سندھوں کو سیلاب سے نہین سندھ کے حکمرانون سے خطره هے۔!!!

تحریر۔ ایم دانش

سندھ دهرتي کا سب سے بڑا درد یہ رہا ہے کہ سندھ کو کسی بھی قسم کی قدرتی آفات سے اتنا خوف وخطرہ نہین ہے۔جتنا سندھ کے حکمراں اور ان کی ہمنوا افسرشاہی سے ہے۔کیونکہ حکمران اور افسرشاہی ان قدرتی آفات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔آج بھی سندھو دریا کے بندوں پر سیاسی ڈرامہ بازیاں جاری ہین۔جوکہ گذشتہ سیلابون کے دوراں کی گئین تھی۔حکمران سرکاری افسر شاہی کو ساتھ لیکر بندوں کا”جائزہ “لے رہے ہیں ۔میڈیا کو بلایا گیا جاتا ہے اور بڑے بڑے نگارے بجاکر کہتے ہین کہ سندھ بہت بڑے سیلاب کے دہانے پر ہے۔
لیکن حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔کیونکہ پانج بند کے پاس اس وقت کی سیلابی صورتحال ہے وہ بلاشک بڑی ہے۔لیکں سندھو دریا کے بھاؤ کی جو اس وقت صورتحال ہے وہ 2010ء کی سیلابی صورتحال سے بہت کم ہے۔اس وقت کوٹڑی بیراج سے 12کیوسک پانی کا ریلا گذرا تھا۔جب کے آج گڈو بیراج کے پاس صرف 6 لاکھ کیوسک پانی موجود ہے۔ایسے بھاؤ کو “بڑا سیلاب”قرار دینا عوام کو گمراہ کرنا اور عالمی اداروں کی توجہ مرکوز کرانے کے علاوہ کچھ نہین تاک اس طرح عالمی ادارون سے امداد لی جاۓ۔جوکہ سندھ حکومت کا پرانا آزمودہ نسخہ رہا ہے۔
جب بھی سندھ مین بارشین ہوتی ہین یا دریا مین پانی کا بھاؤ بڑھتا ہے تو حکمرانون کی جیسے لاٹری کھل جاتی ہے۔یعنی غریبون کے نام پر امداد لیکر خود اپنے پاپی پیٹون کو بھرنے مین لگ جاتے ہین۔بیرونی ممالک اور ان کے ادارے سمجھتے ہین کہ سندھ تباہ ہوگئی ہے۔لیکن راصل یہ تباہی عوام تک پھچنے سے پہلے ہی حکمرانون کے بنگلون۔اکائونٹس اور جیبون مین داخل ہوجاتے ہین۔
سندھ کے حکمرانون کے لیے سرکاری خزانہ جیسے ان کے ابا واجداد کا ہو۔ہر ایک دورے اور ہر ایک اجلاس پے رقوم خرچ کرتے ہین۔حالانکہ اس قسم کی سرگرمیاں فقط دکھاوے کی ہوتی ہیں۔بندوں پر جو میلا لگایا جاتا ہے۔وہ عوام کی سلامتی کے لیے نہین بلکہ میڈیا کی کئمیرائون کے لیے ہوتا ہے۔سچ پوچھیں تو سندھ کے لوگ حقیقی خطرے سے زیادہ حکمرانوں کے دوروں سے ڈرتے ہین۔کیونکہ یہ دورے فقط نئی لوٹ کھسوٹ کے لیے ہوتے ہین۔
سندھو دریا تو بھتا رہے گا،پانی بھی آتا رہے گا۔مگر سندھ کے حکمرانون کی سیاست ہمیشہ” سیلاب” اور ” امداد “کے انتظار پر قائم رہے گی۔سندھ کے لوگوں کو خبردار ہونا پڑے گا کہ آفت سے بڑی آفت سندھ کے کرپٹ حکمران ہین۔جوکہ ھر قسم کی قدرتی آفات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہین۔سندھ کو بچانے کے لیے بندوں سے زیادہ عوام کو اپنے منتخب شدہ رنگیلے نمائندوں کی ڈرامہ بازیون سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔