سردموسم کی بیماریاں اوربچاؤ
تحریر: اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
سردیوں کا موسم شروع ہےاور اس کے اپنے اثرات ہوتے ہیں۔سردی میں کچھ مسائل بڑھ جاتے ہیں،جو انسان کی تکلیف میں اضافہ کر دیتے ہیں۔سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے گرم کپڑوں اور دیگر لوازمات کی ضرورت پڑتی ہے۔کوٹ،جرسی اور چادر وغیرہ سردی سے بچاؤ کے لیے کام آتے ہیں اور ان کی خریداری اچھا خاصا بجٹ متاثر کر دیتی ہے۔بعض افراد کی قوت خرید بہت ہی کم ہوتی ہے،لیکن سردی ان کو بھی لگتی ہے،اس لیے وہ ہر ممکن کوشش کریں کہ ان لوازمات کو خرید سکیں۔صاحب حیثیت افراد ایسی اشیاء حقداروں کو مفت فراہم کر دیں،تاکہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں۔موسم سرما اپنے ساتھ کئی بیماریاں بھی لاتا ہے۔زکام تو سردیوں کا خاص تحفہ ہےاور اس سے بچنابہت ہی مشکل ہوتا ہے۔بڑے اگر بچ جائیں تو چھوٹے بچے لازمی متاثر ہوتے ہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ زکام سے بچاؤ کے اقدامات کیے جائیں۔زکام کے علاوہ کھانسی،گلے کی خراش وغیرہ جیسی بیماریاں بھی عام ہوتی ہیں۔بعض بیماریاں معمولی ساپرہیز اوراحتیاط کر کےختم ہو جاتی ہیں اور بعض بیماریوں کے لیےکسی ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہو جاتا ہے۔زکام ایک وائرس ہوتا ہے اور بغیر علاج کے ٹھیک ہو جاتا ہے،لیکن اس کے ساتھ اگر دیگر تکالیف ظاہر ہو جائیں تو ڈاکٹر کے پاس ضرور جایا جائے۔مثال کے طور پر بخار یا سر درد اگر شروع ہو جائے تو اس کے لیے میڈیسن کا استعمال کر لیا جائے۔اس کے لیے پیراسیٹامول یا ڈسپرین بھی ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جا سکتی ہے۔کوئی بھی میڈیسن/دوائی استعمال کرتے وقت ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات دوائی ری ایکشن کا سبب بھی بن جاتی ہے۔زکام کا شکار فردگرم پانی میں سفیدےکےپتےڈال کر بھاپ کا دھواں لیں تو کافی امکان ہےکہ زکام سے اس کی جان چھوٹ جائے۔جہاں سفیدے کہ پتے نہ مل سکیں وہاں کسی ماہر کے مشورے سے دیگر پودوں یا درختوں کے پتے بھی ڈالے جا سکتے ہیں۔جلد کے مسائل بھی اس موسم میں بہت ہی بڑھ جاتے ہیں۔جلدی امراض کے ماہرین کے مطابق سردیوں میں ہواکی نمی کا تناسب کم ہو جاتا ہےاوریہ صورتحال جسم کی نمی کو بھی کھینچ لیتی ہے۔جسم میں نمی کی کمی بہت سے جلد ہی امراض بھی پیدا کر دیتی ہے۔چہرے،ہاتھوں اور پاؤں کی جلد کے علاوہ سر کی جلد بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ہونٹ تو اس موسم میں اکثریت کےخشک رہتے ہیں لیکن زیادہ حساس افراد کے ہونٹ پھٹ جاتے ہیں۔پھٹے ہونٹوں کو لپ بام سےمساج کیا جائے۔بالائی سے بھی ہونٹوں پر مساج کیا جا سکتا ہے اور یہ بہترین نسخہ ہے،یہ نسخہ خواتین کے لیے بہت ہی بہتر ثابت ہوتا ہے۔خارش بھی ہو سکتی ہے،ان مسائل سےنپٹنا بہت ہی مشکل نہیں ہوتا،بلکہ آسانی سے نپٹا جا سکتا ہے۔خارش وغیرہ کے علاج کے لیےکسی مستند سے مشورہ کر لیا جائے۔
سردیاں جہاں بڑوں کے لیےمشکلات لاتی ہیں،وہاں چھوٹے بچوں اور کم قوت مدافعت والے افراد کے لیے بھی بے پناہ مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔چھوٹے بچوں کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہوتی ہے،لہذا باقاعدگی سے ماں کا دودھ بچے کو پلایا جائے کیونکہ اس سے زیادہ قیمتی خوراک بچے کے لیے کوئی اور نہیں ہوتی۔اگر مجبوری ہو تو ادویات یا متبادل کے طور پر دوسرے دودھ استعمال کروائے جا سکتے ہیں۔کوشش کی جائے کہ بچے کو سردیوں میں زیادہ دیر بھوکا نہ رکھا جائے۔بچوں کو ماہرین سے مشورہ کر کے انتہائی نگہداشت میں رکھا جائے۔بوڑھے افراد یا وہ افراد جن کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے،ان کے لیے بھی خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس جیسے افراد تھکاوٹ،سستی،بخار وغیرہ کا اکثر شکار رہتے ہیں۔ان کو ایسی غذا استعمال کرنی چاہیے جو ماہرین ان کے لیے تجویز کریں۔ایک بات کا خیال رہےکہ کوئی بھی دوائی بغیر مشورے کے استعمال نہ کی جائے۔وہ بچے جو چل پھر سکتے ہیں،ان کو طاقت بخش غذائیں استعمال کرانی چاہیے۔اس موسم میں دھوپ کی ضرورت ہوتی ہےاور انسانی جسم کا تقاضا بھی ہوتا ہے کہ اس کو دھوپ میں رکھا جائے۔دھوپ سے وٹامن ڈی کی کمی پوری ہوتی ہے،لہذا اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بچے ہوں یا بڑے یا بوڑھے،کچھ دیر کے لیے لازما دھوپ میں بیٹھیں۔دھوپ قدرت کا عطیہ ہے اور فری میں دستیاب ہے،لہذا اس عنایت سے فائدہ اٹھایا جائے۔
سردیوں میں بیماریاں زیادہ موسمی ہوتی ہیں اورموسمی اثرات کی وجہ سے انسان بیمار ہو جاتے ہیں۔زکام کھانسی وغیرہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سےانسانی جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں،اگر موسم کی سختی کا مناسب طور پر مقابلہ کر لیا جائےتو ان بیماریوں اور تکالیف سے بچا جا سکتا ہے۔ان بیماریوں سے بچنے کے لیےصاف رہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔چھوٹے بچوں کے لیے تو صفائی انتہائی ضروری ہو جاتی ہے،ان کے کمروں اور بستروں کو ہر وقت صاف رکھا جائے۔بڑے افراد بھی نہانے کی عادت کو اپنائیں اور صاف ستھرا لباس پہنیں،اس طرح وہ اپنے جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔سردیوں میں گرم پانی سے نہانا ضروری ہو جاتا ہے لیکن زیادہ گرم پانی سےنہانا ماہرین بھی منع کرتے ہیں،لہذا نہاتے وقت گرم پانی کی بجائے ہلکا گرم پانی استعمال کیا جائے۔کمرے میں ہیٹر کی ضرورت نہ ہو تو اس سے بھی اجتناب کرنا ضروری ہے۔ہیٹر کا زیادہ استعمال بھی انسانی جلد کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔دمے سے متاثر افراد گرم معتدل چیزیں خوراک میں استعمال کریں،کیونکہ دمہ کہ مریضوں کے لیے سرد موسم بہت ہی خوفناک ہوتا ہے۔سردی میں سمجھ لیاجاتا ہے کہ زیادہ پانی پینا نقصان دہ ہے،حالانکہ سردیوں میں بھی زیادہ پانی پینا ضرور چاہیے۔بزرگوں کو تو ہر حال میں پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے،کیونکہ ان کے جسموں کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض افراد اس لیے بھی پانی کا کم استعمال کر دیتے ہیں کہ رات کو پیشاب کرنا ان کے لیے مشکل ہوتاہے،لیکن زیادہ پیشاب آنے کی کئی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں،لہذا پیشاب کے ڈر سے پانی کا استعمال چھوڑا نہ جائے۔اگر زیادہ ضروری نہ ہو تو سفر سے بھی گریز کیا جائے۔
درج بالامضمون میں ماہرین کےمشوروں سے مواد اکٹھا کیا گیا ہے۔اگر کوئی زیادہ بیمار ہے،تو اس کو لازما ڈاکٹر کے پاس بھیجاجائے۔عطائی ڈاکٹروں سے بچنے کی کوشش کی جائے،متعلقہ بیماری کے سپیشلسٹ سےرابطہ کیا جائے۔کئی مریض ایسے ہوتے ہیں،جو مستقل بیمار رہتے ہیں یا کئی ایسے مریض ہیں جو بلڈ پریشر،شوگر،دل،پھیپھڑوں یا دیگر بیماریوں کےمستقل شکار رہتےہیں،ان کوخصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کسی مریض کے لیے ڈاکٹر نے مستقل دوائی تجویز کر دی ہے تو اس کو کسی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہیے،کیونکہ ایساعمل اس کی جان کے لیے ضروری ہے۔سردیوں میں جسم کو توانا اور چست رکھنے کے لیےباقاعدگی سے ورزش کی جائےیا کوئی کھیل کھیل لیا جائے۔اگر کسی کا جسم ورزش یا کھیل کی مشقت برداشت نہیں کر سکتا تو لازما ہلکی پھلکی واک کر لینی چاہیے۔












