پاکستان کانازک دور
تحریر: اللہ نوازخان
پاکستان واقعی ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔مسائل سنگین تر ہو چکے ہیں۔اقتصادی حالات بہت حد تک بگڑ گئے ہیں۔سیاسی عدم استحکام نےانتشار پیدا کر رکھا ہےاور یہ انتشار بے قابو ہو رہا ہے۔مہنگائی نے عوام کی حالت پتلی کر دی ہے۔روپے کی ساکھ بہت حد تک گر چکی ہے۔بدامنی مسلسل پھیل رہی ہے۔دہشت گردوں نے پورے پاکستان کو نشانہ بنا رکھا ہے۔حکومت پاکستان نےبجلی کی قیمتوں میں تقریبا سات روپے اور کچھ پیسے کم کیے تو اس کو بہت بڑی کامیابی کہا جارہاہے۔بجلی کی قیمتیں پہلے تو بہت زیادہ بڑھا دی گئی،مزیدستم یہ کہ سلیب سسٹم کے ذریعےعوام پراضافی بوجھ ڈالا گیا۔بجلی کی قیمتیں اتنی ہونی چاہیں، جن کوعام آدمی آسانی سے ادا کر سکے۔اسمبلیوں کے ممبران نے اپنی تنخواہوں میں تواضافہ کر لیا،لیکن عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا گیا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مہنگائی کا بوجھ کم ہونے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔عوام کو اتنا تنگ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔آئی ایم ایف کے آگے ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے جب تک نہیں نکلے گا اس وقت تک خوشحال نہیں ہو سکتا۔آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالنے کے لیے سیاستدان کوشش نہیں کرتے بلکہ مزید پھنسا دیا جاتا ہے۔حتی کہ ہر حکومت دعوی کرتی رہی ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سےنجات دلائی جائے گی،لیکن کچھ نہیں کیا جاتا۔تنقید برائے اصلاح کی جائے تو حکومت کو تنقید برائے اصلاح بھی پسند نہیں۔حالات کی خرابی کی وجہ سے پاکستان میں نفسیاتی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ایک فرد کی گزر بسر مشکل سے ہویا اتنا لاچار ہو جائے کہ بات خودکشی تک جا پہنچے تو لازمی بات ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہی بنے گا۔بجلی مہنگی،گیس مہنگی،چینی مہنگی،گھی مہنگا یعنی ضرورت کی ہر چیز مہنگی ہو چکی ہےاور عوام کے پاس خریداری کے لیے رقم ہی نہیں۔ادویات کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں اور یہ بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔کس بات کا رونا رویا جائے؟پاکستان کے حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ عوام انہونیوں کا انتظار کر رہی ہے۔جب غربت بڑھتی ہےتو مسائل بھی بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اوریہ مسائل جرائم پیدا کر دیتے ہیں۔ڈکیتیاں اور چوریاں عام ہو چکی ہیں۔بات اس حد تک آپہنچی ہےکہ اداروں پر عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔کئی جگہوں پر ڈکیتوں کو اگر عوام گرفتار کرلے تو عوامی غصہ ان ڈکیتوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔خراب حالات کو دیکھ کر واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے،لیکن یہ نہیں پتاکہ نازک دور کب ختم ہوگا؟سیاست دان اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیں۔عوام بھی مشکل اور نازک وقت کو ٹالنے کی جدوجہد کرے۔بے پناہ دولت کا مالک ایٹمی پاکستان اس حد تک نہیں پہنچا کہ حالات سدھر نہ سکیں۔حالات کوشش سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔مہنگائی،سیاسی عدم استحکام،معاشی حالات سمیت سب مسائل حل ہو سکتے ہیں،لیکن اس کے لیے پوری قوم کو بیدار ہونا ہوگا۔دہشت گردی،مہنگائی،سیاسی عدم استحکام اور تمام مسائل کے ساتھ فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی۔فیصلہ کن جنگ لڑتے وقت قوم اور تمام اداروں کو متحد ہوناپڑےگا۔پاکستان کا نازک دور چند سالوں میں ہی ختم ہو سکتا ہے۔قوم کو اعتماد میں لے کر حکومت آگے بڑھ سکتی ہے۔اس بات کوتسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ پاکستان واقعی نازک دور سے گزر رہا ہے،لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نازک دور کو بہترین دور میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔












