سالانہ ہول سیل چھٹیاں
تحریر۔فیصل جنجوعہ
میں آج تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کہ ہمارے سیاسی زعماء ملک میں بہتر تعلیم کو ہمیشہ سے کیوں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ہمارے بچپن سے ہی کسی بھی وی آئی پی کا استقبال ہو یا کوئی بھی قومی تہوار ،معصوم بچوں کو سارا سارا دن کھڑا کیا جاتا ہے یعنی جسمانی اذیت سے ہٹ کر تعلیمی نقصان کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں بنتا ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بے جا چھٹیاں ،کسی نہ کسی بہانے ،شاید قوم کو جاہل رکھنے کے لیے ہر حکومت نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے
میں آج تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ محکمانہ غفلتوں کو تعلیم کے خاتمے پر کے لیے کیوں استعمال کیا جاتا ہے. ماحولیاتی آلودگی کے نام پر سکول بند کر دیئے گئے اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا ۔سرکاری سکولوں میں ہفتہ وار دو تعطیلات ،گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات ،قومی تعطیلات یعنی تعلیمی سال سکڑتے سکڑتے آدھے سال سے بھی کم رہ جاتا ہے ۔ مزید یہ کہ ہمارے بچے قطعاً ایسے وسائل نہیں رکھتے کہ موسمیاتی انتہاء کا گھروں میں بیٹھ کر مقابلہ کر سکیں ،بلکہ بچے گلیوں میں اور بند سکولوں کے میدانوں میں کھیلتے نظر آتے ہیں ۔
خدا را ذرا سوچیں کہ ہمارے اور امراء اور اہل اقتدار کے بچے ایک جیسے نہیں ہو سکتے ۔ہمارے بچے تو انہی گلیوں اور کوچوں میں کھیلیں گے ، موسموں کی شدت اور اپنے مستقبل سے بے خبر ۔
سکولوں اور کالجوں میں بے ہنگم چھٹیاں کوئی سیاسی معاملہ ہو یا مذہبی ،کوئی معاشرتی معاملہ، کوئی انتظامی معاملہ ہو، الیکشن ہو یا مردم شماری چھٹیاں کرنے اور دینے کے ماہر ایجوکیشن آفس ،اسمبلیوں اور بیوروکریسی میں موجود ہیں،بغیر کسی وجہ کے یہ ادارے بند کر دئیے جاتے ہیں
کلائمیٹ چینج کے بعد گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں اسی انگریز سرکار کے مطابق چلتی جا رہی ہیں ۔ آخر اس کا مقصد کیا ہے،اتنی چھٹیاں کیوں دی جاتی ہیں
پاکستان کے تمام صوبوں میں بھی موسم ایک جیسے نہیں کیوں آہستہ آہستہ ضلعی نظام تعلیم کو ختم کر کے صوبائی انتظامی کمیٹیاں بنا دی گئی ایک حکم کے زریعہ پورے صوبے کا تعلیمی نظام چلایا جاتا ھے
کیوں مار نہیں پیار کا نظام لایا گیا، جس میں استاد کا احترام ھی ختم ہو گیا. کیوں تعلیمی نظام کو چھوٹے یونٹس سے محروم کیا گیا حالانکہ پوری دنیا کا نظام چھوٹے چھوٹے یونٹس میں چل رھے ھیں۔
کیوں اساتذہ کو معاشرے کا پیڈ استاد بنایا گیا اور ان کی تربیت ختم کی گئی۔ کیوں تعلیم کو ایک طرف مفت کیا گیا اور پانچ دس روپے کی فیسز بھی ختم کی گئی اور احساس محرومی بڑھائی گئی۔ کیوں پرائیویٹ ادارے بنا کر دو طبقے بنا دئیے گئے اور سرکاری ادارے صرف تنخواہ لینے کے لئے رہ گئے۔
کیوں اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اداروں میں لے جاتے ہیں ۔ کیوں اساتذہ نے اپنے پرائیویٹ ادارے بنا کر ٹیوشن سنٹر بنا لئے۔ کیوں اساتذہ نے اپنی رزق کی جگہ کو خود ختم کیا؟ کیوں اساتذہ احساس محرومی کا شکار ہیں یا شکار کئے گئے؟ کیوں اساتذہ لاکھوں کی تنخواہ لینے کے بعد بھی رزلٹس نہیں دے رہے؟
دنیا بھر کے سرد ترین ممالک میں سردیوں کی چھٹیاں 23 دسمبر تا یکم جنوری اورپاکستان میں جس کا World Educatinal Rank
120 واں ہے وہاں 12 جنوری تک۔
کوئی ہے جو ان کو سمجھائے کہ کیوں تعلیم اور تعلیمی اداروں کا ستیاناس کر رہے ہیں ۔ ظالموں کو کوئی پرواہ نہیں کہ آئے دن کی لمبی چھٹیوں کے طالبعلم ، استاد اور تعلیمی اداروں پر کس قدر منفی اثرات ہوتے ہیں ؟ کسی ملک و قوم کی ترقی کا انحصار تعلیم پر ہی ہوتا ہے ۔ہم اسے اتنا ہی غیر اہم سمجھ رہے ہیں۔ کوئی لیڈر ، کوئی عالم ، ماہر تعلیم ، صحافی ، اینکر ، کوئی عدالت یا ادارہ یا ایجنسی ایسے تعلیم و ترقی دشمن فیصلوں کیخلاف اپنا رول ادا کرنے کو تیار نہیں۔ پہلے طلبا کے 3 ہفتے سموگ کی نظر ہو گئے اور اب 3 ہفتے سردی کے نام برباد کئے جا رہے ہیں۔ ہوش کے ناخن لیں ورنہ پستی و غلامی ہماری نسلوں کا مقدر بن جائے گی وہ بھی ہمارے اپنے ہاتھوں سے۔












