21 جون — محترمہ بےنظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ: ایک بےنظیر کردار کی یادگار دن

آج 21 جون کو پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیرِاعظم، مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون حکمران اور جدوجہد و جرأت کی روشن علامت محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کی 72ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ بےنظیر صرف ایک شخصیت نہیں تھیں، وہ ایک نظریہ، ایک استعارہ اور ایک تاریخی تسلسل کا نام تھیں، جس میں عوامی سیاست، جمہوریت، اور مزاحمت یکجا ہو کر جگمگاتے ہیں۔ بےنظیر بھٹو نے اپنی فکری وراثت ذوالفقار علی بھٹو شہید سے حاصل کی، مگر اسے اپنی جدوجہد، قربانی اور عوامی رابطے سے خود اپنی شناخت دی۔ انہوں نے آمریتوں کے خلاف بے خوف آواز بلند کی، طویل جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن کبھی نظریاتی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں عورت کی سیاسی قیادت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، محترمہ بےنظیر بھٹو نے عزم، ذہانت اور وقار سے ثابت کیا کہ عورت قیادت کے اعلیٰ معیار پر پورا اتر سکتی ہے۔ اُن کی سیاست صرف اقتدار کے گرد نہیں گھومتی تھی، بلکہ عوامی مسائل، خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت، اور جمہوری استحکام ان کا اصل مشن تھا۔
27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں اُن کی شہادت دراصل ایک آواز کا خاموش ہونا نہیں بلکہ جمہوریت، آزادی، اور سچائی کے بیانیے کا امر ہونا تھا۔ بےنظیر کو جسمانی طور پر ختم ضرور کر دیا گیا، لیکن ان کا وژن آج بھی پاکستان کے سیاسی، سماجی اور عوامی شعور میں زندہ ہے۔
“اے پروردگار! محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کی قربانی کو قبول فرما، اُن کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والے دلیر، بااصول اور سچے رہنما ہمیں عطا فرما، جو پاکستان کو ترقی، انصاف اور مساوات کی راہ پر گامزن کریں۔ آمین!”