نیکی اوربھلائی

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

قرآن حکیم میں ارشاد ہے”نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو،بے شک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے”(سورة المائدہ)نیکی اور بھلائی کے کام اللہ تعالی کو بہت ہی پسند ہیں اور انسانوں کو بھی حکم دیا ہےکہ پرہیزگاری اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کیا جائےاور برائی کے کاموں میں تعاون نہیں کرنا چاہیے۔نیکی یا نیک کام معاشرے کا حسن ہیں۔بہترین اور مثالی معاشرے میں رہنے والے افرادایک دوسرے سے مثالی تعلقات رکھتے ہیں اور تعاون بھی کرتے رہتے ہیں۔نیکی اور بھلائی کرنا نیز گناہ اور زیادتی سے رکنا،ایک اچھے فرد کا وطیرہ ہوتا ہے۔گناہ سے نفرت کرنا بھی نیکی کہلاتا ہے۔نیکی اور برائی واضح ہیں اورایک اچھا انسان واضح طور پر سمجھ لیتا ہےکہ نیکی کیا ہے اور برائی کیا ہے؟ایک حدیث کے مطابق حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا”نیکی حسن اخلاق ہےاور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو”(ترمذی)اس حدیث سے نیکی اور برائی کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے کہ ایسے اعمال یاباتیں جومعاشرے میں عیب ناک تصور کی جائیں،وہ برائی اور گناہ ہیں۔جو باتیں معاشرے میں پسند کی جائیں وہ نیکی اور اچھائی ہیں۔نیکی سےجہاں معاشرے کو راحت ملتی ہے وہاں انسان کا اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے،کیونکہ اس کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جا رہی ہوتی ہیں اور دنیا میں بھی اس کا دل تسکین پاتا ہے۔سوشل ورکنگ،سماجی خدمات،کسی کے مسائل کو دور کرنا،یہ سب نیکی کے کام ہیں۔اس طرح کے کاموں میں اللہ تعالی نے تعاون کرنے کا حکم دیا ہے۔جن باتوں سے معاشرے میں بے چینی پھیلے یا کسی کو تکلیف محسوس ہو،تو یہ برائی کہلائی جائےگی اور ان اعمال میں تعاون کرنے سے منع کیا گیا ہے۔اسلام نے نیکی اور برائی کا معیار اچھی طرح سمجھا دیا ہے۔قرآن میں درگزر کرنے کو بھی نیکی کہا گیا ہے،نیز دوسروں کو بھلائی کا حکم دینا بھی نیکی ہے۔”آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمانااختیار کریں اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنار کشی اختیار کر لیں”(الاعراف)
نیکی صرف یہ نہیں کہ خود نیکی کی جائے،بلکہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنا بھی نیکی کا کام ہےاور کچھ خرچ کیے بغیر بہت اجر حاصل ہو جاتا ہے۔ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں،ایک شخص اللہ کے نبی کے پاس آیا اور کہنے لگا”میری سواری کا جانور ہلاک ہو چکا ہے لہذا مجھے سواری کے لیے ایک جانور عطا کیجیے”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”میرے پاس جانور نہیں ہے”اتنے میں ایک شخص نے کہا”اے اللہ کے رسول!میں اسے ایک شخص کے بارے میں بتا سکتا ہوں جو اسے سواری کے لیے جانور دے دے”چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جس نے نیکی کی طرف رہنمائی کی تو اس کو اس نیکی کا کام کرنے والے کے برابر اجر ملے گا”(صحیح مسلم)اس حدیث سے یہ علم ہوتا ہے کہ کہ کسی مصیبت زدہ شخص کو یہ بتا دیا جائے کہ آپ کی مصیبت یا تکلیف فلاں شخص دور کر سکتا ہے یا اس طرح کرنے سے آپ پریشانی سے نجات پا سکتے ہیں،تویہ بھی نیکی کا عمل ہے۔معاشرے میں ایسے افراد بھی نظرآ جاتے ہیں جو دوسروں کی تکالیف پر کڑھتے ہیں اور ان کو ہر ممکن حد تک حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اس قسم کے افراد معاشرے کا حسن ہوتے ہیں۔ایک فردمعاشرے کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے،تو اس کا ساتھ دیا جائےلیکن اگر ایک فرد معاشرے میں برائی پھیلا رہا ہے،تو اس کو روکا بھی جائے اور اس کا ساتھ بھی نہ دیا جائے۔مثال کے طور پر ایک فرد تعلیم دینےکے لیے ایک مدرسہ یا سکول تعمیر کر رہا ہے،تو اس کےساتھ تعاون کیا جائے،اگر ایک فرد جوا،شراب یا کوئی دوسری برائی پھیلا رہا ہےتو اس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے بلکہ اس کو روکا جائے۔کسی کو ظلم کرتے ہوئے روک دینا بھی نیکی ہے،کسی بیمار کا علاج کرنا یا عیادت کرنا بھی نیکی ہے،راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادینا بھی نیکی(صدقہ)ہے،حسن اخلاق سے پیش آنابھی نیکی ہے۔جھوٹی گواہی سے اجتناب کرنا بھی نیکی ہےاور سچی شہادت نیکی کہلاتی ہے۔پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا،بیواؤں اور یتیموں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھنا،بھی نیکی کے اعمال ہیں۔غصہ نہ کرنا بھی نیکی کہلاتا ہے۔حدیث کے مطابق ایک شخص نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نیک عمل کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کرو۔بار بار فرمایا کہ غصہ نہ کرو۔حق کی بات بتانا بھی نیکی ہے۔نیکی بہت ہی وسیع مفہوم رکھتی ہےاور اس کو سر انجام دینے والےدین و دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔
اگر آپ زیادہ نیکیاں نہیں کر سکتے تو کم از کم کچھ نہ کچھ تو حصہ ڈالنا ہی چاہیے۔راقم نےایک دفعہ ایک گاڑی دیکھی اور گاڑی پر سوار کچھ افرادلوگوں میں کچھ تقسیم کر رہے تھے۔وہ ایک ایک پارسل ہر کسی کو دے رہے تھےاور بلا تفریق ہر ایک کو دے رہے تھے۔راقم نے ان پارسلوں میں دیکھا کہ ان پارسلوں میں بریانی تھی اورہرپارسل کےاندرایک چٹ لکھی ہوئی تھی کہ “آج کے دن آپ کسی کے ساتھ کوئی بھی ایک نیکی کر لیں”یہ تحریردل کو چھو گئی،یہ ایک بہت بڑا درس تھا،جس سے لوگوں کونیکی کی طرف ترغیب دی گئی تھی۔لازمی بات نہیں کہ کوئی کھانے پینے کی چیز تقسیم کی جائے،بلکہ کوئی سی بھی نیکی کی جا سکتی ہے۔ارادہ کر لینا چاہیےکہ ہر وقت ہر کسی کے ساتھ نیکی کی جائے،اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو کم از کم روزانہ کے حساب سے ایک نیکی کی جائے،اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو کم از کم ایک مہینے میں تو لازما نیکی کر لینی چاہیے۔بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ نماز،روزہ یا دیگر عبادات ہی نیکی ہیں،یہ نیکی کے کام ضرور ہیں لیکن حقوق العباد کی بھی خاص اہمیت ہے۔اگر برائی سے بھی خود کو روک لیا جائے تو یہ بھی نیکی ہوگی۔
نیکی انسانوں کے علاوہ جانوروں کےساتھ بھی کی جانی چاہیے کیونکہ اللہ تعالی اس کا بھی اجر عطا کرتا ہے۔انسانوں کے علاوہ جانوروں پربھی ظلم کرنا بھی برائی اور جرم ہے۔اسلام نے انسانوں اور جانوروں سے شفقت کرنے کا حکم دیا ہے۔ایک حدیث کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔اس عورت نے اس بلی کو(کسی جگہ)بند کر دیا تھا یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی۔وہ عورت اس کی وجہ سے دوزخ میں داخل کی گئی”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا(اللہ تعالی اس سے فرمائے گا)اللہ خوب جانتا ہے کہ جب تو نے اسے باندھا تو تو نے نہ اسے کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ (خود)زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی”(بخاری_مسلم)یعنی اس وجہ سےعذاب کی حقدار ٹھہری کہ اس کی وجہ سے بلی مری۔شفقت کا انعام بھی ملتا ہے،ایک حدیث کے مطابق،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا”ایک کتا کسی کنویں کے گرد گھوم رہا تھا قریب تھا کہ وہ پیاس سے مر جائے،اچانک اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا،اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے پانی نکال کر کتے کو پلایا، اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی گئی”(بخاری)نیکی کے صرف یہی کام نہیں ہیں،جن کا ذکر کالم میں کیا گیا ہے بلکہ دیگر ڈھیروں افعال ہیں،جن کو نیکی کہا جاتا ہے۔مزید بحث کالم کی طوالت کا سبب بن جائے گی۔عہد کر لینا چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کی جائےکہ نیکی کو فروغ حاصل ہو۔