انڈیاپانی روکنےکی غلطی نہ کرے

تحریر: اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

انڈیااور پاکستان کے درمیان ہمیشہ تنازعات موجود رہتے ہیں۔کافی عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تنازعات حل نہیں ہو پائے،بعض اوقات جنگ کاامکان پیدا ہو جاتا ہے۔تین تو بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بعد میں نہیں لڑی جائیں گی۔مستقبل میں اگر کوئی جنگ چھڑی تو ایٹمی ہتھیار بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بڑی تباہی لا سکتا ہے۔موجودہ تنازعات میں ایک بہت بڑا تنازعہ پانی کا بھی شروع ہو چکا ہے۔1960 میں ورلڈ بینک کی ضامنی میں سندھ طاس معاہدہ ہوا۔یہ معاہدہ کافی سال گزرنے کے بعد تشکیل پایا۔پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے بعد کافی عرصہ تک پانی کا مسئلہ موجود رہا۔آخر کار ورلڈ بینک اور عالمی برادری کی مداخلت کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے نام پر ایک معاہدہ ہوا۔اس معاہدے میں مختلف دریاؤں کے پانی کوتقسیم کرنےپر اتفاق ہوا۔معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریا بیاس،راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اس کا ان تین دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہوگا جب کہ جموں و کشمیر سے نکلنے والےمغربی دریا چناب،جیلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔اس معاہدے کی پاسداری ہوتی رہی،حالانکہ تین بڑی جنگیں بھی لڑی گئیں لیکن معاہدہ موجود رہا۔اس معاہدے پر کافی سوچ بچار کی گئی تھی۔اس معاہدے میں پاکستان کے ساتھ زیادتی کے امکانات بھی موجود ہیں،لیکن سندھ طاس معاہدہ پاکستان مکمل طور پر تسلیم کر رہا ہے۔اس وقت شدید تناؤ پیدا ہوا جب انڈیا نےڈیم بنانا شروع کر دیا۔ڈیم بننے سےپانی کے بہاؤ میں کمی آگئی۔پاکستان نے ورلڈ بینک کو آگاہ کیا۔پاکستان بھی ڈیم بنا سکتاتھااوراب بھی بنا سکتاہے لیکن معاہدے کی وجہ سےڈیم بنانے سے گریز کر رہا ہے۔معاہدے پر عمل ہوتا رہا لیکن حال ہی میں انڈیا نے پاکستان کا پانی روک دیا۔گزشتہ ماہ پہلگام میں ایک دہشت گردی کا واقعہ ہوا اور اس کا الزام انڈیا نے پاکستان پر لگا دیا۔بہرحال کشیدگی بڑھی لیکن حالات پر قابو پا لیا گیا۔حالات بہتر ہونے کے باوجود بھی انڈیا نےپانی کا مسئلہ حل نہ کیا۔پاکستان کی طرف سے کہا گیاکہ پانی کی بندش کو اعلان جنگ سمجھا جا رہا ہے۔پاکستان نےاپنا مقدمہ ورلڈ بینک کے سامنے پیش کیا۔پاکستان انڈیا سمیت عالمی برادری بھی کو آگاہ کر چکا ہے کہ پاکستان اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔پاکستان اگر پانی سےدستبردار ہو گیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ پاکستان میں قحط پیدا ہو جائے۔
پانی زندگی کا ایک اہم جزو ہے اور پانی کے بغیر زندہ رہنے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔اگر پاکستان کا پانی روکنے پر انڈیا بضد رہا تو جنگ چھڑ جائے گی۔جس طرح واضح ہے کہ کافی سوچ بچار کے بعد یہ معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیااور اس میں ایک یہ شرط بھی رکھی گئی کہ ایک فریق معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔انڈیا اگر معاہدے کو معطل کرتا ہے تو یہ اخلاقی طور پر بھی برا ہےاور بین الاقوامی قوانین کی بھی پامالی ہے۔دریابھی اس طرح بہتے ہیں کہ ایک دوسرے کا پانی روکنا مشکل ہے،لیکن ڈیم بنا کر یا کوئی اور سرگرمی شروع کر کے دریاؤں کےبہاؤ میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہےاوررکاوٹ ڈال کر ان کا رخ تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔انڈیا اگر پانی کو روکتا ہے تو پاکستان کی پچیس کروڑ عوام شدید متاثر ہوگی اور غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔غذائی بحران اس لیے پیدا ہو جائے گا کہ زراعت کا دارو مدار دریائی پانی پر ہےاور پانی نہ ملنے کی وجہ سےزراعت کا شعبہ متاثر ہو جائے گا۔پاکستان بھی لازما کچھ نہ کچھ جوابی رد عمل دے سکتا ہےاور یہ رد عمل خطرناک جنگ کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔انڈیا مسلسل ایسی حرکات کر رہا ہے جس سے تناؤ پیدا ہوتا رہے۔پاکستان کی طرف سے معاہدے کی پاسداری ہو رہی ہے لیکن انڈیا کی طرف سے معاہدے کی پاسداری نہ ہونا افسوسناک ہے۔
پاکستان کا پانی روکنا،پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔اس کے لیے پاکستان کی طرف سے وضاحت کی جا چکی ہے کہ پانی روکنا جنگ سمجھا جائے گا۔دوسرا مسئلہ انڈیا کے لیے یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ چین بھی دریائے براہما پترا کا پانی روک سکتا ہے۔انڈیا اگر پاکستان کا پانی روکتا ہےتوچین کو بھی پانی روکنےکا حق حاصل ہوجائےگا کہ وہ انڈیا کا پانی روک دے۔ایک عالمی جریدےدی ڈپلومیٹ نے لکھا ہے کہ براہما پترا کا پانی بھارت کے تازہ پانی کا تقریبا 30 فیصد بنتا ہےاور اس کے علاوہ دریا سے آنے والا پانی بھارت کی مجموعی پن بجلی پیدا کرنے کی 44 فیصد صلاحیت رکھتا ہے۔پانی بند کرنے کی صورت میں پاکستان ،انڈیا کے ساتھ جنگ شروع کر سکتا ہے اور چین بھی پانی روک کر انڈیا کو کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس وقت موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سےپاکستان میں پانی کی شدید کمی ہےاور اگر انڈیا نے پانی روک لیا تو پاکستان کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق چین بھی ڈیم تعمیر کر کےپانی کو روک سکتا ہے۔سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کو سنگین خطرات میں دھکیل سکتی ہے۔پاکستان “اہم ضرورت” پانی کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا،کیونکہ چھوڑنے کی صورت میں بہت سا نقصان ہوگااور اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے پاکستان جنگ چھیڑ سکتا ہے۔انڈیا اچھی طرح جان چکا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے کس طرح انڈیا کی حرکت کا جواب دیا تھا۔انڈیا کے جس طرح رافیل طیارے گرائے گئے اورانڈیا کے اندر گھس کر حملہ کیا گیا تو یہ ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ پاکستان اتنا تر نوالہ نہیں۔جنگ کی صورت میں پاکستان کو چین کا تعاون بھی حاصل ہو سکتا ہےجو انڈیا کے لیے خاصہ خطرناک ہوگا۔انڈین گورنمنٹ جتنی جلدی سمجھ جائے اس کے لیے بہتر ہوگا کہ پاکستان کا پانی روکنا انڈیا کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔چین بھی دریا کا پانی روک کر انڈیا کو خاصہ جھٹکا پہنچا سکتا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا انڈیا اگر پانی روکتاہےتو اس کے لیےیہ عمل بھاری پڑ سکتا ہے۔پاکستان کے ساتھ زیادتی کر کے انڈیا خود بھی نقصان اٹھائے گا۔ہو سکتا ہےنریندرا مودی سمجھےکہ پاکستان کا پانی روک کرسیاسی مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے تویہ اس کی خام خیالی ہوگی۔پاکستانی رد عمل سے بچنے کے لیے بھارتی عوام ہر حال میں مودی کو اس حرکت سے روکےتاکہ اشتعال نہ پھیلے۔بہتر یہی ہے کہ انڈیا پانی نہ روکے ورنہ یہ غلطی خطرناک ہوگی۔