“غربت”

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

دنیا میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے،جو کہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔غربت کی تعریف یہ ہے کہ کسی فردیا معاشرے کے پاس زندگی گزارنے کے لیےلازمی وسائل اور اسباب موجود نہ ہوں یعنی خوراک کی کمی ،رہائش کا نہ ہونا یا اتنے وسائل موجود نہ ہوں،جن سے وہ زندگی کچھ بہتر طور پر گزار سکے۔دنیا میں ڈیڑھ ارب افراد انتہائی غربت زدہ ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔کئی کروڑ افراد خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور بھوک ان کا خاتمہ کر رہی ہے۔ماہرین کے مطابق 2030 تک 574 ملین افراد انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہوں گے،جو کہ دنیا کا سات فیصد ہوں گے۔غربت معاشرے میں کئی قسم کے مسائل جنم دیتی ہےاور ڈکیتی،چوری،ظلم وجبرجیسے کئی قسم کےجرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے۔زیادہ دولت کےحصول کا لالچ بھی غربت میں اضافہ کرتا ہے۔جنگیں بھی غربت میں اضافہ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔جنگوں سے جہاں انسان قتل ہوتے ہیں،وہاں آبادیاں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔افراد کی کمی اور دوبارہ تعمیرات سے غربت میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔غربت میں اضافہ کرنسی کی وجہ سے بھی ہو رہا ہے۔ایک کرنسی کی ویلیو زیادہ ہونے کی وجہ سےاور دوسری کرنسی کی ویلیو کم ہونے سے،عدم توازن پیدا ہو جاتا ہےاور یوں غربت کا جنم ہوتا ہے۔مثال کے طور پر موجودہ دور میں ڈالر،دینار اور یورو جیسی کئی مضبوط کرنسیاں دنیا میں عدم توازن پیدا کر رہی ہیں اور اس کے مقابلے میں کمزور ممالک کی کرنسیاں معمولی قیمت رکھنے کی وجہ سےغربت جیسے مسائل میں اضافہ کررہی ہیں۔افراط زر اورکمزور کرنسی کی وجہ سےکئی قسم کے بحران جنم لیتے ہیں اور یوں غربت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔غربت کی ایک اور بڑی وجہ چند لوگوں یا ممالک کا وسائل پر قابض ہونا بھی ہے۔طاقت یا دہشت کا استعمال کر کےکمزور ممالک کا استحصال کیا جاتا ہے اور کئی قسم کے خزانے لوٹ یا چھین لیےجاتے ہیں جس سےمعاشرے میں غربت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔آبادی میں اضافہ کی وجہ سے بھی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔آبادی میں اضافہ معاشرے پر بوجھ نہیں بنے گا اگر وسائل کا درست استعمال کیا جائے۔حق تلفی سےبگاڑ پیدا ہوتا ہے اور حق دینے سےمسائل ختم ہوتے ہیں۔قدرتی آفات بھی انسان کے لیے غربت میں اضافہ کرتی ہیں۔زیادہ بارشیں،سیلاب،زلزلےاور دیگر آفات سے بھی غربت بڑھ جاتی ہے۔قدرتی آفات سے نپٹنے کے لیےوسائل کم پڑ جاتے ہیں،عمارات تباہ ہو جاتی ہیں اور فصلیں اجڑ جاتی ہیں،دوبارہ بحالی کافی سرمایہ خرچ کراتی ہے۔
انسانی ضروریات کے لیےاگر وسائل پورے ہوں تو یہ غربت نہیں۔خوراک موجود ہو،رہائش بھی دستیاب ہو،پانی،صحت جیسے مسائل بھی نہ ہوں،تو کہا جا سکتا ہےغربت نہیں۔کچھ عرصہ قبل عالمی بینک نےایک رپورٹ شیئر کی تھی کہ 2020 میں دنیا بھر میں 71ملین سے زیادہ افراد یومیہ 5۔2 ڈالر یااس سے کم پر زندگی گزار رہے ہیں۔مستقبل میں اس سے بھی زیادہ غربت کا اندیشہ ہے۔وسائل کا درست استعمال نہ ہونا بھی غربت میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔کئی ممالک کے پاس بہت سے وسائل ہوتے ہیں لیکن وہ استعمال کرنا نہیں چاہتے یا استعمال کرنے سے قاصر ہوتے ہیں،اگر وہ استعمال کر لیں تو بھوک اور غربت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔دنیا میں کہیں بھوک اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور کہیں امارت اپنے جوبن دکھا رہی ہے۔کہیں بھوک سے اموات ہو رہی ہیں اور کہیں ٹنوں کے حساب سےخوراک ضائع کی جا رہی ہے۔کہیں علاج پر بہت سا سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے اور کہیں معمولی سی دوائی بھی دستیاب نہیں۔کہیں عالی شان عمارات ہیں اور کہیں رہنے کے لیےدو گز زمین بھی دستیاب نہیں۔بعض ممالک دولت میں اضافہ کرنے کے لیےکمزور ممالک کو قرضوں میں جکڑ لیتے ہیں اور یہ قرضے بھاری سود پر دیے جاتے ہیں،یوں وہ قرض حاصل کرنے والے ممالک غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔غربت کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ چند افراد اپنے لیے بہت سی مراعات حاصل کر لیتے ہیں اور یہ مراعات غیر ضروری شان و شوکت دکھانے کے لیے ہوتی ہیں،لیکن وسائل ضاِئع ہورہے ہوتے ہیں اور کئی ملین افراد بھوک سے بلبلا رہے ہوتے ہیں۔
اسلام نے غربت سے نکلنے کی بہترین حل بتائے ہیں اور ان پرعمل کر کے غربت جیسے عفریت سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔اسلام محنت کا بھی درس دیتا ہےاور جس قوم یا معاشرے میں محنت کا عنصر کم ہو جائے تووہ غربت میں دھنس جاتے ہیں۔زیادہ افراد اگر محنت کرنا شروع کر دیں تو غربت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔یہ واضح رہے کہ اللہ پاک نےوسائل سارے انسانوں کے لیے دیے ہیں لیکن کچھ افراد یا طاقتیں ان وسائل پر قبضہ کر لیتی ہیں،یوں حقدار کا حق مار دیا جاتا ہے۔قرآن میں رزق کو تلاش کرنے کا حکم دیا اور محنت کرنے کا حکم دیا گیا ہے”وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم و مسخر کر دیا، سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اس کے(دیے ہوئے) رزق میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف(مرنے کے بعد)اٹھ کر جانا ہے”(الملک۔ 15)اللہ تعالی واضح حکم دے رہے ہیں کہ رزق کو ڈھونڈنا چاہیے۔اسلام نےزکوۃ کا حکم دیا ہےاور زکوۃ سے معاشرے میں خوشحالی آتی ہے۔صدقہ و خیرات بھی غربت کو کنٹرول کرتے ہیں اور یوں معاشرے میں بھوک جیسے مسئلے کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔بھیک سے اسلام نے منع کیا ہے اور بھیک غربت میں اضافہ کرتی ہے،کیونکہ محنت کرنے والے ہاتھ محنت سے کتراتے ہیں اور بھیک کے ذریعے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ایک حدیث کے مطابق”تم میں سے کسی ایک کا اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھانا یعنی لکڑیاں بیچ کر کمانا،اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے پھر اس سے کوئی دے یا نہ دے”(بخاری)موجودہ دور میں بہت سے وسائل استعمال کر کےغربت میں کمی کی جا سکتی ہے اور شہریوں کا معیار زندگی بلند ہو سکتا ہے۔زراعت یا انڈسٹریز پر توجہ دی جائےتو غربت میں کمی ہو سکتی ہے۔
غربت کوئی موجودہ مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں سالوں سے چلا آرہا ہے۔مشہور مفکرکارل مارکس نے بھی غربت کےخاتمے کے لیے بہت زور دیا ہے۔اس کی تجاویزسے اربوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔کارل مارکس کا کہنا ہے کہ سرمایہ دار طبقہ غریبوں کو پورا محنت کا معاوضہ ادا نہیں کرتا۔ایک جگہ پر کہتا ہے کہ جس آدمی کا پیٹ بھرا ہوا ہے اس کو کیا معلوم کہ غربت کیا ہے؟مزید کہا کہ جب غریب لوگ خودکشیاں کرنے لگیں گےتو سرمایہ دار رسی بنانے اور کفن بیچنے کا دھندہ شروع کر دیں گے۔اس نےسرمایہ داروں کے ظالمانہ اقدام کی کھل کر تنقید کی اور غیرمنصفانہ عمل کو غربت میں اضافہ کی وجہ کہا۔اس نے دیکھا کہ سرمایہ دار طبقہ محنت زیادہ کرواتا ہے لیکن بدلے میں معمولی سی اجرت دیتا ہے تاکہ وہ اس کے سرمائے میں اضافہ کے لیے زندہ رہیں،تو اس نے کھل کر غریب اور مزدور طبقے کو سمجھایا کہ ایسا کرنا ظالمانہ فعل ہے۔اس کی بات درست ہے کہ مزدور کو اپنی محنت کی صحیح اجرت نہیں ملتی۔مارکس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لوگ جنہوں نے سردی گرمی صرف کھڑکیوں سے دیکھی ہو اور بھوک صرف کتابوں سے پڑھی ہو تو وہ عام آدمی کی قیادت نہیں کر سکتے۔سرمایہ دار اور مزدور کی کشمکش ابھی بھی جاری ہے۔جب تک معاشرے میں مزدور کو اپنا حق نہیں ملتا اس وقت تک غربت اور بھوک ختم نہیں ہوگی۔کارل مارکس نے واضح سمجھایا کہ مزدوروں کو اپنے حق کے لیےجدوجہد کرنی ہوگی۔سرمایہ دار آسانی سے کسی کو حق نہیں دے گا بلکہ وہ اپنی عیاشیوں کے لیےمزید سرمایہ میں اضافہ کرے گا،لہذا مزدوروں کو خود بھی اٹھنا ہوگا۔