سیلاب کے بعد

تحریر ۔منور اقبال تبسم

یونین کونسل کوٹ اسلام کے موضع ہوسی ہراج کے کھوہ پاری والا کے مزدور ظہور کمہار جس کی دو کچے کمروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی جنت تھی ،ظہور بیمار رہتا ہے اب تو اس سے مزدوری بھی نہیں ہوتی ،سیلاب کی آمد کیساتھ وہ بھی ہجرت کرکے فلڈ ریلیف کیمپ میں اپنے اہل وعیال کیساتھ پہنچا ،،سیلاب اتر نے کے بعد ایک امید کیساتھ جب اپنی بیوی اور بیٹے جس کی عمر 8/10سال ہے کیساتھ جب اپنے گھر پہنچا تو مکان کی مٹی بھی موجود نہ تھی چھت کا مکمل سامان اور کچی دیوین سیلاب بہاکر لے جاچکا تھا ۔اس کے پاس تو اب دیواریں کھڑی کرنے کیلئے بھی پیسے نہیں
یہ وقوعہ صرف ایک ہی نہیں ہے جگہ جگہ ایسی داستانیں رقم کرگیا ہے یہ سیلاب ،ہر بستی میں 10/12گھر ایسے ہیں جن کے نام و نشان تک مٹ گئے اور یہ ایسے لوگوں کے ہیں جو بنانے کی سکت بھی نہیں رکھتے اور اوپر سے انتظامیہ نے ان کے سروں سے خیمے بھی چھین لیئے ہیں ،میری ان سطور کے ذریعہ خانیوال ،میانچنوں ،کبیروالا ،جہانیاں
،عبدالحکیم کے مخیر حضرات ،تاجران سے اپیل ہے کہ ہرشخص کم از کم ایک کچے کمرے پر مشتمل ایک گھر ایک واش روم ایسے خاندانوں کو عطیہ کریں یہ گھر پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک میں تیار ہو جائیں گے اور ہر تاجر پر مخیر ایک چھت کا فیصلہ کرلے تو اجڑی ہوئی یہ دنیا پھر سے اباد ہوسکتی ہے
منور اقبال تبسم