ٹوبہ ٹیک سنگھ – پانی پلانے والا درویش
تحریر ۔محمد زاہد مجید انور
پنجاب کی سرزمین کئی کہانیوں، روایتوں اور بزرگوں کی گواہ ہے۔ انہی میں ایک نام ایسا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ صرف ایک شہر نہیں رہا بلکہ ایک علامت بن گیا ہے۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے “ٹوبہ ٹیک سنگھ” کی۔ آج جب ہم اس نام کو سنتے ہیں تو ذہن میں پہلا خیال سعادت حسن منٹو کی افسانوی تخلیق کا آتا ہے، لیکن اس نام کے پیچھے ایک حقیقی اور روحانی شخصیت کی کہانی پوشیدہ ہے جو وقت کے دھندلکوں میں چھپ گئی ہے۔کہا جاتا ہے کہ برصغیر کے اس حصے میں، جہاں آج ٹوبہ ٹیک سنگھ واقع ہے، وہاں ایک درویش صفت بزرگ، ٹیک سنگھ نامی سکھ رہتے تھے۔ وہ ایک نہایت نیک دل، خلوص سے بھرپور اور انسان دوست شخص تھے۔ ان کا معمول یہ تھا کہ وہ اس علاقے سے گزرنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتے، ان کے سائے میں بیٹھنے کا انتظام کرتے اور ان کی مدد کرتے۔ اس وقت یہ علاقہ بنجر اور غیر آباد ہوا کرتا تھا، گرمیوں میں پیاس سے بلکتے مسافر جب اس نیک انسان کی خدمت سے سیراب ہو جاتے، تو ان کی دعائیں اس مرد درویش کے حق میں بلند ہوتیں۔رفتہ رفتہ یہ “ٹیک سنگھ” کا ٹوبہ یعنی کنواں، لوگوں کے لیے ایک نشانِ راہ بن گیا۔ “ٹیک سنگھ کا ٹوبہ کہاں ہے؟” کی صدائیں سنائی دینے لگیں۔ یہی کنواں، یہی جگہ، ایک گاؤں میں بدلی، پھر قصبہ بنا اور آخرکار ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا۔ لیکن لوگوں کے دلوں میں ٹیک سنگھ کی محبت اور اس کی نیکیوں کی یاد باقی رہی۔ چنانچہ جب اس بستی کو باضابطہ طور پر کوئی نام دینا تھا، تو عوامی مطالبے پر اس کا نام ٹوبہ ٹیک سنگھ رکھ دیا گیا — یعنی “ٹیک سنگھ کا کنواں”۔یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خدمت خلق اور بے غرض محبت کی بنیاد پر بھی تاریخ رقم کی جا سکتی ہے۔ آج جب ہم جدید دور میں اپنی ذات کے گرد گھومتے ہیں، تو ٹیک سنگھ جیسی شخصیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل انسان وہی ہے جو دوسروں کے لیے جیتا ہے، جو تھکے ہارے مسافروں کے لیے سایہ بن جائے، جو پیاسوں کو پانی پلائے اور راستوں کو آسان بنائے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ، صرف ایک جغرافیائی نام نہیں، بلکہ ایک عہد ہے – انسانیت کا، ایثار کا، اور محبت کا۔ کیا ہم میں سے کوئی آج کے دور میں “ٹیک سنگھ” بننے کی ہمت رکھتا ہے۔










