سچے_اور_کھرے_بندے_اب_کہاں_ملتے
تحریر میاں مبشر نور کمیانہ
۔۔۔
میرے( نانا جی ) ۔ میاں ( محمد یعقوب ) ولد امیر ولد رحمان کمیانہ۔
ملازمت { نہری پٹواری }۔ سروس تحصیل رینالہ خورد۔ ضلع اوکاڑہ۔
وہ آج کے دن 12 سال قبل 2 جنوی 2012 ( CMH Lahore ) سی ایم ایچ ہسپتال لاہور میں وفات پا گئے تھے۔
میری ابتدائی تعلیم اور بچپن نانا جی کے ہاں گزرا تھا۔۔۔
اُن سے جدائی کا غم آج بھی تازہ ہے۔۔۔ اُنکی وفات کا غم آج بھی ناصرف مجھے بلکہ میرے گھر والوں اور میرے خاندان کو رُلا دیتا ہے ۔۔۔ ایسے لگتا جیسے وہ گزشتہ روز وفات پائے۔۔۔ 😭😰😢
اُنکی وفات میرے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔۔۔ جسے ہم آج بھی بھُلا نہیں پائے۔۔۔ 😰😢 وہ ایک سچا اور کھرا بندہ تھا۔ زندگی میں کبھی کسی کو گزند نہیں پہنچایا۔
ہماری کمیانہ فیملی اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، فیصل آباد جہاں کہیں بھی آباد ہے وہ وہاں ہر جگہ ہر خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے۔ ہماری برادری کے بڑے بڑے نامور لوگ بھی میرے نانا جی کو اپنے گاؤں دیہاتوں میں پنچایت اور تھانے کچہریوں کے فیصلوں میں ساتھ لے جاتے اور مشورہ کرتے تھے۔
ضمنی و بلدیاتی الیکشن کے دنوں میں اوکاڑہ، رینالہ خورد اور چوچک روڈ، بامہ بالا کے بڑے بڑے سیاستدان بھی میرے نانا جی کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے اُن کی مدد لیتے تھے۔
وہ سرکاری ملازمت کے دوران اور ریٹائرمنٹ لینے کے بعد بھی سائلین کے کام اور ان کی مدد اللہ کی رضا کی خاطر کرتے تھے۔ کبھی کسی سے ایک روپیہ کی بھی کرپشن اور رشوت کا سوچا بھی نہیں۔
بے نظیر کے دور میں گورنمنٹ کی جانب سے سٹی رینالہ خورد شہر میں گھر بنانے کے لیے غرباء میں زمین، پلاٹ تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی انہوں نے وہ پلاٹ مستحق افراد میں پوری ذمہ داری کے ساتھ تقسیم کیے۔
۔۔۔
{ میرے نانا کی 6 بیٹیاں اور ساتواں اکلوتا بیٹا ہے۔ انکو کسی نے مشورہ دیا کہ کچھ پلاٹ اپنی بیٹیوں کے لیے رکھ لو یا کچھ پلاٹوں پر قبضہ کر لو اور ہمارے نام کروا دو۔ میرے نانا جی نے ایسا غلط کام ہرگز نا کیا } ۔
الحمدللہ۔۔۔ وہ زمیندار تھے۔ اپنی زمینیں، جانور اور نوکر چاکر سب کچھ تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی زمین میں “کیکر” کے درختوں کا “جنگل” اُگایا ہوا تھا۔ وہ بھی اس نیت سے کہ اپنی 6 بیٹیوں کی شادی کے وقت انہی درختوں کو کاٹ کر ان سے فرنیچر بنا لونگا ناکہ گورنمنٹ کے درخت چوری کر کے جہیز کا فرنیچر تیار کرانا۔ اور گاؤں میں اگر کسی غریب شخص کی بیٹی کا جہیز بنانا ہوتا تو وہ بھی میرے نانا جی سے مفت کیکر کا درخت کٹوا کر لے جاتے تھے۔
وہ “نہری پٹواری” تھے۔ سب کچھ کر سکتے تھے لیکن اپنی اولاد کو حرام کی کمائی دے کر جانے کی بجائے حلال کی کمائی سے کھلایا اور بڑا کیا اور اُنکی شادیاں کی۔
۔۔۔
گاؤں “4/GD غلام رسول والا” اور گاؤں “موضع کماں” اُن کی اپنی زمینیں تھی۔ کمیانہ فیملی میں اُن کا ایک رعب اور نام تھا۔ تاہم انہوں نے زندگی میں کوئی ایسا غلط قدم نہیں اٹھایا جس سے اللہ و رسول کی ناراضگی پیدا ہو۔
انہوں نے رینالہ شہر میں اپنے ذاتی مکان میں اپنی تنخواہ سے اپنے 7 بچوں کو تعلیم دلائی اور انکی شادیاں بھی کیں۔
۔۔۔
الحمدللہ۔۔۔ اُنہوں نے ایک خوبصورت زندگی گزاری۔ اللہ کا دیا بہت کچھ تھا۔ کبھی زندگی میں کسی بھی غیر ضروری شے کی لالچ تمنا نہیں رکھی اور نا اپنی اولاد کو کبھی کسی غلط سوچ اور غلط شوق کی بھینٹ چڑھنے دیا۔
وہ پانچ وقت نماز ادا کرتے تھے اور عُـمرہ بھی ادا کر چُـکے تھے۔ حـج ادا کرنے کی تیاری کی ہوئی تھی کہ اللہ نے اپنے پاس بُـلا لیا۔
>>>>>> ایک دلچسپ واقعہ <<<<<<
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ( ستگھرہ ) رینالہ خورد کا نواحی علاقہ سے ایک اجنبی شخص جو کہ اپنے مالک کے کہنے پر کوئی زمین نام لگوانے کے کاغذات اٹھا لایا۔ جن پر صرف دستخط کرنا تھے اور زمین مالک کو منتقل ہو جانا تھی۔ میرے نانا جی نے سارے کاغذات کو پڑھنے کے بعد چُپکے سے دستخط کر دئیے۔
وہ اجنبی بندہ حیران پریشان ہو کر رہ گیا کہ اُسکے بقول کافی سالوں سے اُنکا یہ کام کوئی بھی تھانیدار، ڈی سی، نمبردار یا کوئی بھی پٹواری نہیں کر رہاتھا۔ وہ جہاں بھی جاتا تھا لاکھوں روپے رشوت کی ڈیمانڈ کی جاتی تھی۔ وہی کام اس بندے نے کچھ مانگے بنا ہی دستخط کر کے ہماری بہت بڑی پریشانی حل کر دی۔
وہ بندہ خوشی خوشی اپنے مالک کے پاس گیا تو اُسکا مالک یہ سُن کر حیران ہو گیا تو اُسی لمحے دونوں واپس میرے نانا جی کے پاس آ گئے۔
اللہ کی قدرت دیکھو کہ وہ بندہ { ریٹائرڈ فوجی صوبیدار } میرے نانا جی کا کلاس فیلو نکلا۔ 1965 میں دونوں نے اکٹھے میٹرک تک پڑھا تھا۔ وہ فوجی بھرتی ہو گیا تھا۔ مدتوں بعد ملاقات نصیب ہوئی۔ جب اچانک ایک دوسرے کو دیکھا تو گلے مل کر دونوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
۔۔۔
خیر۔۔۔ ایک دن انسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ تو امر ربی ہے۔۔۔ سب نے اللہ کے پاس واپس چلے جانا ہے۔۔۔ لیکن حقیقی انسان وہی ہے جس کے جگر میں انسانیت کا دکھ درد پنہاں ہو۔۔۔ جو انسانوں کے کام آتا ہو، جو انسانوں کی مشکلیں آسان کرتا ہو۔ حقیقی انسان وہی ہے۔
مبشر نور کمیانہ۔










