حکمرانوں کی تنخواہ میں اضافہ
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں غربت اورمہنگائی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔مہنگائی میں اضافہ پاکستانی عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے،لیکن مجبوری کی حالت میں برداشت کیا جا رہا ہے۔بجلی مفت فراہم کرنے کے دعوےکرنے والےبجلی کو مہنگا کر رہے ہیں.مہنگائی نے عام آدمی کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ایک طرف غربت اور منگائی نے عام آدمی کی زندگی قابل رحم بنا دی ہے،تو دوسری طرف حکمران طبقہ اپنی مراعات میں اضافہ کر رہا ہے۔پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ کر کےعوام کو کیاپیغام دیا جا رہا ہے؟اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ پچیس ہزار سے بڑھ کر نو لاکھ پچاس ہزار تک کر دی گئی ہےاور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ بیس ہزار سے بڑھ کر سات لاکھ پچھتر ہزار تک ہو چکی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ پچاسی ہزار سے بڑھا کر چارلاکھ اکاون ہزار روپےتک کر دی گئی ہے۔ممبران اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر چھ لاکھ پینسٹھ ہزار روپے تک کر دی گئی ہے۔صدر اور دوسرےاراکین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔صوبائی حکومت کے مشیروں کی تنخواہ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ پہلے کیا مراعات کم تھیں،جو اب اضافہ کر دیا گیا ہے۔کیا سیاست دان اب کرپشن نہیں کریں گے؟اب ان کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی؟اب ملک میں خوشحالی کا دور چلنا شروع ہو جائے گا؟مہنگائی کنٹرول میں ہو جائے گی؟بجلی سستی ہو جائے گی؟تو اس کا واضح جواب “نہیں”ہوگا۔عام مزدور کی تنخواہ سینتیس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔سینتیس ہزار کے مقابلے میں لاکھوں روپے کی تنخواہ بڑھائی گئی ہے۔سینتیس ہزار روپے بھی خوش قسمتوں کو ہی ملتے ہیں،کئی بیچارےاتنی تنخواہ کے لیے بھی ترستے ہیں۔تنخواہ کا اوسط پاکستان میں بیس سے پچیس ہزار تک چل رہا ہے۔دیہاڑی دار مزدور بہت ہی پریشان ہیں،کیونکہ مہنگائی کی وجہ سےبےروزگاری بڑھ گئی ہے،اس لیےدیہاڑی داروں کو روزانہ کے حساب سے روزگار نہیں ملتا۔اگر مل بھی جائےتو دیہاڑی(اجرت)کم ملتی ہے۔حکمرانوں کو پہلے بھی بہت ہی مراعات اور سہولتیں ملی ہوئی ہیں.مسئلہ عام آدمی کا ہے،عام آدمی کدھر جائے گا؟عام آدمی کی پریشانیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔بیچاری عوام اس آس پہ جی رہی ہے کہ کبھی تو حالات سدھریں گے۔لاکھوں روپےکی اضافی رقم بھی ان کے لیے کم ہوگی،کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آسان زندگی گزارنا ان کا حق ہے۔
اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کیا غربت کی وجہ سے کیا گیا ہے؟اس کا جواب بھی “نہیں” ہے۔کوئی رکن اسمبلی غریب نہیں ہوتا بلکہ ان کے اثاثہ جات بہت ہوتے ہیں۔کاروبار بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان کی آمدنی بھی بے شمار ہوتی ہے۔ان کی مراعات میں اضافہ کرنا عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اتنا زیادہ اضافہ اس لیے بھی کیا گیا ہےکہ تھوڑی تھوڑی اگرتنخواہ بڑھائی جاتی تو عوامی سطح پرتنقید ہوتی،ایک باربڑا اضافہ کر کےبڑی تنقید برداشت کی جائے۔ملک کی معیشت قرض پر چل رہی ہے۔ادارے بیچے جا رہے ہیں۔مہنگائی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی،صرف مہنگائی کم ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ عام آدمی کو ریلیف مہیا کیا جاتا،لیکن حکمرانوں نے اپنے مفاد کے بارے میں سوچا۔یہ درست ہے کہ ہر فرد اپنے مفاد کے لیے سوچتا ہے لیکن سیاستدان وعدے کرتے ہیں کہ عوام کے لیےآسانیاں مہیا کریں گے۔سیاست دانوں کے وعدوں اور دعووں پر عوام کو پہلے بھی اعتبار نہیں ہوتا،اس طرح کے اعمال ان کی بےاعتباری میں اضافہ کرتے ہیں۔
یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ کہاں سے پورا کیا جائے گا؟یہ اضافہ کوئی معمولی نہیں بلکہ اگر ان کاٹوٹل کیا جائے تو بہت ہی بڑا اضافہ ہے۔ماہر معیشت ڈاکٹرقیس اسلم کہتے ہیں کہ وفاقی بجٹ میں صوبوں کو جو ادائیگیاں کی گئی ہوں گی،اس میں ہر شعبے کے لیے الگ الگ پیسے رکھے ہوں گے۔اب جو اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں ایک دم بڑا اضافہ کیا گیا ہے،تو کسی دوسرے مد سے یا کسی دوسرے شعبے میں سےنکالے گئے ہوں گے۔ان کے بقول تعلیم، صحت،پانی،بنیادی سہولتوں یا دوسرےشعبے کی بجٹ سے کٹوتی کر کے اراکین اسمبلی کوادائیگی کی گئی ہے۔ان کٹوتیوں کا اثر عوام پر پڑے گا۔پہلے بھی تعلیم،صحت، پانی اور دیگر ضروری سہولیات بڑے بحرانوں کا شکار ہیں۔ان شعبوں میں مزید کٹوتیاں بجٹ کو بہت ہی متاثر کر دیں گی۔پاکستان میں ہر شعبہ بدترحالت میں ہے۔کئی ادارے خسارے کا شکار ہیں اور یہ خسارہ مجبور کر رہا ہے کہ ان کو بیچ دیا جائے۔صحت اور تعلیم کا مسئلہ بہت ہی بڑھ چکا ہے،اگر ان شعبوں کے بجٹ میں کٹوتی کر دی گئی تو بحران شدید تر ہو جائے گا۔صحت کا مسئلہ دیہاتوں سے لے کر شہروں تک پھیلا ہوا ہے،اسی طرح تعلیم کا مسئلہ بھی ہر جگہ پھیلا ہوا ہے،دیگر شعبے بھی کئی قسم کے مسائل کا شکار ہیں،اگر کسی ایک شعبے یا مختلف شعبوں سےکٹوتی کی گئی توعوام شدید متاثر ہو جائے گی۔عوام کے لیے دیگر مسائل بھی آنےوالےوقتوں میں مزید بڑھیں گے۔ان مسائل سے نپٹنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ظاہر بات ہےبجٹ میں کٹوتیاں کی جائیں گی اور اس کا اثر بجٹ پر بھی پڑے گا۔
کسی بھی شعبہ کو دیکھا جائے توہر شعبہ زوال پذیری کا شکار ہو رہا ہے۔زراعت کا حال بہت ہی بدتر ہو چکا ہے،انڈسٹریزتباہی کے خدشےسےدوچار ہو چکی ہیں،ان کی طرف توجہ دی جائے،تاکہ غربت میں کمی ہو سکے۔روپے کی گرتی ویلیو بھی مسائل میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے،اس کی طرف سنجیدگی سےتوجہ دینی ہوگی۔آئی۔ایم۔ ایف کےچنگل سے نکلنے کے لیے کوششیں کرنا ہو گی،صرف یہ دعوی کافی نہیں کہ آئندہ آئی۔ ایم۔ایف سے قرضہ نہیں لیا جائے گا۔آئی۔ایم۔ایف یا دیگر ذرائع سے حاصل کیاگیا قرضہ بہتر منصوبوں پر لگایا جائے۔حکمران قرضہ تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن وہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں۔تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے،لیکن عوام کا حال بھی پوچھ لیا جائے کہ کیسے جی رہی ہے؟ہمارے یا کسی کے کہنے سےانہوں نے تنخواہ میں اضافہ کب واپس لینا ہے،لیکن کم از کم اتنا خیال رکھیں کہ جس عوام نے آپ کو اسمبلیوں میں پہنچایا ہے وہ نوالے،نوالے کو ترس رہے ہیں۔اگر آپ تنخواہوں میں ایک کروڑ تک بھی اضافہ کر لیں،تو کون آپ سے پوچھ سکتا ہے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟اس بات کا خیال رہےکہ آپ نےآخر کار عوام کے سامنےآنا ہی ہے۔عوام کو بھی ریلیف ملنا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی زندگیوں میں کچھ آسانیاں پیدا کر سکیں۔عوام کووہ سہولیات ملنی چاہیے جو ان کا حق ہے،کم از کم اتنا تو کرنا چاہیے کہ ان کو محسوس ہو کہ ان کی بہتری کے لیے کچھ کیا جا رہا ہے۔عوام صرف ٹیکس دینے کے لیے نہیں ہے،بلکہ سہولیات کی بھی حقدار ہے۔










