پانچ جنوری اورکشمیریوں کا حق خودارادیت
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
جب کہیں کشمیر کا ذکرچھڑتا ہے توایک حسین اوردل فریب وادی کا تصور ذہن میں آجاتا ہے۔اس وادی کی خوبصورتی کےقصے پورے جہان میں چھڑےہوئے ہیں۔پہاڑ اس وادی کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں اور خشک میوہ جات سمیت کئی قسم کے پھل اس وادی کوجنت کہلوانے پر مجبور کرتے ہیں۔کشمیر بہت خوبصورت ہے لیکن اب اس علاقے میں دہشت کا راج ہے۔یہاں بے گناہ شہید کیے جا رہے ہیں،خواتین کی عزتوں کو لوٹا جا رہا ہے،بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا اور ان پر بھی گولی سمیت کئی قسم کے تشدد کیے جاتےہیں۔یہاں ظلم دیکھ کر انسانیت لرز اٹھتی ہےاوراپنی پامالی پر چیخنا شروع کر دیتی ہے۔
مسئلہ کشمیر کافی عرصہ سے بگڑا ہوا ہے۔اس پرامن وادی میں ظلم کی چکی تب چلنا شروع ہوئی جب برصغیر پاک و ہند کی تقسیم ہوئی۔تقسیم کے فیصلے کو تسلیم کرنے کی بجائے،1947 میں کشمیر پر انڈیا نے حملہ کر دیا۔حملہ کر کے دعوی کیا گیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے،حالانکہ یہ دعوی بالکل بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے۔کشمیریوں نے اس ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ شروع کر دیا،پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بھی ہوئی۔بھارت یہ مسئلہ 1948 میں اقوام متحدہ لے گیا۔پانچ جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان نے ایک قرارداد منظور کی،جس میں غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیر کے حق خود ارادیت کی ضمانت دی گئی۔اس قرارداد کو منظور ہوئے چہتر برس ہو چکے ہیں،لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔انڈیا اس قرارداد پر عمل نہیں کر رہا،جس کے مطابق منصفانہ اور آزادانہ رائےشماری کی جانی تھی۔اس قرارداد پر عمل نہ کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہےاور اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی برادری کی خاموشی کئی قسم کے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔افسوس کی بات ہے کہ کشمیری عوام اپنا حق مانگ رہی ہے لیکن ان پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔کشمیری عوام ہر وقت حالت جنگ میں ہیں اوروہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں،وہ ہر وقت اس خدشے کا شکارہتےہیں کہ اگلے پل کچھ ہو نہ جائے۔
حق خود ارادیت ایک بنیادی انسانی حق ہےاور اس کو تسلیم کرنا نیز اس کا مطالبہ کرناقانونی لحاظ سے درست ہے۔اقوام متحدہ اس حق کو تسلیم کرتی ہے،لیکن کشمیریوں کو اس بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہےاور جبری طور پر ایسا کیا جا رہا ہے۔اپنا حق مانگنے کی وجہ سےکشمیری کئی دہائیوں سے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن ان کو جبری طور پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ہندوؤں کو کئی علاقوں میں بسانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کوششیں جاری بھی ہیں،اقوام متحدہ اس کا نوٹس لازمی لےتاکہ غیر جانبداری کا تاثر قائم رہے۔بنیادی حقوق کی خلاف ورزی جرم ہے،صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کشمیر میں نہیں کی جا رہی بلکہ دیگر جرائم بھی کیے جا رہے ہیں،ان جرائم کا حساب لیا جائے۔
کشمیریوں کی پہلے بھی حق تلفی کی جا رہی تھی اور ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا،لیکن پانچ اگست 2019 کو مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا اور کشمیری عوام پر مظالم میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔لاکھوں فوجیوں کی وہاں تعیناتی کر کے مقبوضہ کشمیر کو چھاؤنی اور جیل کی صورت میں تبدیل کر دیاگیا ہے۔لاکھوں انسان قیدیوں کی زندگیاں گزار رہے ہیں،قیدیوں کو تو کچھ سہولیات میسر ہوتی ہیں لیکن ان مظلوموں کو بہت سی تکالیف کا سامنا ہے۔کئی قسم کی پابندیاں لگا دی گئی اور قیدیوں سے بھی بدتر ان سے سلوک جاری ہے۔کشمیری عوام ادویات کی کمی کے علاوہ خوراک کی قلت کا سامنا بھی کر رہی ہے۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری کم از کم ان کو کچھ حقوق تو دے۔انڈیا کی زیادتیوں کا نوٹس نہ لے کر جانبداری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہےاور یہ لمحہ فکریہ ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق کشمیر میں اڑھائی لاکھ سے زیادہ افراد کو شہید کر دیا گیا ہے،لاکھوں افراد قید و بند کی مشکلات برداشت کر رہے ہیں،ہزاروں کی تعداد میں عورتیں بیوہ ہو چکی ہیں نیز خواتین کی عزت و آبرو کو بھی پامال کیا جا چکا ہے۔بچوں پربھی تشدد کیا جا رہا ہے۔کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اجتماعی قبریں بھی دریافت ہو چکی ہیں،جن میں بے گناہ افراد کو قتل کر کے دفن کیا گیاہے۔1947 سے لے کر 2025 تک،ہر وقت کشمیری عوام پر ظلم جاری ہے۔2000 کی آخری دہائی میں بھی ظلم کیا گیا۔1990 میں ہنڈواڑہ،تینج پورہ،زکورہ،1993 میں سوپور،لال چوک اور بیجی بہارہ،جب کہ 1994 میں کپواڑہ میں قتل عام کے ذریعے ہزاروں کشمیریوں کو شہید کیا گیا،ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی۔کئی دکانیں نذر آتش کی گئیں۔کئی کشمیریوں کے کاروباروں کو تباہ کیا گیا۔سینکڑوں گھروں کو مسمار کر دیا گیااورکئی کشمیریوں سے زمینیں چھینی گئیں۔
کشمیری اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کوحق خود ارادیت دیا جائے۔ان کو بھی زندہ رہنے کا حق دیا جائےاور ان کو بھی انسانی حقوق ملیں۔بربریت کا شکار ہوتے کشمیری اپنا حق طلب کر رہے ہیں،لیکن طاقت کا توازن برابر نہ ہونے کی وجہ سے ان کو حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔احتجاج کرنے اوراپناحق مانگنےوالوں کو شہید کرنے کے علاوہ قید بھی کر دیا جاتا ہے،ان پرپیلٹ گن کا استعمال بھی کیا جاتا ہے،جس وجہ سے وہ معذور بھی ہو جاتے ہیں اور کافی تعداد اندھے بھی ہو چکے ہیں۔کاؤنٹر ٹیررزم کے نام پر ظلم کیا جاتا ہےاور بغیر وجہ کہ گرفتار کرنا،عام سی بات بن گئی ہے۔کئی صحافی بھی قتل ہو چکے ہیں۔بچوں کو دیگر سہولیات کے علاوہ تعلیم کی بھی سہولت حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔کشمیری صحت کے مسائل کا بھی سامنا کرنے پرمجبور ہیں۔صرف صحت ہی نہیں،دوسری سہولیات بھی مظلوم کشمیریوں کو میسر نہیں۔کشمیری ہر سال پانچ جنوری کو’حق خود ارادیت’مناتے ہیں،لیکن ان کو اپنا بنیا دی حق نہیں مل رہا۔پاکستان کے علاوہ کشمیری جہاں جہاں بھی بستے ہیں،وہ پانچ جنوری کو احتجاج کرتے ہیں اس امید پر احتجاج کرتے ہیں کہ ان کو حق خود ارادیت مل ہی جائے گا۔کشمیری بہت سی قربانیاں دے چکے ہیں،جانی ومالی سمیت بے شمار قربانیاں دی جاچک ہیں اوردی بھی جا رہی ہیں۔کشمیری پر امید ہیں کہ وہ اپنا حق حاصل ہی کر لیں گے۔آزادی کی جو جنگ وہ لڑ رہے ہیں،امید ہے کہ وہ جلد ہی کامیاب ہو جائیں گے۔کشمیر کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان کےتعلقات بھی خراب ہیں،مسئلہ کشمیر حل کر کےبہتری کی طرف قدم بڑھائے جا سکتے ہیں۔اسلامی برادری کا حق بنتا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کریں اور ان کو بھرپور مدد فراہم کریں۔کشمیریوں کا انتخاب اگر پاکستان ہے،تو ان کےجذبات اور خیالات کا خیال رکھا جائے۔کئی دہائیوں سے پھیلا مسئلہ،جتنی جلدی حل ہو جائے،اتنا بہتر ہے۔










