پاکستان میں بڑھتے حادثات اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی ذمہ داری

تحریر ڈاکٹر اعجاز احمد چشتی

جھنگ گوجرہ روڈ پر آشیانہ ملز کے قریب المناک حادثے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ اس حادثے میں معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر رائے خضر بھٹی سمیت ایک ملز ورکر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر شمائلہ خضر، جو گائناکالوجسٹ ہیں، سمیت کئی افراد شدید زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں اور نظام کی ناکامی کا ایک اور افسوسناک ثبوت ہے۔۔پاکستان میں ٹریفک حادثات کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، جہاں قواعد سے سستی یا لا علمی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے تو دوسری بھی کئی وجوہات ہیں اس طرح کے حادثات کے دوران شرح اموات اور کثیر تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کی ایک بڑی وجہ گاڑیوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں مہنگی ترین گاڑیاں پاکستان میں فروخت کرتی ہیں، لیکن ان میں سیفٹی فیچرز کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں سستی سے سستی گاڑی میں بھی سیفٹی مئیرز کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، جن میں ایئربیگز شامل ہیں جو نہ صرف فرنٹ سیٹ پر بلکہ سائیڈوں پر بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ ایئربیگز گاڑی کے الٹنے یا ٹکرانے کی صورت میں مسافروں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اکثر گاڑیاں یا تو ایئربیگز کے بغیر آتی ہیں یا اگر لگائے بھی جائیں تو وہ ہنگامی صورتحال میں کام نہیں کرتے۔حکومت کو فوری طور پر گاڑیوں میں حفاظتی معیارات کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ تمام نئی گاڑیوں میں ایئربیگز، اینٹی لاک بریک سسٹمز، اور دیگر حفاظتی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ ڈرائیورز اور عوام میں ٹریفک قوانین کی پابندی اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں تاکہ وہ عالمی معیارات کے مطابق حفاظتی فیچرز مہیا کریں۔ یہ وقت ہے کہ ٹریفک حادثات کی وجوہات اور ان کے حل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔ اس کی حکومت کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی فکر ہونی چاہئے