ظلم، خاندانی رنجش اور ایک اور گھر کا اجڑ جانا

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی گاؤں چک نمبر 186 گ ب میں پیش آنے والا فائرنگ کا واقعہ ایک اور المناک باب کا اضافہ ہے، جو ہمارے معاشرتی رویوں، عدم برداشت، اور پرانی خاندانی دشمنیوں کے بھیانک انجام کی جھلک پیش کرتا ہے۔ اس واقعے میں ایک معصوم ماں جان سے گئی اور ایک خاتون زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔تفصیلات کے مطابق پرانی خاندانی رنجش ایک بار پھر خونی شکل اختیار کر گئی۔ 40 سالہ رخسانہ بی بی، زوجہ یاسین، جو کہ روزمرہ کے گھریلو جھگڑوں کا سامنا کر رہی تھیں، اس بار ایسی شدت سے شکار ہوئیں کہ انہیں جان لیوا فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی قابل تحسین ہے، جنہوں نے شدید زخمی رخسانہ بی بی کو ابتدائی طبی امداد دے کر ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹوبہ منتقل کیا، جہاں سے انہیں الائیڈ اسپتال فیصل آباد ریفر کر دیا گیا۔ ان کی حالت تاحال نازک بتائی جا رہی ہے۔دوسری طرف اس سانحے میں رخسانہ بی بی کی 75 سالہ والدہ، قرشید بی بی، موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ سینے پر لگنے والی گولی نے ان کی زندگی کا چراغ بجھا دیا۔ یہ المیہ صرف دو خواتین کی زندگیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس گھر کی چولیں بھی ہلا کر رکھ دی ہیں۔پولیس کے مطابق رخسانہ بی بی کے بیان کی روشنی میں یہ واضح ہوا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص ان کا اپنا شوہر یاسین تھا، جس نے گھریلو تنازعے پر طیش میں آ کر گولیاں چلا دیں اور موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندانی ٹریجڈی ہے بلکہ معاشرے کو ایک آئینہ دکھا رہا ہے۔ ہمارے گھروں میں برداشت کی کمی، غصے پر قابو نہ پانا، اور قانونی و سماجی اداروں سے عدم تعاون جیسے مسائل اس جیسے افسوسناک انجام تک لے آتے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ معمولی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ہم بات چیت اور صلح کی راہ اختیار کرنے کی بجائے بندوق کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟آخر کب تک عورتیں ان خاندانی جھگڑوں کا ایندھن بنتی رہیں گی؟ کب ہم سیکھیں گے کہ اختلاف کو سلجھانے کے لیے تشدد نہیں بلکہ سمجھوتہ، صبر اور قانون کا راستہ اپنانا ہوگا؟ریاست، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور معاشرہ تینوں کو مل کر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مجرم کو قانون کے مطابق سخت سزا دینا ہوگی تاکہ آئندہ کوئی مرد ایسا ظلم نہ دہرا سکے۔خاندان، رشتے اور عورت کی عزت، یہ سب کسی گولی کے فیصلے کے رحم و کرم پر نہیں ہونے چاہئیں۔ ہمیں اپنی سوچ اور سماجی رویے بدلنے ہوں گے ورنہ ہر گاؤں، ہر محلہ ایک نئے المیے کا منظر بن جائے گا۔اللہ پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمی خاتون کو جلد صحتیاب کرے، آمین۔*