سیاست

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

مارک ٹوین(Mark Twain)نےکہاتھاPolitics Is the only profession where you can lie,Cheat and Steal and Still be respected(سیاست واحد شعبہ ہے جہاں آپ جھوٹ بول سکتے ہیں،دھوکہ دے اور چوری کر سکتے ہیں،مگر پھر بھی آپ قابل احترام ہیں)یہ قول موجودہ سیاست پر بہت ہی فٹ بیٹھتا ہے۔پاکستانی سیاست بہت ہی بدتر ہو چکی ہے۔جھوٹ،فریب، دھوکہ اور کرپشن کا اثر سیاست پر بہت ہو چکا ہے۔مارک ٹوین نے سیاست کا درست تجزیہ کیا ہےاور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ سیاست میں یہ برائیاں عام ہو چکی ہیں۔سیاست میں سچ اور اخلاقیات کو نکالا جائے تو پیچھےکچھ نہیں بچتا۔صرف سیاست ہی نہیں،صحافت سمیت ہر شعبہ آلودہ ہو چکا ہے۔آپ کو بہت ہی کم افرادملیں گے،جوبرائیوں سے بچے ہوئےہیں اور سچ کا ساتھ دے رہے ہیں۔مارک ٹوین کا کہنا درست ہے کہ جھوٹ، دھوکے اور چوری کرنے کے باوجود بھی آپ کوقابل احترام سمجھاجاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی سیاست کے لیےکچھ نہ کچھ برائیاں اپنا لی جاتی ہیں لیکن ان کا محاسبہ بھی ہوتا ہےاور سزا بھی ملتی ہےلیکن ہمارے ہاں نہ تو احتساب ہوتا ہے اور نہ سزا ملتی ہے۔قیام پاکستان سے لے کراب تک سیاست اپنا استحکام قائم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے،کیونکہ یہاں ذاتی مفاد کے لیے سیاست کی جاتی ہے۔اپنے مفاد کی خاطر بعض اوقات ملکی سلامتی تک داؤ پر لگا دی جاتی ہے۔آئین جو ایک مقدس دستاویز ہے،اس کو بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے۔آئین ایک ایسا معاہدہ(Agreement)ہوتا ہے جس پر عمل کرنا مذہبی اور اخلاقی طور پر لازمی ہے،لیکن اس کو صرف اپنےمفاد کے لیے تو استعمال کر لیا جاتا ہےلیکن جہاں اپنے مفاد کو معمولی سا بھی نقصان پہنچ رہا ہو تو آئین کوپس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔کسی بھی ترقی یافتہ ملک کا جائزہ لیا جائے تو آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہاں آئین اپنی قوت سے نافذ ہے اور قانون اس کی مدد کے لیےبھرپورکردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان میں وعدوں کو کچھ اہمیت نہیں دی جاتی اور وعدے آسانی سے توڑ دیے جاتے ہیں۔وعدے اور دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں،لیکن اقتدار میں آنے کے بعدان کی پاسداری نہیں کی جاتی۔وعدوں کی اہمیت اسلام نے اچھی طرح اجاگر کر دی ہے.قرآن حکیم میں ہے”اور وعدہ کو پورا کرو،بے شک وعدے کے بارے میں باز پرس ہوگی”(بنی اسرائیل)حدیث کے مطابق”جس شخص کا عہد نہیں اس کا کوئی دین نہیں”(مسنداحمد)ایک اسلامی ریاست پاکستان میں وعدوں کو اہمیت نہ دینا،بہت بڑی بدقسمتی ہے۔وعدے صرف سیاست میں پورے نہیں کیے جائیں بلکہ عام فرد بھی وعدے پورے کرنے کا پابند ہے۔سیاست میں جب وعدوں کی اہمیت نہیں رہتی تو عام آدمی بھی وعدوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
جھوٹ،چوری،کرپشن اور دھوکہ سیاست میں عام ہو چکے ہیں۔یہ برائیاں وقتی طور پر تو فائدہ پہنچا دیتی ہیں لیکن ان کا انجام بہت ہی برا ہوتا ہے اورآخرت بہت زیادہ سخت ہوگی۔سیاست میں امانت داری اورایمانداری کا استعمال ترک کر دینے سےمعاشرے پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔سیاست دانوں کی حرص پاکستان کو کمزور کر رہی ہے۔پاکستانی سیاستدانوں کی دولت کا کبھی سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں موجودگی کا پتہ چلتا ہےاور کبھی انکشاف ہوتا ہے کہ پانامہ میں پاکستانی سیاست دانوں کی دولت موجود ہے۔کبھی یہ خبر پاکستانیوں تک پہنچتی ہے کہ امریکہ،برطانیہ اور کئی ممالک میں سیاست دانوں کی جائیدادیں موجود ہیں اور کبھی دبئی لیکس کی صورت میں کرپشن کی دولت کاانکشاف ہو جاتا ہے۔مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ پھر بھی سیاست دان معتبرہی ہوتے ہیں اور اس بات کا رونا روتے ہیں کہ مخالفین ان کو بدنام کر رہے ہیں۔سیاستدان اپنے مفاد کے لیےعوام کو ہمیشہ استعمال کرتے رہتے ہیں اور عوام بھی جانتے بوجھتے بھی استعمال ہونا پسند کرتی ہے۔عوام کی بدترین حالت کے ذمہ دار سیاستدان نہیں،عوام خود بھی ہے۔عوام ایسے حکمرانوں کو چن لیتی ہے،جو بار بار آزمائے جا چکے ہیں۔اچھے سیاستدان اگر سیاست میں آجائیں تو ان کو کام نہیں کرنے دیا جاتا بلکہ سائیڈ پر لگا دیا جاتا ہے۔سیاستدان خوش نمانعرے تو بہت لگاتے ہیں،لیکن عمل اس کے الٹ ہوتا ہے۔کبھی جمہوری نظام کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور کبھی خلافت کا،کبھی سوشلزم کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے اور کبھی حالت بہتر بنانے کا،کبھی غلامی سے نکلنے کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے اور کبھی ووٹ کو عزت دینے کا،مختلف قسم کے نعرے سننے کو ملتے ہیں۔ان حالات میں سیاستدان بہت فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور عوام اپنا رونا روتے رہتے ہیں۔پاکستانی سیاست میں خالص پن ناپید ہو چکا ہے،افسوس کی بات ہےکہ یہاں اس سیاستدان کا انتخاب کر لیا جاتا ہے جو قابل نہیں ہوتا،کیونکہ منتخب شدہ سیاستدان سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں یا اس کاتعلق برادری سے ہوتا ہے۔بعض اوقات لسانی لحاظ سے سیاست دانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور کبھی مسلک کے لحاظ سے،کبھی علاقائی لحاظ سے اور کبھی قوم پرستی کی بنا پر سیاست دان کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔بعض اوقات معمولی سے فائدے کے لیےبھی اچھے سیاستداب کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر ایک بریانی کی پلیٹ پر ووٹ کاسٹ کر دیا جاتا ہے،یعنی معمولی قیمت پر ووٹ کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔
مارک ٹوین کےقول کہ جھوٹ، دھوکہ اورچوری کرنے کے باوجود بھی سیاست دان قابل احترام رہتے ہیں،اس قول سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ مہذب معاشروں میں ان برائیوں کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑے سیاستدان تھے،حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام بھی بہت بڑے بادشاہ گزرے ہیں،دیگر مثالیں بھی موجود ہیں جو اچھی حکومت کر گئےاور ان کا دامن برائیوں سے پاک رہا۔اب بھی کئی ایسے حکمران موجود ہیں،جو سیاست کو عبادت اور خدمت سمجھتے ہیں۔غیر مسلم حکمرانوں میں بھی اچھے حکمران موجود ہیں۔کچھ سال پہلے امریکی صدر بل کلنٹن کا بھی محاسبہ کیا گیا تھا اور عدالت نے کہا تھا کہ بل کلنٹن نے جھوٹ بولا،یہ فعل اس کے لیےجرم کا سبب بنا۔پاکستان میں عوامی شعور بڑھنے کے بھی دعوے کیے جا رہےہیں ور یہ الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں کہ شعور کی بجائےانتشار پھیلا ہے۔عوامی شعور کو بیدار ہونا چاہیے،تاکہ پاکستان کی سمت اچھے رخ کی طرف موڑی جا سکے۔سیاست جب تک ایک نظریے کے تحت نہیں چلتی،وہ انتشاری سیاست تو کہی جا سکتی ہے حقیقی سیاست نہیں۔کسی ملک میں بہترین سیاست،ملک وقوم کوعروج دیتی ہےاور بری سیاست پستی کی طرف دھکیلتی ہے۔