_قائد اعظم محمد علی جناح
محنت اور استقامت_

تحریر۔۔ مہر گل شیر گرواہ

جب بھی کوئی انسان محنت اور استقامت کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول اور منزل تک پہنچنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ کامیابی ایسے شخص کا مقدر بن جاتی ہے۔ محنت اور استقامت کامیاب شخص کے لیے سیڑھی کا درجہ رکھتی ہے۔

قران مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں
“وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ”

“اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی۔”
قران مجید کی یہ آیت مبارکہ واضح کرتی ہے کہ انسان جس چیز کی مسلسل کوشش کرتا ہے اور اس کو حاصل کرنے میں محنت اور استقامت کا دامن مضبوط کرتا ہے تو اللہ تعالی ایسے شخص کو کامیابی سے ہم کنار کرتے ہیں ۔
اسی طرح فرمان نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے۔

*تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتا ہے*
” (صحیح بخاری)
ایک دوسری حدیث کے مطابق، *”محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے” (* جامع ترمذی)
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے واضح ہے کہ محنتی شخص، ہاتھ سے کام کرنے والا شخص، عمل میں استقامت رکھنے والا شخص، مسلسل جدوجہد کرنے والا شخص اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہے اور ایسا ہی شخص مسلسل کامیابی کے زینے طے کرتا ہے۔ جس طرح محنت اور استقامت سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والے انسان کی اسلام قدر کرتا ہے اسی طرح معاشرہ بھی ایسے شخص کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنا ہیرو مانتا ہے۔
اس کی واضح مثال ہمارے سامنے قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی ہے

*”قائد اعظم محمد علی جناح محنت اور استقامت* ”

قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر پاک و ہند کی وہ واحد ہستی ہیں جنہوں نے کام ،کام, اور کام کے نعرے پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کی قیادت کی اور علیحدہ وطن پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مسلمانوں کو متحد کرنے اور تحریک پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے قائد اعظم نے مسلسل محنت اور جدوجہد کی۔ دشمنوں کی طرف سے جتنے بھی مسائل اور رکاوٹیں سامنے آئیں ان کا صبر و استقامت کے ساتھ سامنا کیا اور آگے بڑھتے رہے۔ جن کی چند مثالیں درج ذیل ہیں
1. قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے ابتدائی 20 سال 1876-1896محنت میں گزرے اور انہوں نے مسلسل دن رات محنت کر کے اپنی تعلیم اور تربیت کو اعلیٰ مقام تک پہنچایا. ان ادوار میں قانون کی تعلیم بہت مشکل سمجھی جاتی تھی مگر آپ نے محنت اور استقامت کے ساتھ نمایاں پوزیشن میں بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی
2. زندگی کے اگلے دس سال1896-1906 قانون کے شعبے سے منسلک ہو کر گزارے اور وہاں پر بھی اپنی قابلیت، ایمانداری، محنت اور مسلسل کوشش سے اپنے نام کو نمایاں کیا اور اپنی ذہانت کا لوہا منوایا۔
3. زندگی کے اگلے دس سال1906-1916 عملی سیاست میں گزارے اور کانگرس جو اپنے آپ کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی مفاد اور متحدہ جماعت کہتی تھی میں محنت کر کے اپنا مقام بلند کیا. اور کانگرس میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا۔
4. قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا چوتھا دور 1916-1936 جو 20 سال پر محیط ہے۔ اس میں آپ نے کانگریس، مسلم لیگ اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بڑی مستقل مزاجی اور بلندحوصلے سے مفاہمت کی کوششیں جاری رکھیں۔ اور مسلمانوں کے حقوق کا مسلسل تحفظ کرتے رہے۔
5. 1947-1937ء کا دورانیہ آپ کی زندگی کا مشکل وقت رہا اس دورانیہ میں آپ نے ہندوؤں اور انگریزوں کی چال کو سمجھا اور اس عمل کا پیہم ارادہ کیا کہ علامہ محمد اقبال کے قول کی روشنی میں مسلمان ہندوؤں اور انگریزوں کے ساتھ رہ کر یا ان کی حکومت میں رہ کر اپنے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے آپ نے دن رات گھر سے گھر تک اور پورے برصغیر میں مسلمانوں کو متحد کرنے اور علیحدہ وطن حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جس کو عملی طور پر قرارداد پاکستان کی شکل میں واضح کیا کہ
اب برصغیر کے مسلمانوں کا ایک ہی نعرہ ہوگا
“اب بٹ کے رہے گا ہندوستان
اب بن کے رہے گا پاکستان
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الااللہ اس نعرہ کی تکمیل اور حصول کے لیے آپ نے دن رات محنت کی، مسلسل جدوجہد کی، اور انگریزوں اور ہندوؤں کی منکرانہ چالوں کا مقابلہ کیا آپ کو مفاد پرستی کے حوالے سے تنگ کیا گیا لیکن صبر و استقامت اور محنت کے ساتھ تحریک پاکستان کو مضبوط کیا اور 14 اگست 1947 کو اپنی 40 سالہ جدوجہد اور استقامت کے نتیجے میں نیا ملک پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے
جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ علیحدہ وطن حاصل کرنے کے باوجود بھی آپ نے محنت اور مسلسل جدوجہد کا دامن نا چھوڑا۔ اور پاکستان کی ترقی، مہاجرین کی آباد کاری، وطن کے دفاع اور تنظیم سازی کے لیے دن رات ایک کیا۔ پورے پاکستان کے دورے کیے اور مؤثر لوگوں سے گفت و شنید کر کے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا اور درپیش مسائل کو کم سے کم کیا۔ اس مقصد کے لیے آپ رحمت اللہ علیہ اکثر رات کو جاگا کرتے اور پاکستان کی تزئین و آرائش کے لیے اپنے سکون تک کو قربان کر دیا۔
طلبہ اور نوجوان نسل سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
میں آپ کو مصروف عمل ہونے کی تاکید کرتا ہوں کام،کام اور بس کام۔ سکون کی خاطر صبر و برداشت اور انکساری کے ساتھ اپنی قوم کی سچی خدمت کرتے جائیں۔
*نوجوان نسل اور طلبہ وطالبات کے لیے پیغام**
قران و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اور قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلسل محنت ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ ہم دن رات مثبت اور مسلسل کوشش کریں اور محنت کر کے اپنی منزل کو حاصل کریں۔ اسی طرح اپنے مقام، مقاصد اور منزل کو نمایاں اور بلند رکھیں اور اس کے حصول کےلئے صبر، ہمت اور استقامت کا ساتھ نہ چھوڑیں
یہی ہماری بقا اور فلاح ہے
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو پاکستان کو مضبوط کرنے میں ہمیں ہمت و استقامت دے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے درجات بلند فرمائے
امین
بقول اقبال
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں