پاکستان آرمینیا سفارتی تعلقات،قفقازکی وادیوں میں دوستی کی نئی داستان
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کرلیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں مشترکہ دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا.چین کے شہر تیانجن سے ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے آرمینیا کے وزیرخارجہ ارارات میرزویان کے ساتھ باقاعدہ مشترکہ دستاویزات کا تبادلہ کیا اور اس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں۔
پاکستان نے آرمینیا سے سفارتی تعلقات کے قیام پر پیش رفت سے قبل آذربائیجان اور ترکیے کو خصوصی طور پر اعتماد میں لیا ہے، اس کے علاوہ روس اور ایران کو بھی معاملے پر اعتماد میں لیا گیا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں بعض فیصلے محض وقتی نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یہ حقیقت ہمیشہ نمایاں رہی کہ ملک نے اپنے اصولی مؤقف کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سات دہائیوں میں صرف دو ممالک ایسے تھے جنہیں پاکستان نے تسلیم نہیں کیااسرائیل اور آرمینیا۔ اسرائیل کی بابت فیصلہ فلسطین اور مسلم اُمہ کے حق میں تھاجبکہ آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ آذربائیجان کے ساتھ اس کا تنازع تھا۔ نگورنوکاراباخ کی جنگ میں پاکستان نے آذربائیجان کا کھل کر ساتھ دیا اور سفارتی دنیا میں ایک مضبوط پیغام دیا کہ برادر ملک کے دکھ سکھ میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ اب جب کہ نگورنوکاراباخ کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوچکا ہے اور آذربائیجان و آرمینیا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں توپاکستان کے لیے بھی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ آذربائیجان اور آرمینیا میں امن معاہدے کی کوششیں کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اب تاریخ ایک نیا موڑ لے رہی ہے۔ایسے میں پاکستان بھی سوچ رہا ہے کہ کیا وقت آگیا ہے کہ برف پگھلائی جائے اور آرمینیا کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں؟
دنیا کے نقشے پر کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو صرف سرحدوں اور اعداد و شمار کی قید میں نہیں رہتے، بلکہ تاریخ، تہذیب اور سیاست کے پیچیدہ دھاروں میں بہتے ہیں۔ آرمینیا انہی میں سے ایک ہے۔ ایک چھوٹا سا ملک، لیکن صدیوں پر محیط داستانوں کا امین۔ پہاڑوں میں گھرا ہوا، جس نے یونان، ایران، روم، بازنطینیوں، عثمانیوں اور روسی سلطنت کے زوال و عروج دیکھے۔ اور یہی آرمینیا پاکستان کی سفارت کاری کے ایک نئے باب میں داخل ہونے والا ہے۔آرمینیا جنوبی قفقاز کا ایک زمینی گرا ملک ہے، جو جغرافیائی اعتبار سے بڑے طاقتور پڑوسیوں میں گھرا ہوا ہے۔ شمال میں جارجیا، مشرق میں آذربائیجان، مغرب میں ترکی اور جنوب میں ایران۔ اس کا رقبہ تقریباً 30 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 30 لاکھ ہے۔ دارالحکومت یریوان نہ صرف سیاسی بلکہ تہذیبی مرکز بھی ہے۔آرمینیا کو دنیا کی پہلی عیسائی ریاست ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے، جس نے چوتھی صدی عیسوی میں عیسائیت کو سرکاری مذہب کے طور پر قبول کیا۔ صدیوں تک یہ علاقہ ایرانی سلطنت، رومی سلطنت، بازنطینی، عثمانی اور روسی حکمرانی میں رہا۔اپنی قدامت اور تہذیبی ورثے کی وجہ سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔ 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد آرمینیا آزاد ہوا۔
آرمینیا کی معیشت چھوٹی مگر متنوع ہے۔ زرعی شعبہ سب سے اہم ہے، جس میں انگور، پھل اور شراب سازی نمایاں ہیں۔ صنعت کے میدان میں دھاتیں، معدنیات، قیمتی پتھر اور مشینری شامل ہیں۔ حالیہ دہائی میں آئی ٹی انڈسٹری آرمینیا کی سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی صنعت بن کر ابھری ہے۔البتہ جغرافیائی مسائل آرمینیا کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ چونکہ یہ خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے اور ترکی و آذربائیجان کے ساتھ سرحدی تعلقات کشیدہ رہے، اس لیے اس کی تجارت زیادہ تر ایران اور جارجیا کے راستے ہوتی ہے۔ توانائی کے لیے بھی آرمینیا بڑی حد تک ایران پر انحصار کرتا ہے۔ روس اس کا سب سے بڑا اتحادی ہے جو توانائی اور سلامتی میں بنیادی سہارا فراہم کرتا ہے۔آرمینیا روس کا قریبی اتحادی ہے اور ”Collective Security Treaty Organization (CSTO)” کا رکن بھی ہے۔ روسی فوج اب بھی آرمینیا میں موجود ہے اور ملک کی سلامتی روس پر بڑی حد تک منحصر ہے۔ آرمینیا کی سلامتی روسی چھتری میں سمائی ہوئی ہے۔
یورپی یونین آرمینیا کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے۔ آرمینیا نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری کے کئی معاہدے کیے ہیں اور یورپی امداد اس کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔امریکا میں آرمینیائی برادری نہایت طاقتور ہے، جو امریکی سیاست اور لابنگ میں اثرانداز ہوتی ہے۔ امریکا نے آرمینیا کو ہمیشہ مالی اور انسانی حقوق کے حوالے سے مدد فراہم کی اور ہمیشہ آرمینیا کے حق میں آواز بلند کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا ترکی اور آرمینیا کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ”آرمینیائی نسل کشی” کا تاریخی تنازع ہے، جسے ترکی تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد بند ہے اور کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں۔
ایران آرمینیا کا سب سے اہم ہمسایہ ہے۔ یہ واحد ملک ہے جو اسے عالمی منڈیوں تک رسائی دیتا ہے۔چونکہ یہ خشکی میں گھرا ہوا ہے اس لیے ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ بند سرحدیں ہمیشہ اس کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس کے لیے ”سانس لینے کی کھڑکی” کی حیثیت رکھتا ہے۔ایران کی جغرافیائی حیثیت نہایت منفرد ہے۔ قفقاز کی سیاست میں ایران کا کردار ایک ایسے شطرنجی بادشاہ کا ہے جو ایک ہی وقت میں کئی چالیں چلتا ہے۔ ایران وہ ملک ہے جو آذربائیجان کے دونوں حصوں مین لینڈ اور نخچیوانکو جوڑتا ہے، اور آرمینیا کو دنیا تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ ایران نے ہمیشہ آرمینیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے تاکہ ترکی اور آذربائیجان کے دباؤ کا توازن قائم کیا جا سکے۔ توانائی، بجلی اور گیس کے منصوبے اس رشتے کی بنیاد ہیں۔ ایران نے آرمینیا کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر ترکی اور آذربائیجان دونوں مل کر آرمینیا کو دبائیں تو خطے کا توازن بگڑ جائے گا۔
دوسری طرف آذربائیجان اور ایران کے تعلقات میں قربت بھی ہے اور فاصلے بھی۔ ایران کو ”پین ترک ازم” کا خوف ہے کہ کہیں آذربائیجان اور ترکی کی قربت اس کے اپنے آذری علاقوں میں بے چینی نہ پھیلا دے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایران کی سفارت کاری باریک توازن قائم کرتی ہے۔ اگرچہ دونوں مسلم ممالک ہیں مگر آذربائیجان کے ساتھ ایران کے تعلقات پیچیدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ ایران ایک محتاط مگر فعال سفارتی پالیسی اختیار کرتا ہے۔
پاکستان نے آذربائیجان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہو کر اپنی دوستی کا ثبوت دیا۔ نگورنوکاراباخ کے مسئلے پر پاکستان نے ہمیشہ آذربائیجان کی حمایت کی اور اس کے بدلے آذربائیجان نے کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔دفاع، توانائی، تجارت اور تعلیم کے میدانوں میں دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہوئے۔ حالیہ برسوں میں دفاعی معاہدے اور مشترکہ فوجی مشقیں اس تعاون کی علامت ہیں۔نگورنوکاراباخ تنازع کے حل اور آذربائیجان آرمینیا امن معاہدے کے بعد پاکستان بھی نئی پالیسی پر غور کر رہا ہے۔ آذربائیجان سے مشاورت کے بعد آرمینیا کو تسلیم کرنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ آرمینیا کے ساتھ تعلقات سے پاکستان کا کردار خطے میں ثالثی اور توازن قائم کرنے والا ہو سکتا ہے۔آرمینیا کی منڈیوں میں پاکستان کی ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور زرعی مصنوعات کھپت پا سکتی ہیں۔آرمینیا تک پہنچنے کے لیے ایران ایک اہم گیٹ وے ہے، جس سے ایران پاکستان آرمینیا سہ فریقی تعاون کے امکانات روشن ہیں۔
آرمینیا کے ساتھ تعلقات قائم کرنا پاکستان کے عالمی کردار کو متوازن، امن دوست اور خطے کی ترقی کا حامی ظاہر کرے گا۔پاکستان کی سفارت کاری ہمیشہ اصولی مؤقف پر مبنی رہی ہے۔ آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے کی بنیاد آذربائیجان کی حمایت تھی، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ اگر پاکستان آرمینیا کے ساتھ تعلقات قائم کرتا ہے تو یہ نہ صرف قفقاز بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر اس کے کردار کو وسعت دے گا۔
ایران، جو آرمینیا اور آذربائیجان دونوں کے ساتھ سرحد رکھتا ہے، اس پورے کھیل کا مرکزی فریق ہے۔ پاکستان اگر ایران اور آذربائیجان کے ساتھ توازن قائم رکھ کر آرمینیا کے ساتھ تعلقات استوار کرتا ہے تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کا روشن باب ہوگا۔ یہ قدم پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے لائے گا جو امن، تعاون اور ترقی کا حامی ہے، اور جو عالمی سیاست میں اپنی آواز مزید مضبوط انداز میں بلند کر رہا ہے۔
پاکستان، آرمینیا اور مستقبل،اب سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان آرمینیا کو تسلیم کر لے تو کیا ہوگا؟سب سے پہلے یہ قدم خطے میں امن کے فروغ کی علامت ہوگا۔دوسری بات، پاکستان کو نئی منڈیاں ملیں گی۔تیسری بات، ایران کے ذریعے آرمینیا تک رسائی پاکستان کے لیے وسطی ایشیا اور قفقاز کی منڈیوں کے دروازے کھول دے گی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان عالمی دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ وہ امن اور تعاون کا حامی ہے، دشمنی اور تنازع کا نہیں۔
آرمینیا کے ساتھ تعلقات محض سفارتی پیش رفت نہیں ہوگی بلکہ یہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ پاکستان خطے میں ”پل” بننے کو تیار ہے، نہ کہ ”دیوار”۔ آرمینیا کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئی کروٹ لے رہی ہے ایک نئے باب کی شروعات ہوسکتیں ہیں۔ ایران کے ساتھ سہ فریقی تعاون، آذربائیجان کے ساتھ بھائی چارہ، اور آرمینیا کے ساتھ تعلقات، یہ سب مل کر پاکستان کو ایک متوازن، امن دوست اور فعال ملک کے طور پر ابھار سکتے ہیں۔شاید یہی وقت ہے کہ ہم تاریخ کی برف کو پگھلائیں اور قفقاز کی وادیوں میں پاکستان کی دوستی کی ایک نئی داستان رقم کریں۔








