چین کی معاشی حالت مضبوطی کی طرف گامزن

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

دنیا میں تمام ممالک اپنی معیشت کی بہتری کے لیےکام کرتے ہیں،یہ اور بات ہے کہ بہت سے ممالک ناکام ہوجاتے ہیں اور بہت سے ممالک کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔اقتصادی حالت کی بہتری بہت ضروری ہوتی ہے۔اگر اقتصادی حالت بہتر نہ ہو،تو وہ ممالک یا اقوام بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔امریکہ اور کئی ممالک معاشی لحاظ سےمضبوط گردانے جاتے ہیں اور ان کی معاشی حالت اب بھی بہت اچھی جا رہی ہے،لیکن اب چین معاشی مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔چین کا آگے بڑھتا سفرمضبوطی کی طرف گامزن ہےاور اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چند برسوں کے بعد عالمی طور پرچین معاشی لحاظ سےاول پوزیشن حاصل کر لے گا۔چین جس طرح معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے،وہ دنیا کے لیے رول ماڈل بن رہی ہے۔تمام عالمی طاقتیں چین کی معاشی مضبوطی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں،کیونکہ چین ان کے لیےخطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔چین آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا ملک ہے لیکن غربت سے نکل چکا ہے۔عالمی طور پر اس کی ترقی کے آگے رکاوٹیں بھی پیدا کی جا رہی ہیں،لیکن یہ رکاوٹوں کو عبور کیے جا رہا ہے۔
چین پہلے معاشی اور عسکری لحاظ سے مضبوط نہیں تھا،لیکن مسلسل محنت سے کامیابی حاصل کر رہا ہے۔چین جب آزاد ہوا تو اس وقت بہت ہی معاشی بدحالی تھی اوردوسرے مسائل بھی تھے۔1949ءمیں جب ماوزےتنگ اقتدار میں آئے تو جنگ سے تباہ حال چین غربت کی چکی میں پس رہا تھا،لیکن آج کا چین 1949ء کے چین سے یکسر مختلف ہے۔معاشی ترقی کی بلندیوں کو چھوتا چین غربت اور بدحالی سے نکل کر بہت آگے بڑھ رہا ہے۔فی کس آمدنی کے بڑھنے کی وجہ سےاس کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہو رہا ہے۔اصل جائزہ فی کس آمدنی کی بجائےشہریوں کے رہن سہن اور ان کے حالات زندگی کا لیا جاتا ہےچین کا جائزہ لینے سےاچھی طرح پتہ چل جاتا ہے کہ چین کے شہری بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔اس کے شہریوں کو وہ تمام سہولیات میسر ہیں جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں کو حاصل ہوتی ہیں۔اصل چین کی ترقی 1978ء کے بعد شروع ہوئی،اس سے پہلے ترقی کی شرح بہت ہی مایوس کن تھی۔ماؤزے تنگ نے بھی کچھ اصلاحات کی تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکیں۔ ماوزے تنگ بہترین لیڈر تھے،لیکن چین کو غربت سے نہ نکال سکے۔انہوں نے ایک منصوبہ شروع کیا جوناکامی سے دوچار ہوا،اس منصوبے کا مقصد زراعت کی حالت کو سدھارنا تھالیکن یہ منصوبہ ناکامی سے دوچار ہو گیا اوراس کی وجہ سے چین میں قحط پڑا۔اس قحط کی وجہ سےایک کروڑ افراد ہلاک ہو گئے۔کچھ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ قحط سے ہلاک ہونے والی کی تعداد 45 ملین تک ہے۔بہرحال جتنی بھی اموات ہوئی ہیں وہ قابل افسوس بات ہے۔1978 میں ماوزے کی وفات کے بعدایک اور کمیونسٹ رہنما ڈینگ ژیاؤپنگ نے ایک مہم شروع کی جس کی وجہ سے740 ملین لوگ غربت سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ڈینگ نے پرانے نظام کی بجائےنئی اقتصادی اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا۔زراعت،نجی شعبے کی خود مختاری اور چین کو تجارت کے لیےعالمی مرکز بنا دیا۔اس طرح چین کی معاشی ترقی کا سفر شروع ہو گیااور یہ سفر آج تک جاری ہے۔چین نے یہ ٹائٹل آسانی سے نہیں حاصل کیا بلکہ چینیوں کی شب و روز کی محنت کا یہ صلہ ہے۔
چین ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ سیاسی استحکام ہے۔سیاسی استحکام کی وجہ سےمعاشی استحکام بڑھتا ہے۔سیاسی استحکام کی وجہ سے میرٹ اور انصاف کا نظام مضبوطی سے قائم ہو جاتا ہےاور اس وجہ سےکوئی بھی قوم ترقی کی طرف بڑھتی ہے۔چین پر انسانی حقوق کی پامالی کے بھی الزامات لگتے رہے ہیں اور ان میں کچھ حقیقت بھی ہے،مسلمانوں کو بھی تنگ کیا جاتا ہےاور دیگر شہریوں کو بھی کہیں نہ کہیں زیادتیوں کا سامنا ہے۔چین ان وجوہات کو ختم کرے،جن سے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔چین تائیوان کے مسئلے میں بھی الجھا ہوا ہےاور یہ مسئلہ سلجھ نہیں رہا۔تائیوان کی وجہ سےامریکہ کے ساتھ بھی تعلقات بدترین حالت میں ہیں۔پڑوسی ملک انڈیا کے ساتھ چین کی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،یہ تعلقات دونوں ممالک کی اقتصادی حالت بہتر بنا رہے ہیں۔چین ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی آگے بڑھ رہا ہےاور دیگر شعبوں میں بھی ترقی کاگراف بلند ہو رہا ہے۔زراعت پر خصوصی توجہ دی گئی ہےاور جدت لاکر بہتری لانےکی کوشش کی گئی ہے،جو کہ کافی کامیاب ہو چکی ہے۔چین میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی دعوت دی گئی،یوں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی چین کی معاشی حالت بہتر بنانے کا سبب بنی ہے۔کسی بھی سرمایہ کار کو اگر تحفظ اور منافع کا یقین دلایا جائے تو وہ آسانی اور خوشی سے کسی بھی ملک میں سرمایہ لگا لیتا ہےاور چین سرمایہ کو تحفظ دلاکر اپنی معیشت مضبوط بنا چکا ہے۔انڈسٹریز کی طرف بھی توجہ دی گئی،جس کی وجہ سےچینی مصنوعات کی مانگ دنیا بھر میں بڑھتی گئی۔چین کئی قسم کی مصنوعات بنا رہا ہے،حالانکہ یہ مصنوعات زیادہ پائیدار نہیں ہوتی لیکن سستی ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں آسانی سے جگہ بنا لیتی ہیں۔بہرحال اتنی ناپائیدار بھی نہیں ہوتیں کہ فورا ہی ضائع ہو جائیں،کچھ نہ کچھ پائیداری ہوتی ہے۔بہرحال کچھ تو ہے جو دنیا بھر میں اس کی مصنوعات بک رہی ہیں اور چین کی معیشت مضبوط کر رہی ہیں۔قدرتی وسائل بھی چین کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں۔اسلحہ جہاں چین کا دفاع مضبوط کر رہا ہے،وہاں اسلحہ فروخت کر کے چین اپنی معاشی حالت بھی مضبوط بنا رہا ہے۔
چین پر مشکلات بھی آئی ہیں،لیکن چین ان مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔جس طرح ماؤزے زرعی اصلاحات کی وجہ سے،کروڑوں انسان زندگی کی بازی ہار گئے،لیکن چین اپنی جدوجہد سےان مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔2008ء_2009ء میں عالمی اقتصادی بحران پیدا ہوااور چین کی سرمایہ کاری عالمی معیشت سنبھالنے میں کامیاب ہوئی،لیکن اس وجہ سے چین بھاری قرضوں تلے بھی دب گیا لیکن عالمی معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا۔2001ء کے بعد چینی معیشت بہت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔2008ء میں مغرب کے ساتھ بھی تجارت میں اضافہ ہوا۔چین پریہ الزام لگتا ہے کہ اس کی مصنوعات اکثر کاپی یا نقل ہوتی ہیں،چین اب اس بات پر متوجہ چکا ہے کہ وہ خود مصنوعات تخلیق کرے۔2019 کے دوران کورونا وائرس نے دنیا بھر کو پریشان کر دیا تھا،لیکن چین اس وبا پر آسانی سے قابو پانے میں کامیاب ہو گیا،حالانکہ چین میں یہ وائرس پیدا ہوا تھا۔چین فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی حل کر چکا ہے حالانکہ وہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ زیادہ بڑھ کر ہونا چاہیےتھا کیونکہ وہاں صنعتیں بہت زیادہ ہیں۔2023 ءتک چینی معیشت اس حد تک پہنچ چکی ہےکہ جدید معاشی طورپرمضبوط ممالک کا مقابلہ کر سکے۔کچھ سال قبل ایک برطانی تھنک ٹینک نے پیش گوئی کی تھی کہ 2028ء تک چین امریکہ سے بھی آگے نکل جائے گا اور اس بات کا امکان ہےکہ 2035ء تک دنیا بھر کو پیچھے چھوڑ دے۔چینی قوم کی صلاحیتیں بے پناہ ہیں اور وہ ان کا استعمال بھی کرتے ہیں،جس کی وجہ سےچین آگے بڑھ رہا ہے۔چین کی بڑھتی ترقی کی رفتار کو دیکھ کر پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ چند برسوں کے بعد چین بہت زیادہ آگے نکل جائے گا۔