استاد: بچوں کے اصل رول ماڈل

تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ

*استاد معاشرے کی وہ عظیم ہستی ہے جو محض کتابی علم نہیں دیتا بلکہ اپنی شخصیت، کردار اور عمل سے نئی نسل کی تربیت کرتا ہے۔ استاد کا ہر لفظ، ہر حرکت اور ہر رویہ بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈال دیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ استاد صرف پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار سازی کرنے والا ایک عظیم معمار ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ محترمہ عقیلہ انتخاب خان نے اپنے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہایت خوبصورت انداز میں کہا کہ اساتذہ صرف علم نہیں دیتے بلکہ اپنی شخصیت اور عمل سے بچوں کے لیے بہترین مثال بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھا استاد ہی اچھے شہری پیدا کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کا کردار بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے میں سب سے اہم ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں علم والوں کے عظیم مقام کو بیان فرمایا يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ(المجادلہ: 11)”اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کو اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے، ان کے درجے بلند فرما دیتا ہے۔”اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔” (بخاری)ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے معلم کے مقام کو یوں واضح فرمایا: “علم سیکھنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” (ابن ماجہ)حقیقت یہ ہے کہ استاد قوموں کے مقدر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر اساتذہ اپنے فرائض کو اخلاص، محنت اور نیک نیتی کے ساتھ انجام دیں تو یہ بچے کل کے بہترین لیڈر، سائنس دان، معلم، انجینئر اور اچھے شہری بن کر ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ استاد کی ایک نصیحت بچے کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے اور استاد کی دی ہوئی تربیت نسلوں تک منتقل ہوتی ہے۔ہماری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی قوموں نے ترقی کی، ان کے اساتذہ نے اپنے کردار اور فرض شناسی سے نئی نسلوں کی آبیاری کی۔ استاد اگر ایماندار، دیانتدار اور باکردار ہوگا تو اس کی کلاس سے نکلنے والے طالب علم بھی انہی اوصاف کے حامل ہوں گے۔محترمہ عقیلہ انتخاب خان کے یہ خیالات نہ صرف قابلِ غور ہیں بلکہ ہر استاد کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ اپنے اس مقدس پیشے کو صرف ملازمت نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک عظیم خدمت اور عبادت کے طور پر انجام دیں۔ کیونکہ ایک استاد کے ہاتھوں میں بچوں کا مستقبل ہے اور بچوں کا مستقبل ہی ایک قوم کا مستقبل بنتا ہے۔*