وارننگ فلوریڈا

تحریر عبد الستار سپرا

غزہ کے مظلوموں کی بے بسی پر شادیانے بجانے والے آج ماتم کناں ہیں۔ امریکہ نے ہیروشیما ‘ناگاساگی سے لیکر افغانستان،عراق،لیبیا،شام تک بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا،دنیا کو بارود سے جلانے والے خود نشان عبرت بن گئے۔ غزہ میں آگ و بارود کی بارش کر کے 45 ہزار مسلمانوں کو شہید اور ایک لاکھ سے زیادہ کو زخمی کر کے پورے غزہ کو ملبہ کا ڈھیر بنانے والوں کو رب کی طرف سے پہلی وارننگ فلوریڈا کے طوفان کی صورت میں دی گئی ہے لیکن جب اس سے بھی انہوں نے سبق حاصل نہیں کیا تو پھر لاس اینجلس میں امریکہ کی تاریخ کی بدترین آتشزدگی ہوئی ۔غزہ کے مظلوموں کی آہیں رنگ لائیں۔ امریکہ میں ہولناک آتشزدگی مکافات عمل ہے۔انسانوں پرعرصہ حیات تنگ کر نے والے اس کائنات کے خالق کی پکڑ میں آتے ہیں۔ لاس اینجلس کی تباہی مکافات عمل ہے۔ مظلوم اور معصوموں کی آہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ہر ظالم پر اللہ کا قہر اور عذاب نازل ہوتا ہے۔کوئی کتنی بھی ترقی کر لے کتنی بھی جدت لے آئے مگر اللہ کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔معمولی سی آگ نے دکھا دیا کہ اللہ پاک چاہے تو کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ظالم سب کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود بھی اپنی زبان کر بند کیے بیٹھا ہے، لاس اینجلس آتشزدگی میں پرتعیش گھر خاکسترہو گئے ہیں وہاں ویرانی کے ڈیرے ہیں۔امریکی ریاست کے جنگل میں لگنے والی آگ پر کفار کے پاس جدید مشینری ہونے کے باوجود بھی کے باوجود قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔