پاکستان میں سیاست کی کمزوریاں
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں سیاست بدترین دور میں گزر رہی ہےاور سیاسی عدم استحکام سےبہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں.پاکستان کی سیاست میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔پاکستان کہنے کو تو جمہوری ملک ہے،لیکن جمہوریت ناپید ہے۔سیاسی جماعتوں میں موروثی رنگ غالب ہےاور موروثیت کو ہی ضروری خیال کیا جاتا ہے۔اگرایک فرد اسمبلی میں موجود ہے تو وہ پورے خاندان اوربرادری کو نوازنا فرض سمجھتا ہے۔برادری اورخاندان والے بھی اپنا حق سمجھتے ہیں کہ مفاد سمیٹے جائیں۔میرٹ کو بری طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔میرٹ کو نظر انداز کرنےاور اپنوں کو نوازنےسےبہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔سیاست میں قرب اور برادری کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔بعض سیاسی جماعتیں نظریاتی ہونے کی دعوے دار ہیں لیکن ان جماعتوں میں بھی شخصیت پرستی کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔تین،تین نسلیں سیاست سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں اور حق سمجھاجاتا ہے کہ وہ سیاست میں موجودرہیں،جن کے آباؤ اجداد سیاستدان تھے۔سیاسی جماعتوں میں سربراہ پر تنقید کرنا جرم سمجھاجاتا ہے اور اس کو پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے جو یہ جرم کر دیتا ہے۔اسی خرابی کی وجہ سے بڑے بڑے زیرک اوربہترین سیاستدان آگے نہیں بڑھ سکتےاور اپنے سے کم اہلیت والوں کی تابعداری میں سیاست کر رہے ہوتے ہیں۔سیاست دان اپنےقرابت داروں کو عہدے اور مناصب بخش دیتے ہیں،حالانکہ وہ قابل نہیں ہوتے لیکن قرابت داری ہی ان کا میرٹ ہوتا ہے۔میرٹ کو نظر انداز کرنے سےملک کو نقصان پہنچتا ہے،لیکن بہتری کی طرف نہیں بڑھا جاتا۔سیاست کو خدمت سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں خدمت کی بجائے کرپشن،دھوکہ دہی اور دیگرجرائم کو ترجیح دی جاتی ہے۔پاکستان میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں،ان میں شخصیت پرستی عام ہے۔سیاست دانوں کو سزا دینا ناممکن ہو جاتا ہے،کیونکہ ماحول ایسا بن چکا ہے کہ کسی “بڑے”کو سزا دی جا سکے۔
سیاستدان اسمبلیوں میں جا کر مسائل حل کرنے کی بجائےاپنے مفاد کو ترجیح دینے لگ جاتے ہیں۔اس وقت تمام سیاستدان اکٹھے ہو جاتے ہیں جب ان کے مفاد کی بات کی جائےیا ان کو تھوڑا سا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔شور شرابہ یا بد زبانی کا استعمال بھی عام کیا جاتا ہے۔بد زبانی یا اپنے مفاد کے لیے اکٹھا ہونا،عیب نہیں سمجھا جاتا۔سیاست بہت ہی منافع بخش کاروبار بن چکی ہےاور جتنا فائدہ سیاست دانوں کو ملتا ہے،اتنا عام کاروباری فرد کو نہیں ملتا۔بہت سے ایسے وعدے کر دیے جاتے ہیں جو بعد میں پورے نہیں ہوتے اور ان کو بھی غلط نہیں سمجھا جاتا۔موروثی سیاست صرف پاکستان میں نہیں بلکہ انڈیا اور امریکہ جیسے کئی ممالک میں پائی جاتی ہے۔امریکہ جیسے ممالک میں آئین کے مطابق سیاست کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں غیر آئینی افعال بھی سر انجام دے دیے جاتے ہیں۔پاکستان میں سیاست پر قبضہ ان لوگوں کا ہے جو مالی طور پر بہت زیادہ امیر ہیں یا وسیع رقبوں کے مالک ہیں یا صنعتی لحاظ سےکافی سرمایہ کے مالک ہیں۔سندھ اور پنجاب میں پیری مریدی بھی سیاست کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے،کیونکہ اگر پیر الیکشن لڑے تو مریدوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اسی پیر کا انتخاب کریں جس کے وہ مرید ہیں۔یہ کہنا درست نہیں کہ ہر پیر،جاگیردار یا امیرآدمی کرپٹ ہوتا ہے۔خوش قسمتی سے چند اچھے افراد بھی ہیں جو ملک اور قوم کے لیے کام کر رہے ہیں،ان کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نےفیوڈل سسٹم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا،مگر بدقسمتی سے ابھی تک یہ نظام موجود ہے اور پاکستان کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔بلوچستان میں سرداری سسٹم ترقی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔پنجاب اورکےپی کےمیں برادری ازم نےسیاسی ترقی میں رکاوٹیں ڈالی ہوئی ہیں۔دیہاتوں میں برادری کی وجہ سےمتعلقہ امیدوار کو ووٹ دے دیا جاتا ہے،چاہے وہ کتنا نا اہل ہی کیوں نہ ہو۔ایک اور مسئلہ بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوام ووٹ دینے پر مجبور ہوتی ہے اور وہ ہے تھانہ کچہری کا مسئلہ،تھانہ اور کچہری کے ڈر سےغریب عوام مرضی کے بغیر ووٹ دینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔سیاست دان دولت اور طاقت کا سہارا لے کر تھانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،یوں اس طرح سیاسی مسائل بڑھتے جاتے ہیں۔بعض اوقات روزگار کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے،کیونکہ ووٹ نہ دینے کی صورت میں ملازمت یا کام سےفارغ کر دیا جاتا ہے۔بعض اوقات تھوڑا سا سرمایہ بھی خرچ کر کے ووٹ حاصل کر لیےجاتے ہیں۔اس افسوس ناک بات کا اظہار کرنا بھی ضروری ہے کہ بعض اوقات صرف ایک پلیٹ بریانی یا ایک پلیٹ حلوہ کےعوض ووٹ دے دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کے اختلافات بھی ہوتے ہیں اور یہ اختلافات عوام کی خاطر نہیں ہوتے بلکہ اپنے مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔کہنے کو تو جمہوریت ہےاور جمہوریت کی تعریف امریکی صدر ابراہام لنکن نےبہتر طریقے سے کی ہے.اس کےمطابقGovernment of the People,by the people,for the people.”عوام کی حکومت،عوام کے ذریعےاور عوام کے لیے”۔جمہوریت صرف نام کی ہے لیکن موجود نہیں ہے۔دیگر مسائل بھی ہیں جن کی وجہ سے جمہوریت پنپنے میں ناکام ہو رہی ہے۔غیر ملکی مداخلت بھی پاکستانی جمہوریت کو خاصانقصان پہنچا رہی ہے۔یہاں مڈل کلاس کا کوئی فرد سیاست میں حصہ نہیں لےسکتا کیونکہ بھاری اخراجات خرچ کرنا اس کے لیےمشکل بن جاتا ہے۔جو سیاستدان بھاری خرچ کرتے ہیں وہ بعد میں منافع سمیت وصول بھی کر لیتے ہیں۔آمریت بھی جمہوریت کے آگےبہت بڑی رکاوٹ بنتی رہی ہے۔سیاست کی کمزوریاں پاکستان کی ترقی کے آگےرکاوٹ بن کر کھڑی ہوئی ہیں۔سیاست کی بہتری کے لیے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔شور شرابہ کرنایا نعرےلگانا سیاست کو مضبوط نہیں کرتےاور نہ بدزبانی سیاست کو مضبوط کرنے کا سبب بنتی ہے۔جن ممالک میں سیاسی استحکام اپنے جوبن پر ہے،وہاں کے حالات اور یہاں کے حالات میں واضح اور بہت بڑا فرق نظرآجاتا ہے۔سیاست کواگر بہتری کی طرف بڑھانا ہےتو خامیوں کو سیاست سے نکالنا ہوگا۔موروثی سیاست کو بھی دیکھنا ہوگا،اگر ایک سیاستدان کا بیٹا یا بیٹی قابل ہے تو اس کو آگے بڑھنے کا موقع ملے،ورنہ قابل فرد کو موقع ملے تاکہ سیاسی استحکام آسکے۔عوام کو خود بھی کوششیں کرنا ہوگی کہ بہتر سیاستدان کا انتخاب کریں۔چند پیسوں یا معمولی مفاد پرووٹ نہ دیں بلکہ میرٹ کو مد نظر رکھیں۔برادری اور تعلقات کے بجائےقابلیت کو ترجیح دینی ہوگی۔منتخب کرتے وقت یہ نہ دیکھا جائے کہ یہ ہماری برادری کا ہے یا ہمارے علاقے کا ہے،اگر قابل ہے تو اس کو ووٹ دے دینا چاہیے۔ہمیں اپنی بہتری اور آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیےسنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔سیاست کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ پیغمبرانہ شعبہ ہے۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور کئی پیغمبربہت بڑے سیاستدان تھے۔اس شعبے کی قدر بھی کرنی چاہیےاور قابل افراد کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام بہتری کا ضامن ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی سیاسی استحکام آ جانا چاہیے۔











