ملک محمد مقبول کھوکھر مرحوم — خدمت، خلوص اور عبادت کا استعارہ
تحریر وترتیب ۔۔۔۔محمد زاہد مجید انور
*شہرِ ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک ایسی عظیم اور قابلِ فخر شخصیت سے محروم ہو گیا ہے جس نے اپنی ساری زندگی سادگی، دیانت، خلوص اور خدمتِ خلق کے جذبے سے گزاری۔ فوٹوگرافی کے شعبے میں شہرت حاصل کرنے والے اور بعدازاں سول ڈیفنس آفس کے چیف وارڈن کے طور پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والے ملک محمد مقبول کھوکھر مرحوم کی یادیں اہلِ علاقہ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔مرحوم 1970ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ملک یعقوب (مرحوم) ایک نیک نفس، بااخلاق اور محنتی انسان تھے جنہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت اعلیٰ اقدار کی بنیاد پر کی۔ ابتدائی تعلیم آپ نے گورنمنٹ سیکنڈری ہائی اسکول ٹوبہ ٹیک سنگھ سے حاصل کی، اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز کیا۔1990ء میں آپ نے انفارمیشن آفس میں بطور فوٹوگرافر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ آپ کی فوٹوگرافی میں مہارت، تخلیقی بصیرت اور پروفیشنلزم نے جلد ہی آپ کو ممتاز مقام عطا کیا۔ شہر کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور حکومتی پروگرامز میں آپ کا کردار نہایت اہم رہا۔ جہاں کہیں کیمرہ تھا، وہاں ملک مقبول کھوکھر کی موجودگی ایک معیار کی علامت سمجھی جاتی تھی۔فوٹوگرافی کے شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دینے کے بعد آپ نے سول ڈیفنس آفس میں بطور چیف وارڈن اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کیا۔ آپ نہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں فرنٹ لائن پر نظر آتے بلکہ نوجوانوں کو رضاکاریت، فرض شناسی اور مدد خلق کے جذبے سے سرشار کرنا بھی آپ کی ترجیحات میں شامل رہا۔زندگی کے آخری دو برسوں میں آپ نے خود کو روحانی اور مذہبی طور پر مزید مضبوط کرنے کیلئے معروف مذہبی اسکالر پیر قمر شکور شکوری آف کمالیہ کے دربار میں اپنی وابستگی اختیار کی۔ اس دربار میں آپ نے نہایت خاموشی، خلوص اور بے لوثی سے دینی و سماجی خدمات انجام دیں۔ وہاں پر نہ صرف آپ نے باقاعدگی سے نماز کی پابندی کی بلکہ اپنے اندر روحانی انقلاب برپا کیا۔ملک محمد مقبول کھوکھر مرحوم کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ پروفیشنل کامیابی کے ساتھ روحانی بلندی بھی حاصل کی جا سکتی ہے، اگر نیت نیک ہو، عمل سچا ہو، اور ارادہ خالص ہو۔ مرحوم کی شخصیت میں عاجزی، شرافت، نرمی اور خدمت کا حسین امتزاج تھا۔آج جب وہ ہم میں نہیں رہے، شہر ان کی کمی شدت سے محسوس کر رہا ہے۔ ان کی خدمات، ان کی یادیں، اور ان کے اچھے اخلاق ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔*












