حماس
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
اسرائیل اپنی پوری قوت لگا کر بھی حماس کو ختم نہیں کر سکاحالانکہ اتحادیوں نے بھی اس کی بھرپور مدد کی۔اب جنگ بندی معاہدہ ہو چکا ہے اورحماس نےایک فریق کے طور پرمذاکرات کیے تھے۔حماس کیا ہے؟کچھ اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔حماس دراصل فلسطینیوں کی آزادی کے لیےجدوجہد کرنے والی ایک تنظیم کا نام ہے۔اس کی باقاعدہ تشکیل 1987 میں کی گئی،لیکن بہت پہلےہی حماس جیسی مزاحمتی جدوجہدشروع ہو گئی تھی۔شیخ احمدیاسین نے اس کی باقاعدہ بنیاد رکھی اور بانیوں میں عبدالعزیزرنتیسی اور محمود الزہر بھی شامل تھے۔حماس دو گروہوں میں بٹی ہوئی ہے۔ایک گروپ معاشرتی امور سر انجام دیتا ہے،جیسے اسپتال،مذہبی اداروں کی تعمیراور سکولوں کا قیام وغیرہ اور دوسرا گروپ عسکری خدمات سر انجام دیتا ہے۔اسرائیل اسی عسکری گروپ کا سخت دشمن ہے۔حماس کےقیام کا اصل مقصد اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے نکالنا ہے۔1993 میں اوسلو امن معاہدہ ہوا اور یاسر عرفات نے قیام امن کا اعلان کیا،لیکن اس معاہدے کو حماس نےتسلیم کرنے سے انکار کر دیااور عسکری کاروائیاں جاری رکھیں۔حماس نےاوسلوامن معاہدے کو اس لیےتسلیم کرنے سے انکار کیا کہ وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔حماس کا بڑا مقصد ایک ایسی فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو ان علاقوں پر مشتمل ہو جن پر اسرائیل 1948 میں قبضہ کر چکا ہے۔پی ایل او اوسلو امن معاہدےکو تسلیم کرتی ہے لیکن حماس اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہے۔حماس کے دعوے کے مطابق قبة الصخرہ کا سنہری گنبد،اسرائیل،غزہ اور ویسٹ بینک سمیت تمام علاقے فلسطینیوں کے ہیں اور ان علاقوں کو فلسطینی نقشے میں بھی دکھایا گیا ہے۔حماس کی جنگی کاروائیاں اسرائیل کو سخت مشکلات میں ڈال رہی ہیں۔حماس کو فلسطینیوں کی اکثریت کی پسندیدگی بھی حاصل ہےاور کم فلسطینی ہیں جو حماس کے علاوہ پی ایل اوجیسی تنظیموں کو ترجیح دیتے ہیں۔
حماس کے مد مقابل الفتح تنظیم ہےاور ان دونوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔سیاسی اختلافات بھی ہیں اور دیگر نوعیت کے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔الفتح اور حماس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔حماس کو ختم کرنے کی کوششیں کافی عرصے سے جاری ہیں،لیکن اس کا خاتمہ نہ ہو سکا اور یہ اپنا سفر جاری رکھےہوئے ہے۔22 مارچ 2004 میں حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کو گائیڈڈ میزائیل حملہ میں شہید کر دیا گیا تھا اور دوسرے رہنماؤں کو بھی شہید کیاگیاہے لیکن حماس نے اپنا وجود برقرار رکھا ہوا ہے۔حماس اور الفتح کے درمیان سنگین نوعیت کے جھگڑے بھی ہوئے ہیں۔سب سے بڑا جھگڑا07_2006میں ہوا جس کے دوران تقریبا 600 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔حماس کو عوامی سطح پر مقبولیت بہت زیادہ حاصل ہے۔حماس ایک نظریاتی جماعت کے طور پرتسلیم کی جا چکی ہے۔حماس کو ایک نظریے کے طور پر دیکھنا چاہیےاور نظریات کو آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔اس کے ارکان نظریے کے تحت کام کرتے ہیں۔حماس کوعوامی سپورٹ بھی حاصل ہےاور بین الاقوامی طور پر بھی اس کی مدد کی جاتی ہے،حالانکہ دنیا کے بڑے بڑے ممالک حماس کے سخت مخالف ہیں۔حماس کے تحت جہاں عوامی فلاحی منصوبے چلتے ہیں،وہاں سیکیورٹی جیسے مسائل کو بھی دیکھتی ہے۔اس نےاسرائیلی آرمی پرخودکش حملے بھی کیے ہیں اوربراہ راست نشانہ بھی بنایا ہے۔اسرائیل کی خواہش ہے کہ سیکورٹی اور انتظامی امور حماس کوقبضے میں نہیں رکھنے چاہیےاورنہ کسی اور فلسطینی اتھارٹی کو کنٹرول میں دینےکاخواہش مند ہے،بلکہ اس کی خواہش ہے کہ انتظامی امور کے علاوہ سکیورٹی امور بھی اپنے کنٹرول میں رکھے۔حال ہی میں جو امن معاہدہ ہوا ہےاور اس معاہدے کی وجہ سےقیدیوں کو اسرائیل چھوڑنے کا پابند ہے لیکن وہ حماس کے ارکان کو چھوڑنا نہیں چاہتا اور نہ ان قیدیوں کو چھوڑنا چاہتا ہے جواکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حملہ کرنے میں ملوث تھے۔
مغربی میڈیا حماس کو دہشت گردکہتا ہےکیونکہ یورپی یونین،امریکہ اور زیادہ تر مغربی ممالک نےحماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔یہ عالمی منافقت ہے کہ مظلوموں کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔پوری دنیا کو اچھی طرح علم ہے کہ اسرائیلی ریاست،غیر قانونی اور ناجائز ریاست ہے۔اسرائیل مشرق وسطی کے امن کے لیےخطرناکی ثابت کر چکا ہے،لیکن اس کے باوجود بھی حماس کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔اسرائیل نے غزہ پربے تحاشہ گولہ وبارود برسایا ہےاور اس کی دہشت گردی کانشانہ کئی ملک اکثروبیشتر بنتے رہتے ہیں۔مغربی ممالک میں کچھ ممالک جیسے سوئٹزرلینڈ،ناروے وغیرہ حماس کے ساتھ بہتر تعلقات رکھتے ہیں۔قطر کےبھی حماس کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اوریہ حماس کی مددبھی اکثرو پیشتر کرتا رہاہے۔2012 میں قطری امیر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی پہلے غیر ملکی سربراہ تھے جنہوں نےحماس کی اعلی قیادت سے ملاقات کی تھی۔حماس کا اتحادی بھی اس کو کہا جا سکتا ہے۔ایران کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ حماس کی مدد کرتا ہے۔اکتوبر 2023 میں جواسرائیل پر راکٹ داغے گئے تھے،ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران نے مہیا کیے تھے۔اردن کے ساتھ پہلے بہترین تعلقات تھے،شاہ حسین حماس کی کافی امداد کرتے تھے اور ان کے دفاتر بھی اردن میں موجود تھےلیکن ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹےعبداللہ دوم نے حماس کے دفاتر بھی بند کر دیےاور امداد سے بھی ہاتھ روک دیا۔اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مغربی عوام کی کثیر تعداد فلسطینیوں کو مظلوم سمجھتی ہےاور اس کے بارے میں اکثراحتجاجات اور مظاہرے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔عالمی عدالت انصاف بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو عالمی مجرم قرار دےچکی ہے۔
اسرائیل کے نزدیک حماس مضبوط دشمن ہے،کیونکہ پندرہ ماہ کی جنگ کے بعد بھی حماس کو ختم نہیں کیا جا سکااور اس کے خاتمے کے لیے پہلے سے بھی کوششیں جاری ہیں۔حماس کاایک گروپ اسلامک جہادبھی ہےاوریہ گروپ اسرائیل کے لیےخطرناک ثابت ہو رہا ہے۔اس جنگ کے دوران اسرائیل نے17 ہزار کے قریب جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے،لیکن یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ واقعی وہ حماس کے اراکین تھے یاعام شہری؟حماس نہ تو کوئی سیاسی تحریک ہے اور نہ فوجی بلکہ اس کونظریاتی تحریک سمجھا جاتا ہے۔اب حماس کے ارکان کوشش کر رہے ہیں کہ غزہ میں حالات کو بہتر بنایا جائے۔عوامی مقبولیت کے پیش نظر حماس کا خاتمہ ناممکن لگتا ہے۔حماس کو تباہ کرنا اسرائیل کی اولین ترجیح میں شامل ہےاور اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ اسرائیل دوبارہ جنگ نہ شروع کر دے۔اس بات کی ضرورت ہے کہ دوبارہ جنگ نہ چھڑنے پائے۔حماس کی کوشش ہے کہ تباہ حال شہری دوبارہ سیٹ ہو جائیں۔ان کی بحالی کے دوران غیر ملکی طاقتیں اندرونی طورپرجھگڑااور فساد بھی کرا سکتی ہیں،کیونکہ اسرائیل سمیت کچھ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ غزہ پرامن رہے۔فلسطینی اپنے حقوق مانگ رہے ہیں اور یہ حقوق نہ تو غیر قانونی وغیرآئینی ہیں اور نہ کوئی غیر اخلاقی،بلکہ ہر لحاظ سےدرست ہیں۔اسلامی ممالک فوری طور پر غزہ کو بحال کرنے میں مدد کریں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے۔حماس کا وجود باقی رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ حماس فلسطینیوں کی حقیقی جماعت ہے۔









