گمنام ہیرو کو سلام
حالیہ دنوں جب وطن عزیز سیلاب کی تباہ کاریوں میں ڈوبا تو دریا چناب نے ضلع جھنگ میں بھی سیلابی تباہ کاریاں مچائیں ہر طرف بے بسی اور دکھ کا راج تھا، تب ایک شخص نے خاموشی سے، بنا کسی شہرت یا نام کی خواہش کے، متاثرہ لوگوں کا سہارا بننے کی ٹھان لی۔ وہ کسی کیمرے کی آنکھ میں قید نہ ہوا، نہ اخبارات کی شہ سرخی بنا، مگر غمزدہ دلوں کے لیے امید کا چراغ ضرور جلایا۔
اس نے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کی بھوک مٹائی، ان کے لیے دوائی، کپڑے اور پناہ کا بندوبست کیا۔ وہ شخص نہ کسی انعام کا طلبگار تھا اور نہ ہی تعریف کا خواہاں، بس انسانیت کی خدمت اس کا مقصد اور خوشنودیِ خدا اس کا اجر تھی۔
ایسے گمنام ہیروز ہی دراصل قوم کا سرمایہ ہیں، جو مشکل گھڑی میں مظلوموں کا ہاتھ تھامتے ہیں اور اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتے ہیں۔ ہم دل سے ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیںں۔
سیلاب کی تباہ کاریوں میں جب ہر طرف اندھیرا تھا، اس شخص نے بنا نام و نمود کے خدمت کا چراغ جلایا۔ اس نے بھوکوں کو کھلایا، بے سہارا لوگوں کا سہارا بنا اور اپنی پہچان چھپاتے ہوئے انسانیت کی معراج قائم کی۔ حقیقی
ہیرو وہی ہے جو دوسروں کے لیے جیتا ہے۔
پیر ابراہیم شاہ صاحب ایک ایسے انسان ہیں جو حقیقی معنوں میں خدمتِ خلق کا پیکر ہیں۔
سیلاب زدگان کی مشکلات اور دکھ درد کو اپنی ذات کا دکھ سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنی ٹیم اور این جی اوز کے تعاون سے متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی۔
ان کی کاوشیں صرف امداد پہنچانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوئے، ان کے دکھ بانٹے اور ان کے حوصلے بلند کیے۔
پیر ابراہیم شاہ صاحب کی یہ خدمات اس بات کا ثبوت ہیں
کہ اگر نیت صاف ہو تو مشکلات چاہے کتنی بھی بڑی ہوں، انسانیت کے لیے خدمت ممکن ہے۔ ان کی قربانی، محنت اور ایثار نے بے شمار خاندانوں کو نئی امید اور سہارا دیا۔
وہ نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں کہ دوسروں کی بھلائی کے لیے کام کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
بندہ نا چیز بھی شاہ صاحب کی ٹیم کا حصہ ہے۔
بہت ساری این جی اوز کے ساتھ کام کیا لیکن شاہ صاحب کے ساتھ کام کرنے میں جو مزہ ایا وہ کہیں اور میں نہیں آیا۔
اللہ پاک کی رزا کے لئے ہر کام سر انجام دیا۔
اللہ تعالیٰ پیر سید علی معاویہ شاہ صاحب کو ان کی پوری ٹیم کی اس بے لوث خدمت قبول فرمائے۔






