ڈی ایس پی رانا نعیم یاسین بڑا دعویٰ اور ناقابل یقین farewell

تحریر علی امجد چوہدری

قلعہ گوجر سنگھ میں انتہائی غیر معمولی farewell کے بعد احمد پور سیال far-flung علاقے میں اپنی زمہ داریاں سنبھالنے والے ڈی ایس پی رانا نعیم یاسین کو offer مل چکی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو ان کا تبادلہ کینسل کیا جا سکتا ہے اور وہ صوبائی دارالحکومت میں ہی اپنے فرائض سر انجام دے سکتے تھے یہ ان کے لیئے انتہائی attractive تھا مگر انہوں نے احمد پور سیال جیسی دور دراز کی تحصیل کو بھی نظر انداز نہیں کیا یہ ڈی پی او جھنگ کیپٹن ریٹائرڈ بلال افتخار سے ملاقات کے بعد جب احمد پور سیال کے روانہ ہوئے تو خوشاب مظفر گڑھ روڈ نے ان کو اس علاقہ کی مشکلات سے بخوبی آگاہ کردیا مگر یہ احمد پور سیال پہنچنے کے فوری بعد اپنی رہائش گاہ نہیں گئے بلکہ اس میٹنگ میں گئے جو انہوں نے طلب کر رکھی تھی رات گئے تک یہ ایس ایچ او احمد پور سیال اور ایس ایچ او گڑھ مہاراجہ سے briefing لیتے رہے رات گئے میٹنگ کرکے صبح نو بجے پھر دفتر پہنچ کر انجمن تاجران اور صحافتی شخصیات سے میٹنگ کے بعد یہ ریسٹ کی طرف نہیں گئے بلکہ طلب کی گئی پارٹیز کی سماعت کر رہے تھے اور کسی ایک بھی سماعت کو انہوں نے التواء کا شکار نہیں کیا
یہ تو تھی ان کی پہلے دو روز کی داستان آج انہیں چارج لیئے تیسرا دن تھا آج میں مسٹر غلام شبیر کے ہمراہ انہیں ملنے گیا اس وقت ان کے دفتر میں تین پولیس اہلکار موجود تھے اور ان کے الفاظ کیا شاندار تھے کہ عوام کی عزت نفس بھی مجروح نہیں کرنی اور ڈیوٹی بھی پوری کرنی ہے اور وہ برابر نظر رکھیں گے اس حوالے سے پھر دو مختلف معاملات کے فریقین ان کے سامنے پیش ہوئے اور جس شاندار انداز نے رانا صاحب نے ان کے معاملات settle کیئے وہ حیران کن تھا
اور اب آتے ہیں ڈی ایس پی رانا نعیم یاسین کے اس دعوے کی طرف جو انہوں نے انتہائی زور دار انداز میں کیا رانا صاحب کے مطابق آنے والے چند دنوں میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے کو ملے اور کوئی بھی شخص پولیس کی طرف سے کی گئی ناانصافی کا شکوہ نہیں کرے گا دعویٰ بہت بڑا ہے مگر آج جو کچھ observe کیا اس کی بنیاد پر انتہائی یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ اپنے دعوے پورے کرکے رہیں گے
Best of luck رانا نعیم یاسین صاحب

علی امجد چوہدری