“اٹھارہ ہزاری کی عمارتوں کا تاریخی پس منظر”

تحریر۔۔مخدوم عرفان طاہر جھنگ
6
تحصیل اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ ،پنجاب،پاکستان کی چار تحصیلوں میں سے ایک تحصیل ہے۔تحصیل اٹھارہ ہزاری تاریخی حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہے۔اس شہر کی مشہور ہستی حضرت پیر تاج الدین ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام عمارتیں،درخت،اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں مگر ان کی خستہ حالت بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ انگریز حکومت کی جانب سے جھنگ کو 1849 میں ضلع کو درجہ دیا گیا۔تو اس بنا پر جگہ جگہ سرکاری دفاتر قائم کیے گئے،جن میں ضلع کچہری،ضلع کونسل،تھانہ صدر،محکمہ انہار اور گورنمنٹ ہائی سکول واصو،واصو میں موجود مندر،اور قدیم نایاب عمارتیں قابل ذکر ہیں۔اٹھارہ ہزاری میں موجود تھانہ جس کی بنیاد 1874 میں رکھی گئی اس دوران اس تھانہ کا ایریا اٹھارہ ہزاری سے جنوب کی جانب کوٹ شاکر تک،اور شمال کی جانب روڈوسلطان تک،مشرق سے کوڑے والا،جبکہ مغرب سے نواں کوٹ روڈ تک کا ایریا اسی تھانہ کی حدود میں آتا ہے۔۔۔اس تھانہ کے قریب ایک قدیم مسجد بھی موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1874 میں جب تھانہ بنایا گیا تو اسی دوران اس مسجد کی تعمیر کی گئی ، اٹھارہ ہزاری کی تاریخ میں دوسری مسجد مانی جاتی ہے ،مگر اب نہ تو وہ تھانہ رہا اور نہ ہی اس مسجد میں کوئی نمازی رہا۔۔ تقریبا 1998 میں پرانا تھانہ سے سامان اٹھا کر بنائے گئے نئے تھانہ میں شفٹ کیا گیا ۔اسی. دوران تھانیدار اسلم ڈوگر اور منشی محمد یار مارت اور ڈی پی او اسلم ترین کی زیر نگرانی اس کام کو انجام دیا گیا ۔اسی مسجد کے قریب ایک نایاب درخت آج بھی اپنی اب و تاب میں ہے، (کہا جاتا ہے کہ اس درخت کو لگانے والا ایک ہندو تھا)،اس درخت کی عمر تقریباً 149 برس ہے،جو ابھی تک بھی موجود یے،1972 میں جب اٹھارہ ہزاری میں سیلاب آیا تو اس دوران اسی درخت کی مدد سے لوگوں نے اپنے مال اسباب کو باحفاظت رکھا،اور خود اسی درخت پر کچھ عرصہ قائم رہے۔۔افسوس کہ آج اس درخت اہمیت کو عام بھول چکی ہے،پہلے زمانے میں لوگ گرمیوں میں اسی درخت کے سائے میں حلقہ بنا کے گپ شپ کرتے ،اور اپنے مسائل ایک دوسرے سے بیان کریں،اس حقلہ کی رونق کو دوبالا کرنے کے لیے “حقہ” کا استعمال کیا جاتا ،جس کے چسکے میں تمام بوڑھے ،جوان بیٹھا کرتے تھے۔ انگریز دور کی بنائی گئی جیل کا منظر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں ۔۔اٹھارہ ہزاری میں کا قصبہ جو کہ واصو آستانہ کے نام سے مشہور ہے،یہ قصبہ کافی حد تک قدیم تصور کیا جاتا ہے ۔
اس شہر کی بنیاد چیلہ خاندان کے چشم و چراغ واصل حق نے تقریباً 1010 میں رکھی۔اب یہ سن کر حیران ہو رہے ہوں گے کہ واصو اس قدر پرانا شہر کیسے ہو سکتا ہے ۔،
بقول بلال زبیری ” موجود قصبہ کی بنیاد چیلہ خاندان کے بزرگ نے رکھی۔اس وقت قصبہ کی آبادی پانچ ہزار کے قریب تھی۔
اس شہر کی خاص بات بھی یہی ہے کہ تاریخ حوالے سے عمارتیں،مندر،سکول اب تک آباد ہیں،واصو میں موجود اس مندر کو تاریخی اعتبار سے دیکھے تو یہ صدیوں سے آباد ہے۔اس مندر میں ہندو مذہب کے لوگ اپنی پوجا پاٹ کیا کرتے تھے۔آزاذی سے پہلے یہاں سکھ بھی آباد تھے،ان کی اپنی اپنی عبادت گاہیں موجود تھیں،مگر بعد ازاں ان کے مقامات کو ختم کر دیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ واصو قدیم عہد میں یہ جگہ علمی اعتبار سے بہت مشہور تھو،کیونکہ یہاں ایک قبل سنسکرت کی بہت بڑی درسگاہ تھی اور آریاؤں نے اس درسگاہ کے اردگرد مضبوط قلعے اور فوجی چوکیاں بنائی ہوئی تھیں۔
میاں محبوب چیلہ نے کہا کہ” ہندو جب یہاں سے تجارت کرنے لگے تو اس دوران ان کا کافی مال اسباب یہاں رہ گیا تھا،جو بعد ازاں علاقہ مکینوں نے اپنے قصبہ میں لے لیا ۔اب مندر خستہ حال ہو چکا ہے ۔۔اب اس مندر میں داخل ہونے سے بھی خوف آتا ہے” ۔اسی علاقہ میں ایک اور تاریخی عمارت واصو ہائی سکول بھی ۔اس سکول کو 1874 میں ہندو ہیڈ ماسٹر نے ماڈل سکول کا درجہ دلوایا ۔اس سے پہلے یہ پرائمری سکول تھا۔۔پہلے پہل اس سکول کی ایک ہی عمارت تھی،جو کہ ہال کی شکل میں ہے۔۔اسی کچی مٹی سے تیار کیا گیا تھا ، آج بھی اس حال کا نقشہ اسی شکل میں موجود ہے ،جس طرح بنایا گیا تھا۔ گفتگو کے دوران مخدوم محمد مرید کاظم نے بتایا کہ” ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ ہمارا استاد رام سنگھ تھا جو ہمیں ریاضی سمجھایا کرتے تھے ۔اور وہ اسی علاقہ میں رہائش پذیر تھا ،آزادی کے بعد اسے یہ جگہ چھوڑنی پڑی،مگر ہمیں آج بھی یاد ہے کہ جب کلاس میں ان کا آخری دن تھا۔خوب باتیں کی،وہ یہی کہتے تھے کہ میرا جی نہیں کرتا اس دھرتی ماں کو چھوڑنے کو،مگر کیا کروں سرکار کے ہاتھوں مجبور ہوں”
اس مندر کی عمارت آج بھی موجود ہے ،لوگ آج بھی دیکھنے کے لیے جاتے ہیں ۔ یہ مندر بہت قدیم ہے یہ مندر ہندوؤں کی عبادت گاہ تھی۔کہا جاتا ہے کہ اسی واصو کے علاقہ میں سکھ بھی آباد تھے اور سکھوں نے بھی عبادت گاہ بنائی ہوئی تھی جو کہ گورنمنٹ ہائی سکول کے قریب تھی،سکھ وہاں اپنی عبادات کیا کرتے تھے ۔۔مگر افسوس انتظامیہ اور اہل علاقہ کے سیاسی لیڈروں کی وجہ سے یہ علاقائی تاریخی اعتبار سے اجڑ گیا۔۔اب تو بہت ہی کم علامتیں یا نشانات مل سکتے ہیں۔۔۔

ہیڈ تریموں بھی تاریخی حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہے ۔اس تریموں بیراج خاص بات وہ دو دریا ہیں جو یہاں سے گزرتے ہیں ،جہلم اور چناب۔اس کی بنیاد 1935 کی ہے تریموں بیراج کے قریب ہی ٹرین کی پٹری ملتی ہے ،بتایا جاتا ہے کہ یہاں تک تک ٹرین سامان لے کر آتی تھی۔۔
اسی طرح اٹھارہ ہزاری میں موجود 5 مرلہ سیکم اس لیے تاریخی حوالے سے اہم ہے کہ حکومت وقت نے غریبوں کے لیے رقبہ مختص کیے تھے،جو بھٹو خاندان کی طرف سر غریب اور مستحق افراد کو فری میں دیے گئے ۔۔اور آج بھی اسے بھٹو کی یاد میں 5 مرلہ سکیم کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔۔