با وفا طوائف اور دھوکے باز نوکرشاہی !
تحریر۔۔ایم دانش
ایک صحافی کسی طواٸف سے انٹرویو لینے کے لے بازار حسن گیا۔جہاں وه طواٸف کی ملکہ کے کمرے مین جب داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک طواٸف اپنے بیڈ پر دو قمبلون مین سوٸی ہوٸی تھی۔جب کہ کمرے مین دو اسپلٹ ایٸرکنڈیشنر چل رہی تہین۔کمرے سے باہر شدید گرمی تھی اور کمرے مین اتنی سردی تھی کہ قمبل اوڑھے بغیر بیٹھنا نا ممکن تھا۔صحافی نے جب طواٸف سے سوال کیا کہ اگر آپ کو اتنی ٹہنڈ محسوس ہو رہی ہے تو ایک ایٸر کنڈیشنرز کو بند کیون نہین کرتین تو طواٸف نے جواب دیا کون سا مجھے بل دینا ہے۔بل دینے والے اور ہین۔اس لیے چلتی رہی۔وہی صحافی کسی سندھی افسر کے پاس ان کی آفیس مین گیا تو اس کی آفیس مین بھی دو ایٸرکنڈیشنرز لگی ہوٸی تہین اور افسر فل سوٹ پہنے ایسے بیٹھا تھا کہ جیسے جنوری کا سرد ترین ماه ہو۔اس افسر سے جب سوال کیا گیا کہ اگر آپ کو اتنی ٹھنڈ محسوس ہو رہی ہے تو ایٸرکنڈیشرز بند کیون نہین کردیتے۔وہی طواٸف والا جواب کہ کون سا مین اپنے گھر سے بل ادا کرونگا۔گورمنٹ خود بل ادا کریگی اس لیے چلنے دو۔مقصد کہ ایک طواٸف اور ایک بیوروکریٹ افسر کی سوچ مین کوٸی فرق نہین ہوتا۔جب که حقیقت یه کہ دونون کے کردار بھی ایک جیسے ہین۔لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ طواٸف حالات سے مجبور ہوکر اپنی جسم کی فروخت بھی ایمانداری سے کرتی ہے۔جوکہ اخلاقی معاشری مین ایک کرپشں کا طریقے کار ہے۔جب کے طواٸفون کے محلے امیر خاندان کے لوگون سے آباد رہتے هین۔جب کہ ایک افسر اپنی زندگی کا یشتر حصه علم و نصاب سے لیکر اسکولون۔کالیجون اور یونیورسٹیون غرض کے تعلیمی ادارون کو دینے کے بعد بڑی بڑی ڈگریان حاصل کرنے کے باوجود بھی صرف اپنے ضمیر کا سوده کرنا ہی سیکھتا ہے۔
اس لیے ایسی تعلیمی ڈگریون کو محض تعلیمی اخراجات کی رسیدین ہی کہا جاسکتا ہے۔جس کے باعث وه اپنے ضمیر کا سوده کرتے ہوۓ عوام کی خدمت کرنے کے بجاۓ دولت کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جب کے طواٸفون مین سے بعض ایسی طواٸفین ہوتی ہین جوکہ اغوا ہوکر فحاشی کے اڈون تک پنہنچتی ہین اور کچھ ایسی ہوتی ہین جن کا اسی گھر مین جنم ہوتا ہے اور وه جنم سے ہی جسم فروشی کو دیکہتین ہین۔جس کے باعث وه اس پیشے کو اپنا مقدر سمجھتی ہین۔اس لیے طواٸف عزت و نفس کے الفاظ سے واقف نہین ہوتی اور افسر ہزارون اخلاقیات کے کتب پڑهنے کے باوجود بھی عزت و نفس سے انجان ہوتے ہین۔کیونکہ ان کرپٹ افسرون کے ذہنون کی ڈکشنری مین اخلاقیات جیسے الفاظ ہی نہین ہوتے۔جس کے باعث یه کہا جاسکتا ہے کہ دونون کے پاس عزت نفس ہوتا ہی نہین۔یہی وجہ ہے کے وه کرپشن سے کماٸی هوٸی دولت پر فخر کرتے هین۔لیکن افسر ناجاٸز دولت کو اکٹھا کرکے ان ہی طواٸفون کے پاس جاکر خود کو کپڑون سے ننگا کر دیتے ہین اور ایک طواٸف ان افسران سے کرپشن سے اکٹھے کی هوٸی دولت لیکر معاشرے کے آگے شرافت والا لباس اتار کے بے نقاب کر دیتی ہے۔ جس ریاست مین طواٸف اپنے جسم کو فروخت کرے اور بیوروکریٹ اپنے ضمیر کو فروخت کر رہے ہون۔اسی ریاست مین کبھی بھی قانون کی بالادستی قاٸم نہین ہوسکتی اورجہاں قانون کی بالادستی قاٸم نہ ہو۔وہان سفارشی کلچر حاوی ہوجاتا ہے۔ہر قسم کی کرپشن کو آٸینی و قانونی تحفظ حاصل ہوجانے باعث ساری سماجی براٸیان اخلاقی محسوس ہوتی ہین۔جس کی وجہ سے ایسی ریاستین اپنا وقار بلند کرنے کے بجاۓ گرادیتی ہین۔ بلکہ تیزی سے زوال کی جانب بڑہتین ہوٸی اپنا وجود کہودیتی ہین۔
جس طرح حضرت علی رضه عنہ کا فرمان ہے کہ ریاستین اور حکومتین کفر سے تو چل سکتی ہین ۔لیکن نا انصافی اور ظلم سے نہین چل سکتین۔بلکل ویسا ہی حال اس وقت ہماری پیاری ریاست پاکستان کا ہے۔جہاں ہر غیراخلاقی۔غیر آٸینی۔غیر شرعی اور غیر قانونی کام کو مکمل طور پر بیوروکریسی کی جانب سے آزادی اور تحفظ حاصل ہے۔ریاست پاکستان خصوصا سندھ مین زرداری راج قاٸم ہوچکا ہے۔پہلے سنتے آتے تہے کہ اندھیر ننگری اور چربٹ راجہ۔لیکن اب اس کہاوت کو تبدیل کرکے یہی کہنا چاہیۓ کہ اندہیری سندھ اور زرداری راجہ اور سندھ کے وزیراعلی مراد شاه محتاج مہره۔
بہرحال طواٸفین اپنے جسم کا سوده کرنے کے لیے اپنی دروازے پر آنے والون کو ویکلم کرتین ہین اور وه اپنے مہمانون کے ساتھ اچہا سلوک کرتین ہین۔جب کہ ایک بیوروکریٹ اپنی آفیس مین بیٹھ کر عوام کو کیڑون مکوڑون کی طرح سمھجتا ہے اور خود کو فرعون باور کراتا ہے۔بہرحال طواٸف ہو یا سندھ کے بیوروکریٹ ہون۔دونون کی سوچ ایک ہی جیسی ہوتی ہے۔نہ صرف سوچ بلکہ دونون کا کردار بھی ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔کیونکہ طواٸفین بھی اپنا جسم امیرزادون کو فروخت کرتی ہین اور امیرزادے بھی جاگیردارون اور وڈیرون کی دلالی کرتے ہوۓ اپنے ضمیر کو فروخت کرتے ہین۔یعنی دونون کرپشن کو جاٸز سمجھتے ہوۓ دولت اکٹھے کرنے کو ترجیح دیکر اپنی عزت و نفس کو فروخت کرنے کے ماہر ہوجاتے ہین۔
حقیقت مین سول افسر ہون یا سیکیورٹی اور امن وامان قاٸم کرنے والے افسر ہون ۔خصوصا سندھ کی پولیس سے لیکر عسکری قوتون کے ادارون تک سب کا کردار اور طواٸف کا کردار ایک ہی جیسا ہے۔جس کی وجہ سے عدلیہ مین انصاف بکتا ہے اور الیکشن کمیشن کو سلیکشن کمیشن مین تبدیل کرکے الیکشن نتاٸج کی خرید و فروخت کے باعث نا اہلون کو کامیاب قرار دے کر عوام سے دوکہا کیا جاتا ہے۔جب کے طواٸف اپنے گراہک کو دوکھا نہین دیتی۔








