یاد ماضی ورثہ میرا

تحریر متین قیصر ندیم

*دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی ابو تم یاد آئے*

28دسمبر 2017ء میری زندگی کا ایسا دن جو غروب ہوتے ہوئے میرے ارمان میرے خواب میرے ساتھ ڈٹ کر کھڑے درخت کو لے گیا مجھے یتیم کر گیا مجھے بے آسرا کر گیا ۔میرے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی سر سے آسمان کی نیلگوں چھت سرک گئی۔میرا باپ میرے سر کو سایہ شفقت سے محروم کر گیا ۔گھر کے آنگن کو سونا کر گیا

* تیرے ہونے سے سمجھا تھا کہ دنیا تم ہو
ویسے دنیا کو میں بیکارکہا کرتا تھا

تم سے بچھڑاتورویاہوں وگرنہ کل تک
رونے والوں کو فنکار کہا کرتا تھا*

* ہم قطرہ شبنم کی طرح اڑ جائیں گے اک دن
اک یاد سی رہ جائے گی گلشن میں ہماری
اوڑھ کر مٹی کی چادربے نشاں ہوجائیں گے
ایک دن آئے گا ہم بھی داستاں ہو جائیں گے*

۔میرا استاد میرا مہربان میرا نگہبان میراسائبان عازم رخت سفر ہوا۔میرے والد بزرگوار سرکاری ٹیچر تھے گھر میں ڈسپلن لائف تھی قلم دوات اور کتاب کا بچپن سے ساتھ تھا لکھنے لکھانے کا رجحان خون میں رچا بسا تھا ۔دین سے لگاؤ مسجد میں آمد و رفت ابو کا ہاتھ پکڑ کر سیکھی ۔تصوف و عرفان کے میدان کے بھی کھلاڑی تھے ۔روپوں سے دور شہرت سے عاری مال ودولت کو رب کی عطا سمجھ کر ۔۔۔۔صابر و شاکر ساری زندگی فلاح واصلاح کے افکار پر کاربند رہے ۔تعلیم کے ساتھ تربیت کے پہلوؤں کو کبھی نظر انداز نہ کیا ۔شرعی و اسلامی معاملات میں سخت اور انسانی طبعی و رجحانی معاملات میں نرمی کے قائل تھے ۔لسانی و فروعی اور مسلکی ایشوز پر بردباری اور امن پسندی پسند کرتے تھے میری تعلیمی کامیابی ،صحافتی کامیابی اور سیاسی میدان میں نشوپاتی زندگی انکی دعاؤں کی مقروض ہے ۔لب کشائی کی جسارت ۔لکھنے کی ہمت ،سننے کی برداشت اور حق سچ پر ڈٹ جانے کا حسینی فلسفہ اور باطل جھوٹ پر انکار کر نے کا جذبہ انھیں کا مرہون منت ہے ۔زندگی کے ہر نشیب و فراز میں حوصلہ دیا ساتھ دیا ۔رب کی رضا , عطا پر راضی رہنے کا شعور دیا .جاتا سال آخری مہینہ میرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری آیام میری زندگی کے کیلنڈر میں سے روح ہی نکال لے گیا۔ میرے ہاتھوں میں دم دوڑتی سانس ،پرواز کرتی روح اور بے جان ہوتا ٹھٹھرتا جسم، پر سکون چہرہ ، میرے ہاتھوں میں دبے ہاتھ ،درود گنکناتے لب اور آنکھوں سے ٹپکتی بوندیں زندگی سے موت کے سفر ی مراحل بیان کرتیں رمقیں ،ڈوبتی نبضیں گہری سانسیں پسینہ سے بھری شکن آلود شکنیں، چہرے کے بدلتے خدو خال تھمتے لمحات رات کے ڈوبنے اور سحری کے طلوع ہونے کے آثار تاقیامت میری نس نس میں سمو گۓ ہیں جو میرا اٹاثہ زندگی ہیں میری میراث ہیں بیٹی کو برابری کادرجہ دینا اور تعلیم کو ان کاحق سمجھنا اور وراثت کو بیٹی کا فرض و قرض کا درجہ دینا ۔ نسل در نسل سفر کرتے انمول نگینے ہیں جو میری مضبوطی اور ثابت قدمی کی اساس ہیں اب ڈر لگتا ہے سچ لکھنے سے وقت کے فرعون کے سامنے سینہ سپر ہونے سے کیونکہ میرے طاقت کے محور بازو اور حوصلہ دیتے بول اور سایہ کرتا توانا پیڑ میرا* ابو* اب میرے ساتھ نہی ہے ۔جب بھی مجھے لوگ ملتے ہیں کہتے ہیں ماسٹر کا بیٹا خوشی ہوتی ہے مگر احساس بھی میں تاحال بھی اپنی شناحت نہی بنا سکا یا یوں کہہ لیں میں ابھی تک ان کا سایہ ہی ہوں جسم ان کا ہی ہے ہر سال نیا سال آنے کی خوشی جاتے سال کی غمی میں کم ہو جاتی ہے مجھے خود احتسابی کرنے اور خود کو جانچنے پرکھنے کا موقع دیتی ہے شعور پر دستک دینے ،لا شعور کو جھنجوڑنے ، دل و دماغ کی اضطرابی کیفیت کو پر سکون کرنے اور روحانی طاقت کا ساماں مہیا کرتی ہے نقش پا پر چلنے اور اسی تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش جاری رکھوں گا.
*گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
‏غم چھپا کر میرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے *
میرے والد بزرگوار کے دو اقوال جو مجھے ہمیشہ کہا کرتے تھے ۔ استاد کا ڈاکٹر کا مذہب انسانیت ہوتا ہے اور اوروں کے بچوں کو دل سے پڑھاؤ تاکہ آنے والے کل کوئی تمہارے بچے دل سے پڑھائے ۔میرے دل میں سما چکےہیں یہ جملے اور یہی میری وراثت ہے جو میں نے آگے منتقل کرنی ہے میرا رب استقامت دے یہ فریضہ پوری دیانت داری سے سرانجام دے سکوں ۔ الحمدلللہ ہم نو بہن بھائی ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں دو قرآن حافظ بھی ہیں انجینئر بھی ہیں ٹیچرز بھی ہیں نسل نو نے بھی مایوس نہی کیا اس میں بھی انجینئرز،ڈاکٹرز آگئے ہیں بہت سے جانب منزل گامزن ہیں درخت کی مضبوطی و کشادگی کاپتہ اسکی شاخوں سے اور جڑوں سے لگتا ہے.

*چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو
تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو

جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر
زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو

اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دل نے کچھ ٹُوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو

عمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جُھریاں اتنی
عین ممکن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو

ایسا ہمدرد تِرے بعد کہاں تھا، جس نے
لغزشوں پر بھی مِری کُھل کے حمایت کی ہو

دل شکستہ ہے، کوئی ایسا ہنر مند بتا
جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو

شب کے دامن میں وہی نور بھریں گے
جن چراغوں نے اندھیرے سے بغاوت کی ہو*
محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال

03006821668