاتے ہیں۔ خدمت خلق ایک نیک عمل ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔دوسروں کے کام آنا ایک نیک عادت ہے جو انسانیت کے بنیادی اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ عمل اظہار کرتا ہے کہ انسان دوسروں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے اور دوسرے لوگوں کی تکلیفوں میں شریک ہوتا ہے۔دوسروں کے کام آنے سے معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کا ماحول بنتا ہے۔ یہ انسانوں کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ مضبوط کرتا ہے اور معاشرے میں اخلاقی بہتری کا سبب بنتا ہے۔دوسروں کے کام آنے کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے یہ مالی مدد، رہنمائی، یا مشورہ دینے کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ اسی طرح علم و تجربہ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا بھی خدمت خلق ہے۔عبدالستار ایدھی پاکستان کے عظیم سماجی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی بھر خیرات اور انسانیت کی بہتری کے لئے کام کیا۔ اس طرح پاکستان بھر میں مختلف ادارے ہیں جو خدمت کا کام کر رہے ہیں اور کچھ لوگ انفرادی سطح پر یہ نیکی انجام دے رہے ہیں انسانیت کی خدمت کرنا ہی اصل سیاست ہے اور ویسے بھی ہمارے دین اسلام نے بھی ہمیں خدمت خلق کا حکم دیا ہے اور مخلوق خدا کی خدمت اسلام کا خاصہ ہے۔ خدمت خلق محبت الٰہی کا تقاضہ اور دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے، اور قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اللہ تعالی مال خرچ کرنے کی اہمیت کا بتاتے ہیں اورقرآن پاک کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ جس نے اللہ تعالی کے راستے میں ایک روپیہ خرچ کیا تو اس نے ایک روپیہ نہیں بلکہ سات سو روپے خرچ کیے یعنی اس کے اجر وثواب میں سات سو گناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔احادیث میں بھی خدمت خلق کے متعلق مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ خیر و بھلائی اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و امداد کریں اور گناہوں اور برائی کے کاموں میں کسی کی مدد نہ کریں بلکہ گناہ اور برائی سے روکیں یہ بھی خدمت خلق کا حصہ ہے-ایک حدیث شریف میں رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جو دوسروں کو نفع اور فائدہ پہنچائے۔

قرآن کریم اور احادیث کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا بنیادی مقصد ہی فلاح انسانیت ہے اور اسلام کی تعلیمات نے ہمیں یہ درس دیا کہ ہم میں بہترین اور سب سے اچھا اور عمدہ انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کرتا ہواوروہ اپنی ذات سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور کسی کو تکلیف نہ دے۔

اسلام ہمیں احترام انسانیت اور خلق خدا کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کی تعلیم دیتا ہے اور آج پاکستانی معاشرے میں ہمیں اسلام کے اس بنیادی درس پر عمل پیرا ہونا ہو گا اور ایسے صاحب استطاعت لوگوں کو خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر آگے آنا ہو گا کیونکہ اس وقت مہنگائی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے لوگ فاقہ کشی کی نوبت تک پہنچ چکے ہیں لہٰذا ایسے ماحول میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے محض انسانیت کی بنیاد پر پریشان حال لوگوں کا تعاون جس طرح سے بھی ہوسکے کرکے ہمدردی،مساوات اور رواداری کا عملی نمونہ پیش کریں -صدائے میو پاکستان کےفورم سے بلا تفریق اجتماعی شادیوں کا ایک عظیم کام ہڑ سال باقاعدگی سے ہو رہا ہے زندگی کے شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو شیلڈ اور انعامات سے نوازا جاتا ہے یہ سلسلےانسانیت کے مقام مقصد بتاتے ہیں اچھائی کی تحریک پیدا کرتے ہیں معاشرے کا جمود توڑتے ہیں

بقول شاعر

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ اطاعت کیلے کم نہ تھے کرو بیاں

محمد متین قیصر ندیم
احمڈ پور سیال 03006821668