شام میں انتشار اوراس کاسبق
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
شام کی تاریخ بہت پرانی ہےاور اس کوتہذیب و تمدن کا گہوارا بھی کہا جاتا ہے۔شام پر مختلف طاقتوں نے حملے کیے۔موجودہ شام 1946 میں آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔آزادی مل گئی لیکن اندرونی طور پر خلفشار شروع ہو گیا،صرف اندرونی نہیں بلکہ بیرونی سازشیں بھی شام میں شروع ہو گئیں۔شام میں مستقل خانہ جنگی جاری رہی اور اس انتشار کا فائدہ کچھ طاقتیں اٹھاتی رہیں۔1970 میں حافظ الاسد نے حکومت کو سنبھال لیا،یوں محسوس ہوا کہ شاید شام کے حالات کنٹرول میں ہو جائیں گے۔لیکن حافظ نے بھی آمریت کو فروغ دیااومخالفت کرنے والوں کو سختی سے کچلاگیا۔سیاسی حقوق اور دوسرے حقوق غضب کیے گئے۔انسانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ایک رپورٹ کے مطابق شام میں ایک کروڑ سے زائد افراد دربدر پھر رہے ہیں۔حافظ کے دور حکومت میں کرپشن،غنڈا گردی ،بےروزگاری، بدعنوانی کو کافی فروغ ملا۔حافظ حکومت نےکچھ تبدیلیاں کیں،لیکن ان تبدیلیوں کا فائدہ بھی حافظ اور اس کے ساتھ رہنے والوں کو ہوا۔آمریت ازحد بڑھی ہوئی تھی اور انسانی حقوق بری طرح نظر انداز کیے گئے۔ملک میں رد عمل کے طور پرمخالفین نے بھی مسلح جدوجہد شروع کر دی۔حکومت(کی فوج) اورحکومت مخالف گروہوں کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔مخالف گروہوں کوبیرونی فنڈنگ ملتی رہی۔امریکہ اور چند ممالک حافظ حکومت کے مخالفین کو نوازتے رہے۔روس، ایران اور کچھ ممالک حافظ حکومت کی حمایت کرتے رہے۔روس نےشام میں فضائیہ اور بحریہ کے اڈے قائم کر دیے۔دیگر طاقتیں بھی مداخلت کرتی رہی اور یوں شام میں بدامنی کا دور جاری رہا۔روس نے بھی حالات کو درست کرنے کی بجائےبگاڑنے میں زیادہ دلچسپی لی۔اسرائیل بھی حالانکہ حافظ حکومت کا حامی تھا،لیکن افواج سے لڑنے والوں کی مدد بھی کرتا رہا۔اسرائیل گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل کر رہا ہےاور پورے خطے کو جنگ کی بھٹی میں دھکیل دیا ہے۔
حافظ الاسد کے بعد اس کے بیٹے بشار الاسد نے حکومت سنبھالی۔بشاراپنےوالدحافظ سے بھی بڑھ کر ثابت ہوا۔اس نے بھی اپنے عوام کو کوئی حقوق نہیں دیے،بلکہ عوام پر بمباری کی اور کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا۔بشار نے بھی بیرونی طاقتوں پرانحصار جاری رکھا اور اس امید میں رہا کہ روس اور اس جیسی دوسری طاقتیں اس کو تحفظ دیتی رہیں گی۔اپنی فوج کو مضبوطی نہ دے سکا،کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ بیرونی امداد اس کے لیے کافی ہےاور دوسری بات یہ کہ اس کو موقع بھی نہیں مل سکا کہ فوج کو مضبوط کر سکے۔بشار حکومت کے خلاف مسلح گروہوں نے اپنی جدو جہد جاری رکھی۔”حیات التحریر الشام”گروپ بہت بڑا گروپ ہے اور شامی عوام کی ترجمانی کر رہا ہے۔بشار حکومت نے ان کو باغی کہا،لیکن عوامی حلقوں میں ان کی پزیرائی بڑھتی گئی۔ظاہر بات ہے ہر آمراورظالم حکومت اختلاف کرنے والوں کو باغی اور غدار کہتی ہے۔عوامی حلقوں کی مدد سے آخر کار وہ بشار حکومت کو ہٹانےمیں کامیاب ہو گئے۔انہوں نے عام معافی کا اعلان بھی کیا ہوا ہےاوربہترین پالیسیاں نافذ کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔شام میں داعش اور القاعدہ گروپ بھی اسد حکومت کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے۔اب بھی بہت سے گروہ موجود ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بھی دمشق پر قابض ہو جائیں۔اسد حکومت بھی پورے ملک پر کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی بلکہ کچھ علاقوں پر دوسرے گروپوں کا قبضہ تھا۔اب بھی جنگ جاری ہے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی،ہو سکتا ہے کئی طاقتیں شام میں جنگی ماحول کو ختم نہ کریں،بلکہ اس ماحول کو گرماتی رہیں گی کیونکہ یہ ان کے مفاد کے لیے ضروری ہے۔
روس یوکرین جنگ میں الجھا ہونے کی وجہ سےاسد حکومت کی مدد نہیں کر سکا۔اسد روس میں پناہ گزین ہو چکے ہیں اور اپنے ساتھ کافی خزانہ بھی ساتھ لے گئے ہیں۔اس خزانے میں رقم کے علاوہ نوادرات اور ہیرے جوہرات بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔روس نےاگراسدکی مدد کرنا شروع کر دی،تو شام میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ شام کے حالات کو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔اسرائیلی اور امریکی مداخلت روس کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اس کی ممکنہ کوشش ہو سکتی ہیں کہ شام کی نئی حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات بڑھائے جائیں۔روس بھی ایک عالمی طاقت تسلیم کی جاتی ہےاور اس کا احساس پوری دنیا کو ہے۔روس کےصدر ولادی میر پیوٹن نےایک پیغام جاری کیا ہے،انہوں نے کہا کہ روس نے نئے حکمران کو تجویز دی ہے کہ روس کے فضائی اور بحریہ کے اڈوں کو رہنے دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ شام کے خراب حالات کا فائدہ اسرائیل کو زیادہ مل رہا ہے۔اب اسرائیل شام میں 25 کلومیٹر اندر تک گھس چکا ہےاور کوشش کر رہا ہے کہ وہ مضبوط ہو جائے۔اسرائیل مشرق وسطی میں امن نہیں چاہتا۔”حیات التحریر الشام “اگر عوامی طور پر بہتر حکومت ثابت ہوئی،تو اس بات کا امکان بڑھ جائے گا کہ وہاں امن آجائے۔امن صرف شام کی ضرورت نہیں بلکہ پورے خطہ کی ضرورت ہے۔پھیلتی بدامنی انسانیت کے لیے جہنم ثابت ہو رہی ہے۔اب اگر بیرونی مداخلت بڑھ گئی،جس کا کافی امکان ہے تو حالات اس سے بھی بدترین ہو جائیں گے۔شام میں خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بہت ہی تباہ کن ہوگا اور ان کے استعمال کا امکان پوری طرح ہے۔کوئی بھی طاقت ہو،اگر وہ امن کی خواہش مند ہےتو التحریر کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی حکومت قائم کر سکے۔روس بھی بشارالاسد سےوہ خزانہ واپس شام کو دلوائے،جو وہ اپنے ساتھ لوٹ کر لے گیا ہے۔روس کے لیے پرامن شام،جنگ زدہ شام کے مقابلے میں بہتر ہے۔بیرونی مداخلت اب بھی ہوگی اور دوسرے گروہ بھی دمش پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے۔ان حالات میں اقوام متحدہ فوری ایکشن لے کرنئی حکومت کی مدد کرے،تاکہ حالات کنٹرول میں آجائیں۔
شام کے حالات سے سبق لینا بھی ضروری ہے۔اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں کے لیےنقصان دہ ثابت ہونا شروع ہو جائے،جبر کا نظام قائم کر دیا جائے،تو وہ حکومت تا دیر قائم نہیں رہتی۔شام سےسبق سیکھا جا سکتا ہے کہ مخالفوں کو بھی برداشت کیا جائے،اس وقت تک جب وہ ریاست کے لیے خطرناک نہ ہو جائیں۔شہریوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔کرپشن،بدعنوانی،میرٹ کی پامالی،عدل و انصاف کا قتل،جیسے جرائم حکومت کو برباد کر دیتے ہیں۔اس جیسی حکومتیں دیرپا باقی نہیں رہتی بلکہ ان کا انجام بدترین ہوتا ہے۔شام کے شہری اب بھی حالت جنگ میں ہیں،ان کو سنبھلنے کے لیےکافی عرصہ ضروری ہے۔اسلحہ کا استعمال مخلص،محب وطن شہریوں کے خلاف استعمال نہ کیا جائے بلکہ ریاست دشمنوں کے خلاف اسلحہ استعمال کرنا چاہیے۔اسد حکومت اگر اپنے شہریوں کے لیےبہتر حکومت ثابت ہوتی،تو اب بشارالاسد کو یوں فرار نہ ہونا پڑتا۔شام کے حالات کنٹرول کرنے ہوں گے،بلکہ پورے خطے کے حالات کنٹرول کرنے چاہیے تاکہ امن کی طرف بڑھا جا سکے۔












