حضرت پیر عبدالرحمن کا چک حیدری ۔ نالوں کی کھدائی اور لاحق خطرات
تحریر : ڈاکٹر اعجاز علی چشتی
چک حیدری یونین کونسل حضرت پیر عبدالرحمن میں واقع ہونے کے ساتھ ساتھ اس قدیم قصبہ کے قرب میں واقع ہے ۔ یہاں کی آبادی کا تعلق زیادہ تر محنت کشوں’ مزدورں سے ہے ۔
اس آبادی میں نکاسی آب کا کوئی بندوبست نہیں ھے
کچھ عرصہ پہلے یہاں کے کچھ لوگوں نے ذاتی کوشش کی اور پانی کو آبادی سے باہر نکالنے کے لیے ایک طریقہ نکالا ۔ جو خوش آئند بات تھی مگر یہاں ایک مسلہ بھی کھڑا ہوا اس سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ اگر نالیاں وغیرہ کھودی جائیں تو آخر پر ڈسپوزل کی ضرورت بھی لازمی ہوتی ہے ۔ہوا یوں کہ نالیاں کرین سے بنائی گئیں ۔اب بجاۓ نالیوں کے یہاں بڑے بڑے نالے بن گۓ جن کو زیر نظر تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
اس پر یہاں کے باقی لوگوں نے شور مچانا شروع کیا کہ یہ تو الٹا مسلہ بن گیا نا ڈسپوذل نا ہی گندے پانی کو آبادی سے باہر نکالنے کا راستہ ۔ ان کا خیال تھا کہ پانی ان نالوں میں جمع ہوگا ۔ایک تو جوہڑ اور پھر اس سے بیماریاں پھیلیں گی تو دوسرا ان نالوں کی ساخت ایسی ہے کہ یہاں بچوں کے ڈوبنے کے بہت زیادہ چانس ہیں۔ جیسا کہ مختلف علاقوں میں ایسے واقعات ہوۓ ۔یہاں تک تو ان کا خیال تھا جو نالے کھودنے والے چند لوگوں کے علاوہ تھے ۔انہوں نے ان لاحق خطرات کے پیش نظر شکایت درج کروائی اب محکمانہ وزٹ کیا گیا اور جو رپورٹ سامنے آئی اس میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے لوگوں کی جان کے لیے خطرہ اور خلاف قانون قرار دیتے ہوئے سارے نالوں کو فوری بند کرنے کی سفارش کی گئی یہاں یہ بات دیکھنے والی ہے کہ اس کو یہاں کی بیشتر آبادی کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکمہ بھی خطر ناک قرار دے رہا ہے پھر اس کو بند بھی نہیں کیا جا رہا۔ تو مسلہ کیا ہے؟ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی اب اسی رپورٹ کے جواب میں لوکل ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ یہاں بھاری مشینری کی ضرورت ہے جو یونین کونسل سطح پر ہمارے پاس نہیں ۔ اب اس پر متاثرین نے کہا ہم اخراجات دیتے ہیں اس کا بندوبست کیا جائے یا پھر پرائیویٹ مشینری کی اجازت دی جائے ۔ مگر ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے ؟ چلیں وجہ جو بھی ہو بہر حال اس مسلے کا حل تو ضرور نکالنا چاہیۓ۔ اگر ان کی وجہ سے کوئی جانی نقصان ہوتا ہے تو مقامی سطح پر امن و امان کی صورت خراب ہو سکتی ہے۔ یہ عوام ایک دوسرے کی دشمن ہو سکتی ہے یہ یہاں کے لوگوں کے مزاج کے پیش نظر کہہ رہا ہوں کیونکہ اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوتا ہے تو ان نالوں کے بنانے والوں کو موردالزام ٹھہرانے والے انہی سے الجھیں گے گویا اسی طرح یہ مسلہ بڑھ سکتا ہے دوسری طرف صرف ان کو ختم کرنا حل نہیں بلکہ یہاں نالیوں کو بنایا جانا ضروری ہے ساری صورت حال کے پیش نظر ارباب اختیار اور سیاسی قائدین رانا شہباز احمد خان ۔امیر عباس سیال اور مولانا آصف معاویہ کو مثبت سوچنا ہو گا اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ہم بھی کمر بستہ ہیں اس کے لیے ہم سب کو مل کر اس آبادی کے لیے سلگتے مسائل کو حل کی کوشش کرنا ہو گی اور اس میں اپنا کردار فوری ادا کرنا ہو گا اس بات سے ہٹ کر کہ اپنے اپنے ووٹرز کی سپورٹ کریں اور انا کا مسلہ بنائیں کیونکہ یہاں صرف ووٹرز کی بات نہیں انسانیت کی بھلائی کی بات ہے کہ ان موت بانٹتے نالوں کو فوری طور پر بند کر کے یہاں نکاسی آب کا بندوبست کیا جائے تا کہ اس آبادی کا مسلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال کو قائم رکھا جائے اور مقامی لوگ بھی ایک دوسرے سے الجھنے کی بجاۓ متفق ہو کر اس کا حل نکالیں ۔ہمیں اس پر سنجیدہ فکر کی ضرورت ہے










