مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا چوبیسواں یوم تاسیس۔۔
11 جنوری 2001ء تا 11 جنوری 2025ء۔۔
تحریر غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
11 جنوری 2001ء کے دن نوجوان طلباء نے وطن عزیز میں قیام پاکستان کے پس منظر کو زہن میں رکھتے ہوئے احیائے اسلام اور استحکام پاکستان کیلئے ملا و مسٹر کی ڈالی گئی بلند فصیل کو کریش کرتے ہوئے جس جماعت کی بنیاد رکھی تھی وہ آج الحمداللہ پورے چوبیس سال کی ہو گئی ہے۔۔
اس دوران ان جوانوں پہ تو جو بیتی سو بیتی۔۔۔انکی کتنی بہاریں، جوانی، جوبن، وقت، وسائل اور کاوشیں لگیں۔۔ سبزوں کی نوید لانے والی مٹی کو انہوں نے جب بے رنگ و نور ریگستان بنتے دیکھا۔۔بہار کے مقابل خزاوں کے دیوہیکل پہاڑوں کو لاکھڑا کرنے کی کوششیں منظم انداز میں شروع ہویئں۔۔۔سہانے خوابوں کو امت کی نیم خوابیدہ آنکھوں پہ واپس مار دیئے جانے کی رسم جب عام ہو چلی اور قیام پاکستان کے نیک مقاصد کو پس پشت ڈال کر نوجوانوں نے بے راہ روی کو اپنا چلن، نشہ کو باعث سکون، شارٹ کٹ کو کامیابی اور دھوکہ دہی کو مسائل سے نجات سمجھنا شروع کر دیا تو ان حالات میں یہ چند ایک صالح نوجوان سامنے آئے اور منظم و دھیمے انداز میں اپنے کام کا آغاز کیا۔
آپ اس تنظیم کا چوبیس سالہ کیریئر اٹھا کر دیکھ لیں۔۔انکی ساری جہد مسلسل آپکو نظریہ پاکستان اور احیائے اسلام کے گرد گھومتی نظر آئے گی۔ مختلف مدارس، کالجز جامعات اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کی ایک خوبصورت اور بڑی سی چین میں جو چیز ان میں مشترک نظر آئے گی وہ انکی بلاکی سنجیدگی، مقاصد کے حصول پہ نظر، ڈسپلن اور جہد مسلسل ہو گی جو ان سب کا مشترکہ نصب العین و منشور ہے۔
23 سال بعد اس تنظیم نے اپنی خاموش اور طویل محنت کے بعد نہ صرف اپنا وجود منوا لیا ہے بلکہ یہ اس وقت پاکستان کی مین سٹریم میں ٹاپ لیول کے ایسے نوجوانوں کو اپنے رنگ میں رنگ چکی ہے کہ کسی بھی صورتحال میں پاکستانی ینگسٹرز کی ایک بڑی کھیپ اب اس تنظیم کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے۔۔
اس مادی و پرفتن دور میں اس ارض پاک پہ ایسے نوجوانوں کا وجود یقینی طور ایک بہت بڑی نعمت خداوندی ہے جسکی ہم سب کو صدق دل سے قدر کرنی چاہیئے۔ تیئس سال ان نوجوانوں نے جس پودے کو اپنا خون جگر دیا اب وہ ایک تناور درخت بنتا جا رہا ہے جو ہم سب کی امیدوں کا محور بھی ہو گا اور ثمرآور بھی۔۔
اللہ تعالی ایم ایس او کے بانیان، سابقین، موجودہ تمام عہدیدران و ذمہ داران اور کارکنان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔۔اور ایک عظیم پاکستان کیلئے کامیابیاں انکا مقدر ہوں۔۔آمین
شبنم کے آنسووں کو کب دیکھتی ہے دنیا۔۔
کرتے ہیں سب نظارا بنتی ہوئی کلی کا۔۔
غلام شبیر منہاس۔










