میاں ثاقب شہزاد — ماڈل بازار کی کامیابی کی خاموش داستان
تحریر: محمد زاہد مجید انور

جب بات خدمت، دیانت داری اور محنت کی آئے تو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ماڈل بازار کے منیجر میاں ثاقب شہزاد کا نام بطور مثال سامنے آتا ہے۔ ایک سادہ، شریف اور محنتی شخصیت جنہوں نے عوامی فلاح اور سہولت کو اپنا مشن بنا لیا ہے، آج وہ ماڈل بازار کی کامیابی کے پس منظر میں ایک مضبوط اور بااعتماد ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔میاں ثاقب شہزاد 1978ء میں نواحی گاؤں چک نمبر 293 ج ب دار پورہ کے ایک باعزت اور مہذب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم چوہدری عطاء محمد مرحوم پنجاب پولیس کے ریٹائرڈ افسر تھے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی فرض شناسی، ایمانداری اور اعلی اخلاقی اقدار کے ساتھ گزاری۔ یہ تربیت ہی تھی جس نے میاں ثاقب شہزاد کی شخصیت کو نکھارا اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم نہایت اچھے نمبروں سے مکمل کی اور 1993ء میں میٹرک کا امتحان نمایاں کامیابی سے پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم کا شوق انہیں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ٹوبہ ٹیک سنگھ لے گیا جہاں انہوں نے 1997ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پی ٹی سی ایل جیسے بڑے ادارے میں ایک اہم عہدے پر فائز ہوئے، جہاں انہوں نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ان کی قابلیت اور دیانت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے قریبی ساتھی اور موجودہ وفاقی وزیر برائے بحری امور، حاجی جنید انوار چوہدری نے انہیں ماڈل بازار میں بطور منیجر مقرر کرنے کے لیے اپنا اعتماد دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف بازار کی سمت بدل دی بلکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک نئی بنیاد فراہم کی۔میاں ثاقب شہزاد نے اپنی انتظامی صلاحیتوں، انتھک محنت اور وژن سے ماڈل بازار کو ایک کامیاب، منظم اور عوام دوست مرکز میں بدل دیا۔ عوام کی سہولت کے لیے ہفتے میں دو خصوصی سہولت بازاروں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں سستی اور معیاری اشیائے ضروریہ ایک چھت تلے فراہم کی جاتی ہیں۔ ان بازاروں میں مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف مل رہا ہے، جو حکومت کی عوامی پالیسیوں کا عملی عکس ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بازار میں صفائی و ستھرائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، جبکہ سخت سیکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ خریداروں کو محفوظ اور پرامن ماحول میسر ہو۔ یہ تمام انتظامات میاں ثاقب شہزاد کی ذاتی نگرانی میں عمل میں لائے جاتے ہیں، جو ان کی ذمہ داری کا بھرپور اظہار ہے۔میاں ثاقب شہزاد کا وژن صرف آج تک محدود نہیں بلکہ وہ مستقبل میں ماڈل بازار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ہر شہری کو معیاری، سستی اور باوقار خریداری کا تجربہ حاصل ہو، جو ان کی عوامی خدمت کے جذبے کی واضح عکاسی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ میاں ثاقب شہزاد جیسے افراد ہی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ وہ خاموشی سے کام کرتے ہیں، واہ واہ کے طلبگار نہیں ہوتے، لیکن ان کا کام بولتا ہے، اور ان کے اقدامات عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ ایسے محنتی اور فرض شناس افراد کی حوصلہ افزائی کرے، کیونکہ یہی لوگ عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔