سیف سٹی: ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تحفظِ عامہ کی نئی امید
تحریر: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے پُرامن مگر ترقی پذیر ضلع کے لیے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ عوامی فلاح و بہبود اور امن و امان کی بحالی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پولیسنگ کے نظام میں ایک انقلابی قدم مانا جا رہا ہے، اور اسی تناظر میں “سیف سٹی” منصوبہ امید کی نئی کرن بن کر سامنے آ رہا ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبادت نثار سے حالیہ خصوصی ملاقات کے دوران انہوں نے واضح انداز میں اس امر کا اظہار کیا کہ آئی جی پنجاب کی اولین ترجیحات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ شامل ہے اور سیف سٹی پروجیکٹ اسی وژن کی عملی تعبیر ہے۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے سیف سٹی منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، اور بہت جلد اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے گا۔ڈی پی او عبادت نثار نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام، اور پولیس رسپانس سسٹم کی بہتری جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان سہولیات سے نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری کارروائی کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں گے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں کے ضلعی صدر کی حیثیت سے راقم نے بھی اس بات پر زور دیا کہ صحافی برادری سیف سٹی جیسے مثبت اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور عوامی شعور بیدار کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیف سٹی صرف ایک پروجیکٹ نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ، اعتماد اور ریاستی ذمہ داری کے احساس کا عملی ثبوت ہے۔ اگر اس پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کیا جائے تو نہ صرف جرائم کا گراف نیچے آئے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بحال ہوگا آخر میں ہم ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے میں بھرپور محنت اور لگن سے کام لیا۔ اب وقت ہے کہ شہری بھی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور “محفوظ ٹوبہ، خوشحال ٹوبہ” کا خواب شرمندۂ تعبیر بنائیں۔*










