عنوان ڈیڑھ ارب تماشائی

تحریر سدرہ بنت منور

جب سے صہانی بربریت شروع ہوئی ہے ایک عجیب سی کیفیت ہے درد تکلیف بے بسی ہے خواب میں شیشے کے جیسے چمکتے چہرے والے بچوں کی لاشیں مجھے جھنجوڑتی ہے اور پوچھتے ہیں کہ اگر میں تمہارا بچہ ہوتا تو کیا تم ایسے ہی سکون سے سوتے۔ احساس شرمندگی سے آنکھ کھلتی ہے تو دھیان جاتا ہے فلسطین کی ان ماؤں اور بہنوں کی طرف جو کرب اور تکلیف سے گزرتی ہوئی بہادری کا مجسم بنے اپنے شہیدوں کو رخصت کرتے ہوئے بغور ڈیڑھ ارب تماشائیوں کو دیکھتی ہیں اور سوچتی ہوں گی کہ اب تک تو قصہ مشہور تھا یوسف کے بھائیوں کا مگر اُن 10 سے زیادہ ظالم یہ 52 بھائی ہے۔
غزہ سے پرواز کرتی شہداء کی روحیں سوال کرتی ہوں گی اے عالم اسلام کس منہ سے رب کعبہ کے حضور پیش ہو گئے ۔ پھول سے چہرے والے ہستے مسکراتے بچے جب یہودی فوج کی بمباری سے مسمار ہوتی ہے عمارتوں کے نیچے دب کے ابدی نیند سو جاتے ہیں تو ان لاشوں کو اٹھانے والے ہاتھ کیسے لرزتے ہوں گے اس قیامت خیز منظر کو دیکھنے والی آنکھیں کہاں سے اتنی سکت لاتی ہوں گے ۔۔اپنے جذبات کی صحیح ترجمانی کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں اور نہ میرے اندر وہ ہمت کہ میں اس تباہی کی منظر کشی کر سکو جو اس وقت غزہ میں ہو رہی ہے
میں سوچتی ہوں کہ امت مسلمہ کے حکمران اتنے بے حس اور سخت دل ہو گئے ہیں کہ ان کے دلوں پر ان چیختی ہوئی ماؤں بہنوں روز مرتے بچوں اور جوانوں کے اٹھتے جنازے غزہ کی سڑکوں پر بے گورو کفن بڑی لاشیں دیکھ کے بھی کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اس وقت امت مسلمہ بغیرتی کی انتہا کو چھو رہی ہے جو اپنی مدہوشی اپنی عیاشی اور دنیا پرستی میں مبتلا ہے انہیں اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے اور درست بات یہ ہی ہے اج عربوں عجم بغیرتی کی معراج پر پہنچ چکے ہیں۔ اج غیر تو فلسطینیوں کے لیے اواز اٹھا رہے ہیں مگر امت مسلمہ کی زبانوں پر پڑے قفل زنگ آلود ہو چکے ۔ جو کسی طور کھلنے کا نام نہیں لے رہے۔
52 تماشائیوں میں ایک ملک ایسا بھی ہے سنا ہے اس کے پاس ایٹم بم ہے ۔ شاہین ہیں غوری ہے ایف 16 ہے
دنیا کی بہترین ایئر فورس اور دنیا کی بہترین آرمی اس ملک کے پاس ہے جی بالکل اپ ٹھیک سمجھے یہ میرا پیارا دیس پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا
ان سب میں سے کسی بھی ہتھیار کو ہم نے کبھی استعمال ہوتے نہیں دیکھا صرف سنا ہے ۔
مگر جو دیکھا ہے وہ بالکل مختلف ہے فلسطین کے اس بھائی کے بالکل ساتھ والا گھر ہے جس کو یہ اپنی شہ رگ کہتے ہے۔ اس گھر پر بدمعاشوں کا قبضہ ہے ۔اس گھر
۔ میں ماؤں بہنوں کی عزتیں لٹتی ہیں جوانوں کی لاشیں گرتی ہیں گھر اجڑتے ہیں مگر ہم نے اپنے ہتھیاروں کو ہوا تک نہ لگوائی یوم دفاع کی تقریب کے لیے اپنے ہتھیاروں کو نکال کے دھوپ لگواتے ہیں اور واپس اسی صندوق میں بند کر کے رکھ دیتے ہیں جہاں سے ہم نے وہ مزائل نکالے ہوتے ہیں سمجھا کریں وہ چلانے کے لیے تھوڑی ہیں وہ صرف بتانے کے لیے اور دکھانے کے لیے ہے ۔اگر مملکت خداداد کے با شندوں کی بات کریں تو بہت غیور ہے یہ لوگ ان کے پسندیدہ لیڈر پر بات ائے تو ملک کی اینٹ سے اینٹ بچا دیتے ہیں ۔۔راستے بند کاروبار بند سکول کالج بند ٹریفک بند مگر جب بات ائے فلسطینیوں کی تو صرف زبانیں بند ہوتی ہیں باقی سب کچھ کھلا ہے ۔مگر ہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں تماشائی جو ہیں بیٹھ کے تماشہ صحیح سے نظر نہ آئے تو کھڑے ہو کے دیکھ لیں گے اس لیے ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ بات ہمارے سپہ سالار بھی کہتے ہیں اور ہمارے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے مداری بھی۔۔ صد افسوس کس کس کا ماتم کروں میرا قلم کمزور میرے الفاظ گونگے ۔۔۔
غزہ میں ادویات پانی اور ضرورتیں زندگی کی تمام چیزیں لے جانا پر پابندی عائد ہے ہر طرف سے راستے بند مگر یہود کے لیے راستے کھلے ہیں وہ جس راستے سے چاہیں فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے ہتھیار لے کے جا سکتے ہیں ۔کیونکہ اردن اسرائیل کو وہ راستہ فراہم کر رہا ہے ۔۔
کیا ہم واقعی زندہ ہیں یا پھر ڈیڑھ ارب چلتی پھرتی بے ضمیر لاشیں ہیں ؟
یہ مٹھی بھر یہود اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ ان کو 52 اسلامی ملک قابو نہ کر سکے
یہ ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور دنیا کی ہوس ہے
کہ وہ جہاد کا راستہ بھول چکے ہیں ۔اج بھی اگر راہ حق میں تلوار اٹھاؤ ہتھیار اٹھاؤ تو اللہ سبحانہ و تعالی مدد فرماتے ہیں ۔۔۔
اس کی زندہ مثال ہمارے سامنے افغانستان ہے ۔کیسے وقت کی سپر پاور کو جدید ترین ٹیکنالوجی کو دنیا کی بہترین انٹیلیجنس ایجنسی کو وہ بوسیدہ ہتھیاروں سے اور ایمان کی طاقت سے شکست دے کے دنیا کو بتا دیا کہ اگر آج بھی غیرت مسلم جاگ جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کوریزہ ریزہ کر سکتے ہیں ۔۔۔
. . . . . . کافر ہو تو کرتا ہے شمشیر پہ بھروسہ
. . . . مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

مگر امت مسلمہ میں
غیرت ہمت بہادری شرم خودداری امت کا درد وہ بھائی چارہ کچھ بھی تو باقی نہیں ہے ۔باقی ہے تو صرف مفاد پرستی دنیا کی ہوس کرسی کی چاہت عیاشی اور اپنے اپنے اکاؤنٹس بھرنے کی فکر،52 اسلامی ملکوں میں کوئی ایک بھی ایسا غیرت مند حکمران نہیں جو یہود و نصاری کو للکار سکے ۔۔فلسطینیوں کے لیے نہیں غزہ کے معصوم بچوں کے لیے نہیں بیت المقدس کی حرمت کے لیے ہی ایک ہو جاے۔
عرب سے لے کے عجم تک سب ایک ہی ڈگر پر ہے
وہ عربوں کی غیرت ہو یا ترکوں کی بہادری سب قصہ پارینہ ہوے ۔۔۔ انسانی حقوق کے تمام علمبردار سو گیے ۔۔۔امریکہ کی اس ناجائز اولاد کو تمام عالمی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔۔اگر کوئی مسلمان کسی کتے کو پتھر مار دے تو یہ انسانی حقوق کے علمبردار طوفان مچا دیتے ہیں ۔۔۔مگر غزہ میں ہونے والے مظالم ان کو نظر نہیں آرہے ۔۔۔میڈیا عالمی ادارے سب اسرائیل کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ۔۔۔آزادی اظہار رائے کا نعرہ بلند کرنے والے سوشل میڈیا پر اسرائیل کے خلاف آنے والی ہر پوسٹ کو ڈیلیٹ کر رہے ہیں اور ایسے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کر رہے ہیں جو مظلوم کی آواز بن رہے ہیں ۔۔یہ ہے ان عالمی اداروں اور مغرب کا اصل چہرہ فرانس میں اسرائیل کے خلاف بات کرنے والے کو جرمانہ اور سزا سنانے کا قانون پاس ہو چکا ۔۔۔۔
کفار متحد ہو کے ظلم کی نئی داستان رقم کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اور امت مسلمہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھی ہے ۔۔۔۔ مسلمان مسجدوں میں بیٹھ کے کعبے میں بیٹھ کے دعائیں کر رہے ہیں ۔۔۔اے اللہ مسلمانوں کی ایسے مدد فرما جیسے تو نے بدر میں مسلمانوں کی مدد فرمائی بے شک اللہ تعالی نے بدر میں مسلمانوں کی مدد فرمائی اور مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا ۔۔مگر آج کا مسلمان یہ نہیں سوچتا کہ صرف دعاپر اکتفا کر کے بیٹھے رہنے سے سب کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔۔۔اگر صرف دعا پر ہی اکتفا کرنا ہوتا تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے ۔۔صحابہ کرام بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرنے کا کہتے اور ہاتھ پر ہاتھ درے بیٹھے رہتے ۔۔۔مگر نہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں جنگ کی تیاری کی اور میدان جہاد میں اترے نہ اپنی تعداد کو دیکھا نا اپنے وسائل کو دیکھا بس اللہ کے دین کی خاطر اللہ کے حکم کو بجا لاتے ہوئے میدان جہاد میں اترے رب کی ذات پر توکل کرتے ہوئے ۔
یوں فتح مسلمانوں کا مقدر بنی۔ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ میدان جہاد میں اترے تو فتح ملی صرف دعاؤں سے فتح نہیں ملی ۔آج ہم صرف دعاؤں سے جیتنا چاہتے ہیں جہاد کا لفظ ہمارے ذہنوں سے ناپید ہو چکا ۔
قرآن کہتا ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرے ۔
سوچنا پڑے گا کہ ہم کوشش کس کے لیے کر رہے ہیں صرف حصول دنیا کے لیے بس یہی ہمارا مقصد حیات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اآج ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کی طاقت کسی مسلمان ریاست میں نہیں کیونکہ سب کے مادی مفاد یہود و نصاری کے ساتھ جڑے ہیں یہی مفاد پرستی امت مسلمہ کو یکجا نہیں ہونے دیتی ۔جب دین کو پسے پشت ڈال کے دنیا کی طرف بھاگیں گے جہاد سے راہ فرار اختیار کریں گے تو ایسی قوم کا مقدر صرف ذلت و رسوائی ہی ہے ۔۔ اگر دنیا میں سر بلندی اور عزت سے سرفراز ہونا ہے تو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا ۔۔۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حدیث پر عمل کر کے دکھانا ہوگا کہ مسلمان ایک جسد واحد کی مانند ہے جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے ۔
میں کوئی لکھاری نہیں ہوں نہ مجھے لفظوں کی لڑیاں پرونی آتی ہیں میں اپنے قلم کو حرکت صرف اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے لیے دے رہی ہوں ۔ اہل فلسطین شرمندہ ہوں میں بے بس ہوں میری سکت صرف اتنی کہ میں اپنے جذبات اور الفاظ کو کاغذ اور قلم کے حوالے کر دوں اے اہل فلسطین اللہ تعالی تمہارا حامی و ناصر ہو امین یا رب العالمین
. . اے اہل فلسطین تم یوسف کی طرح حسین ہو
اور عالم اسلام نے تجھے بھائیوں کی طرح دھوکہ دیا