ایس ایچ او گڑھ مہاراجہ مہر اخلاق نول دال کا پانی رات ایک بجے کی کہانی اور رانا محمد اسلم

تحریر علی امجد چوہدری


مہر اخلاق نول جھنگ پولیس کے انتہائی vigilant اور efficient پولیس آفیسرز کی صف اول میں ہیں جھنگ میں تعینات ہونے والے ہر ڈی پی او کی گڈ بک میں رہے ہیں تھانے سے تھانے پوسٹنگ ان کی کارکردگی پر مہر ثبت کرتی ہے چند روز قبل سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی گڑھ مہاراجہ رانا محمد اسلم نے مجھے بتلایا کہ ایس ایچ او مہر اخلاق نول رات ایک بجے تک بھی انوسٹیگیشن کا پراسس جاری رکھتے ہیں pendency کو ختم کرکے تفشیشی معاملات کو جلد سے جلد نبٹا رہے ہیں میرے لیئے یہ سب اس وقت ناقابل یقین تھا کہ ایک ایس ایچ او کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ رات بارہ ایک بجے تک پارٹیز کی سماعت کرے مگر آج سب سوالات کا جواب مل گیا تھانہ گڑھ مہاراجہ جانا ہوا تو صدر انجمن تاجران شیخ احسان الٰہی سے ملاقات ہوگی یہی الفاظ تھے کہ طوالت کا شکار ہونے والی تفشیشں بھی فیصلہ کن مراحل کو پہنچ چکی ہیں رات ایک بجے تک انوسٹیگیشن پھر patrolling صبح تک اور چند گھنٹوں کے آرام کے بعد پھر تھانے میں یہی معاملات ایس ایچ او مہر اخلاق کے معمولات انتہائی حیران کن ہیں میں تھانے سے نکلا اور پھر کچھ دیر کے بعد واپس آنا ہوا تو خیال تھا کہ ایس ایچ او صاحب روم پر جا چکے ہونگے مگر محرر کے کمرے میں تھانے کے کانسٹیبلز سے لے کر ایس ایچ او کا دستر خوان لگا تھا خیال تھا کہ کوئی دیسی مرغی یا بکرے کی خوشبو ملے گی مگر کہاں یہ تو دال تھی اور وہ بھی وافر شوربے والی منظر انتہائی حیران کن تھا مگر اب قابل یقین تھا اور خود میں اس کا عینی شاہد بن چکا تھا دو مناظر انتہائی شاندار تھے ایک ماتحت عملے کے ساتھ تناول کرنا ور دوسرا ہوٹلنگ کے بہانے سائلین کا وقت ضائع کرنے سے اجتناب
پولیس کا منفی چہرہ دکھانے کی بڑی کوشش کی جاتی ہے مگر پولیس کا ایک خوبصورت چہرہ بھی ہے جو بہت سارے ناقدین کے ہاضمے کو خراب کر دیتا ہے مگر مہر اخلاق نول جیسے پولیس کے خوبصورت چہرے ناقدین کے اس ہاضمے کو ہمیشہ ہی خراب رکھتے ہیں درست ہونے ہی نہیں دیتے

علی امجد چوہدری