بے چینی اور ایس ایچ او گڑھ مہاراجہ مہر اخلاق احمد نول

تحریر علی امجد چوہدری

گزشتہ سہہ پہر گڑھ موڑ پر ہونے افسوس ناک واقعے کہ جس میں جرائم پیشہ افراد نے نہ صرف بھاری رقم لوٹ لی بلکہ نوجوان کو زخمی بھی کردیا اس واردات کے بعد رات گئے میری ملاقات ایس ایچ او مہر اخلاق سے ہوئی میری یہ ملاقات ڈویژنل امن کمیٹی کے ممبر مولانا انور علی صاحب اور معروف عالم دین علامہ قاری محمد ریاض الازہری کے ہمراہ ہوئی ہمیں بھی تھانے میں ان کا کافی دیر انتظار کرنا پڑا کیونکہ یہ گڑھ موڑ کے جائے وقوع پر موجود تھے یہ واپسی پر کافی زیادہ disturb تھے اس سے قبل کی کئی ملاقاتوں میں آج تک ان کے چہرے پر اتنے تفکرات نہیں دیکھے تھے جتنے اس بار دیکھے یہ بار بار اس CCTV footage کو دیکھے جا رہے تھے اور ان کے تیور سخت سے سخت ہوتے جا رہے تھے مولانا انور علی صاحب کے استفسار پر کہ مہر صاحب اس سے پہلے آپ کو اتنے شدید غصے میں نہیں دیکھا بالآخر مہر اخلاق نول پھٹ پڑے کہ مولانا صاحب مالی نقصان بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے یہ نقصان کے ساتھ ایک بڑی توہین بھی ہے مگر مجھے اس سے زیادہ دکھ اس لڑکے کے زخمی ہونے کا ہے مہر صاحب نے پہلو بدلا جہاں بے چینی کے اثرات کچھ زیادہ ہی تھے ان کی اس بے چینی میں شدت اتنی دکھائی دے رہی تھی کہ یقین ہوچلا تھا کہ گڑھ موڑ کے چوہدری عرفان آئرن سٹور پر واردات کرنے اس نوجوان کو زخمی کرنے والے شاید زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں کیونکہ مہر اخلاق نول کے تیور ایسے لگ رہے تھے گویا ان کے اپنے بیٹے کو زخمی کیا گیا ہو
یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اتنی سرعام بدمعاشی کرنے والے قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے

علی امجد چوہدری