کمیانہ برادری کے انمول استاد

تحریر۔۔ مبشر نور کمیانہ

۔۔۔
ضلع ساہیوال کی ذرخیز زمین، (چک نمبر 65 اے۔ جی ڈی شرقی) “جمعے والا” کمیانہ برادری کے مایہ ناز استاد معلم ماہر تعلیم مرحوم میاں جہانگیر کمیانہ صاحب کے صاحبزادے استاد محترم جناب امتیاز احمد خالد کمیانہ صاحب وفات پا گئے۔ اللہ ان کی بخشش کرے! آمین۔ ان کی تاریخ پیدائش 15 اپریل 1969 اور تاریخ وفات 6 ستمبر 2025 ، بروز ہفتہ 12 ربیع الاول ہے۔ شام کے وقت اچانک ان کی طبیعت خراب ہو گئی تو ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہارٹ اٹیک ہو جانے سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔
۔۔۔
ان کا نام “امتیاز احمد” تھا اور تخلص “خالد” تھا جبکہ “خالد” کے نام سے وہ مشہور تھے۔ سبھی لوگ ان کو استاد خالد صاحب کے نام سے ہی پکارتے تھے۔ خالد صاحب میرے سگے خالو جان اور میرے پرائمری کے استاد جناب محترم “طارق حسین امجد” کمیانہ صاحب کے بڑے بھائی ہیں۔ خالد صاحب کا خاندان زیادہ تر ضلع اوکاڑہ میں آباد ہے جوکہ کمیانہ برادری (ڈھڈی راجپوت) کہلائے جاتے ہیں۔ شہر “رینالہ خورد”، چک نمبر 4 جی ڈی، (جِتھے ماسٹراں دی پنیری) المشہور “غلام رسول والا” ، “موضع کماں” ، “ٹھٹہ”، “اسلام پور” اور دیگر گاؤں ہیں جہاں ان کے خاندان کے لوگ آباد ہیں۔ ان کے خاندان کے افرار سرکاری و پرائیویٹ سطح پر بہت بڑے بڑے عہدوں پر فائض ہیں۔
۔۔۔
خالد صاحب “گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول” قصبہ نورشاہ میں بطور (ای ایس ٹی) انگلش اور ریاضی کا ٹیچر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ایم اے اسلامیات، ایم اے انگلش، ایم اے میتھ کر رکھا تھا۔ خالد صاحب 1995 سے شعبہ تعلیم میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ اب تک انہوں نے اپنی زندگی کے 30 سال ایک بہترین استاد و معلم کے طور وقف کیے ہیں، ان کی بقایا سروس ابھی مزید 4 سال رہتی تھی جبکہ انہوں نے 14 اپریل 2029 کو ریٹائر ہونا تھا۔
۔۔۔
خالد صاحب ایک دین دار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پانچ وقت کے نمازی تھے، قرآن پاک کی تلاوت کرنا ان کا معمول تھا۔ ان کا گھرانہ ناصِرف علم و ادب سے وابستہ پے بلکہ سبھی کنبہ اللہ و رسول کے احکامات کے پابند بھی ہیں۔ ان کے تمام بہن بھائی انتہائی ملنسار خوش اخلاق نرم طبیعت اور شریفانہ مزاج کے مالک ہیں۔ گاؤں سے لے کر ساہیوال اور اوکاڑہ میں جہاں تک ان کی پہچان ہے وہاں تک لوگ ان کو جھک کر نہایت ادب و احترام سے ملتے ہیں۔ ان کا ادب ہر شخص کے سینے میں پنہاں ہے۔
۔۔۔
خالد صاحب کی وفات کا سَن کر ہر شخص دکھی ہوا ہے۔ ان کی وفات سے نہ صرف ان کے خاندان یا گاؤں میں غم کی فضا چھا گئ ہے بلکہ ان کے بے شمار دوست، احباب اور ضلع ساہیوال، نورشاہ کے گردونواح سے تمام شاگرد خاص بھی بہت رنجیدہ اور غمگین ہیں۔ ایک قابل استاد دنیا سے چلا گیا۔
*سُنے کون قصہ درد دل ۔۔۔ میرا غم گُسار چلا گیا*
خالد صاحب ایک ایسی شخصیت تھے جو اپنے ملنسار رویے اور علمی صلاحیتوں کی بناء پر لوگوں کے دلوں میں بستے تھے۔ وہ نہ صرف اپنے علم و ہنر کو دوسروں کے ساتھ بانٹا کرتے تھے بلکہ دوسروں کی مدد میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔ اُن کی تعلیمات، علمیت، اور محبت بھری باتیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کے شاگردوں کی زندگیوں میں روشنی بکھیرتی رہیں گی۔
۔۔۔
(مرحوم) میاں جہانگیر صاحب اور ان کے صاحبزادے خالد صاحب ضلع ساہیوال میں اپنے وقت کے ایک بہترین استاد، معلم، منتظم، دانشور، لیکچرار، تاریخ دان اور بہترین استاد تھے۔ ان کو بولنے، تقریر کرنے، طلباء کو سمجھانے، لیکچر دینے میں مکمل عبور حاصل تھا۔ اُن کے گھر میں حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا شعری مجموعہ رکھا ہوتا تھا۔ وہ علامہ اقبال کا فلسفہ و نظریہ خود بھی بہت شوق سے پڑھتے تھے اور شاگردوں کو بھی منتقل کرتے تھے تاکہ ایک عقل مند اور ذہین نسل پروان چڑھ سکے۔ وہ علاقائی زبانوں اور ہر قوم کی تاریخ سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے۔ مختلف علاقوں کے بڑے بڑے نامور بااثر شخصیات کو بھی اچھی طرح سے جانتے تھے اور بڑی بڑی علمی و ادبی و سیاسی شخصیات کے ساتھ گہری وابستگی بھی تھی۔
۔۔۔
خالد صاحب کے والد گرامی (مرحوم) میاں جہانگیر کمیانہ صاحب نے اپنے گاؤں میں اپنا ایک پرائیویٹ سکول بنا رکھا تھا، ایک بڑی اکیڈمی تھی۔ ایک بہت بڑا ٹیوشن سینٹر تھا جہاں ناصرف اپنے گاؤں کے بچے بچیاں علم و تدریس سیکھنے آتے تھے بلکہ آس پاس اور دور دراز کے دیہاتوں سے بھی بچے علم حاصل کرنے آیا کرتے تھے۔ علم کی شمع کو روشن کرنے کے لیے دونوں باپ بیٹا کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ جہاں سے سینکڑوں نوجوان تعلیم حاصل کر کے زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کی منازل طے کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
شعبہ تعلیم میں علم و تدریس کے نظام کو ہر سو پھیلانے میں یہ خاندان ہمیشہ سے پیش پیش رہا ہے۔ خالد صاحب کے والد جہانگیر صاحب، ان کے بھائی طارق صاحب اور ان کے اکلوتے داماد میاں ناظم کمیانہ صاحب بھی ایک سکول ٹیچر ہیں جو کہ ساہیوال میں ہی بطور معلم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
۔۔۔
خالد صاحب کی قدآور شخصیت سے سب لوگ متاثر ہوتے تھے۔ صحت مندانہ جسم گرج دار آواز ، بولنے کا انداز سب سے نمایاں اور الگ تھلگ تھا۔ خالد صاحب کا پڑھانے کا انداز بہت ہی منفرد تھا۔ جب تاریخ سناتے اور ساتھ علامہ اقبال کا شعر پڑھتے تو سننے والے کے دل و دماغ میں سب کچھ حفظ ہو جاتا تھا۔
ضلع ساہیوال، اوکاڑہ، فیصل آباد، پاکپتن اور ملتان تک مختلف سکول و کالجز میں جو بھی کھیل منعقد کرائے جاتے یا مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا تو امتیاز احمد خالد کمیانہ صاحب کو مدعو کیا جاتا تھا۔ وہ کمنٹری کرنے اور اعلیٰ منتظم کے طور نمایاں کردار ادا کرنے میں صلاحیت رکھتے تھے۔
۔۔۔
خالد صاحب بہت ہی شفیق، مہربان اور محبت کرنے والے استاد تھے۔ ہر طالب علم سے پیار سے پیش آتے تھے لیکن غصے کے بھی بہت سخت تھے۔ غلط اقدامات کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سب کی سرزش ہوتی۔ وہ سکول میں حاضر ڈیوٹی کے دوران کوئی بھی ذاتی یا غیر ضروری کام کرنا بالکل سخت ناپسند کرتے تھے۔ کلاس روم کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنا کے رکھنا ان کا شوق تھا۔ اگر بچوں کو کلاس روم سے باہر گراؤنڈ میں لے جا کر کوئی مشق کرانا لازمی ہوتا تو اس کے لیے پہلے وہ زمین کے اُس حصے کو اچھی طرح سے صاف کرواتے تھے پھر کلاس کا آغاز کرتے تھے تاکہ کوئی زہریلا موذی کیڑا کسی بچے کو کاٹ نا لے۔
۔۔۔
خالد صاحب اپنی زندگی میں اچھا صاحب ستھرا لباس پہننے کو ترجیح دیتے تھے۔ اچھی صاف ستھری اور تازہ غذا کو کھانا پسند کرتے تھے۔ صبح کی سیر اور کیکر کے درخت کا مسواک کرنا ان کی زندگی کا لازمی جزو تھا۔ وہ اپنے شاگردوں کو بھی سیر اور مسواک کے فوائد بتایا کرتے تھے۔
خالد صاحب نے ساری زندگی سفید لباس زیب تن کیا اور کبھی بھی رنگ دار کپڑے نہیں پہنے۔ ایک بار پوچھنے پر بتایا کہ ہم تو ہر وقت کفن پہنے پھرتے ہیں، کیا پتا کب بلاوا آ جائے اور قبر میں بھی سفید لباس پہن کر ہی جانا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے ان کی محبت والہانہ تھی، اس لیے خالد صاحب کمرہ جماعت میں داخل ہوتے ہی بچوں کو درود شریف پڑھنے کا کہتے تھے اور خود بھی ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے تھے۔
۔۔۔
خالد صاحب ایک ایسی شخصیت تھے جو اپنے ملنسار رویے اور علمی صلاحیتوں کی بناء پر لوگوں کے دلوں میں بستے تھے۔ وہ نہ صرف اپنے علم و ہنر کو دوسروں کے ساتھ بانٹا کرتے تھے بلکہ دوسروں کی مدد میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔ اُن کی تعلیمات، علمیت، اور محبت بھری باتیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کے شاگردوں کی زندگیوں میں ہمیشہ روشنی بکھیرتی رہیں گی اور ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
۔۔۔
ان کی وفات پر ہم سب اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ خُدا ان کی روح کو اپنی بے پایاں رحمتوں کے سائے میں پناہ دے اور ان کو اپنے پیارے نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب کرے اور جنت میں خوبصورت گھر دے۔
دعا ہے کہ اللہ ان کے خاندان کو اس مشکل گھڑی میں صبر جمیل عطا فرمائے تاکہ وہ اس دُکھ بھرے لمحہ کو برداشت کر سکیں۔ اللہ تعالی امتیاز احمد خالد کمیانہ صاحب کی مغفرت فرمائے۔ ان کو جنت میں جگہ دے۔ آمین!
۔۔۔
تحریر! مبشر نور کمیانہ