قطرپرحملہ کےسلسلہ میں دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

ایک آزاد ریاست قطرکے شہر دوحہ پر حملہ کر کےاسرائیل نےبین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔اسرائیل نے حماس کے رہنماؤں کی موجودگی کی وجہ سےدوحہ کو نشانہ بنایا۔قطر کی طرف سے مسلسل کوششیں کی جا رہی تھیں کہ غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو جائےاور اس کا مستقل حل نکل آِئے۔حملہ کرکےنہ توقطر کی آزاد حیثیت کی پرواہ کی گئی اور نہ اس کی غیر متنازعہ کوششوں کو تسلیم کیا گیا۔دوحہ میں ہنگامی اجلاس منعقدکیا گیا۔اس اجلاس میں عرب لیگ اور او آئی سی کے رکن ممالک سمیت 50 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔اجلاس میں اسرائیل کی مذمت بھی کی گئی اور اس کے خلاف ایکشن لینے کا بھی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔تمام اراکین نےمتحد ہو کر اسرائیل کی خلاف کاروائی کرنے کااعلان کیاہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اعلامیہ پر کتنا عمل ہوتا ہے؟دوحہ میں منعقدہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے افتتاحی خطاب میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمدابوالغیط نے کہا کہ اجلاس کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس باغی ریاست کی غنڈہ گردانہ اقدامات پر بس بہت ہو گیا۔مزید یہ کہا کہ اسرائیل خطے میں تباہی، قتل وغارت اور بھوک پھیلانے میں مصروف ہے۔ابوالغیط نے خبردار کیا کہ جرائم پر خاموشی بذات خود جرم ہےاور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر خاموش رہنے سے عالمی نظام کمزور ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اسرائیل ایک ملک سے دوسرے ملک میں تباہی پھیلا رہا ہے۔انہوں نےمزید گفتگو بھی کی اور دیگررہنماؤں نے بھی خطابات کیے۔خطابات کرنے چاہیے تاکہ مسئلے کی حل کی طرف بڑھا جا سکے لیکن عمل اس سے زیادہ ضروری ہے۔بد عملی کی وجہ سے مسلمان پس رہے ہیں اور غیر ان کو مسلسل دبا رہے ہیں۔امت مسلمہ کی نااتفاقی کی وجہ سےمخالفین حاوی ہیں،اگر امت مسلمہ متحد ہو جائے تو کس کی مجال ہے کہ ان کا مقابلہ کرے۔سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ آپس میں دشمنیاں بڑی ہوئی ہیں۔ابوالغیط نے درست کہا کہ جرائم پر خاموشی بذات خود جرم ہے۔اسرائیل نےیہ کوئی پہلی دفعہ غیر قانونی حرکت نہیں کی اور نہ آخری ہے،بلکہ کئی دہائیوں سے ایسا کرتاآرہا ہےاور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا یہ کہنا بھی صدفیصد درست ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر خاموش رہنے سے عالمی نظام کمزور ہو رہا ہے۔مشرق وسطی میں آگ بھڑک رہی ہے اور اس کا ذمہ دار اسرائیل ہے،لیکن امت مسلمہ اور عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سےعالمی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔اب بھی اگر سمجھ آگئی ہے تو فوری طور پر عمل شروع کر دیا جائے۔
دوحہ میں اسلامی سربراہی اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگی جرائم پر اسرائیل کو کوئی رعایت نہ دی جائے۔یہ بیان صرف بیان کی حد تک نہ رہے بلکہ عملی طور پر اس کا اظہار ضروری ہے۔ قطر حملے کے بعد اگر امت مسلمہ متحد ہو گئی ہے تو یہ خصوصی خوشی کی بات ہے لیکن یقین کرنا مشکل ہے۔بہرحال مثبت امید رکھنی چاہیے کہ امت مسلمہ متحد ہو گئی ہےاور اللہ سےدعا بھی ہے کہ ایسا ممکن ہو جائے۔مسلم ممالک کے سربراہان نےاسرائیل کے خلاف قطر کو جوابی اقدامات کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔اجلاس کے جاری کردہ اعلامیے میں اسرائیل کےبزدلانہ اور غیرقانونی حملے کی شدید مذمت بھی کی گئی اور مذمت کرنی بھی چاہیے کیونکہ آزادریاست پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔اعلامیہ میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ قطر کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔تمام سربراہان نے کہا کہ قطر کی سالمیت مقدم ہے۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کااحترام کرناچاہیے۔عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی کہ اسرائیل کے خلاف مربوط اور ٹھوس اقدامات اٹھائےجائیں،چاہے وہ معاشی،سفارتی ہوں یا قانونی۔اقوام متحدہ کے چارٹراور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ مشرق وسطی میں امن کے لیے مسئلہ فلسطین حل کرنا ہوگا نیزصیہونی جارحیت کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔
اسرائیل کی جارحیت کئی دہائیوں سے جاری ہےاور گریٹر اسرائیل کی طرف مسلسل پیش قدمی کی جا رہی ہے۔شام،یمن سمیت کئی ممالک سے اسرائیل کی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔کچھ عرصہ قبل ایران کے ساتھ بھی جنگ چھڑی اور آئندہ بھی ایران اسرائیل جنگ کا خدشہ موجود ہے۔مستقبل میں اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو یہ خاصی خوفناک جنگ بھی ہو سکتی ہے۔مشرق وسطی میں امن کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل کو لگام ڈالی جائے تاکہ وہ مزید جارحیت سے باز آجائے۔امریکہ کی جانبداری بھی افسوسناک ہےاور بین الاقوامی برادری کی خاموشی بھی بہت ہی افسوسناک ہے۔اقوام متحدہ کا وہ کردار نظر نہیں آتا جو منشور میں لکھا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سےمشرق وسطی میں امن لایا جا سکتا ہے۔دوحہ اجلاس میں عراق کی طرف سےاسلامی دنیا میں نیٹو طرز کی اجتماعی دفاعی نظام کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔اس تجویز کا خیر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ اس سے اسلامی ملکوں کا دفاع مضبوط ہوگا۔کئی اسلامی ممالک معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں لیکن دفاعی لحاظ سے انتہائی کمزور ہیں۔کچھ ممالک دفاعی لحاظ سے مضبوط ہیں لیکن معاشی لحاظ سےانتہائی کمزور ہیں۔اتحاد بنا کر ایک دوسرے کی مدد کر کے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔تقریبا ہراسلامی ملک میں سیاسی سمیت کئی مسائل ہیں،ان کو بھی حل کرنا ضروری ہے تاکہ آگے کی طرف بڑھا جا سکے۔اسرائیل کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں بہت سے ممالک خصوصا مشرق وسطی کےممالک کی سلامتی غیر محفوظ ہو جائے گی۔عالمی امن کے لیے مشرق وسطی کا پرامن ہونا ضروری ہے ورنہ عالمی امن بھی تباہ ہو سکتا ہے۔جس طرح اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ایکشن لیا جائے گا،اگر واقعی ایکشن لیا گیا تو بہت جلد امن متوقع ہے۔قطر سمیت ہر ملک کی سالمیت مقدم ہونی چاہیے۔قطر کے نشانہ بننے سے پہلے کئی ممالک اسرائیل کا نشانہ بن چکے ہیں،اس لیےاسرائیل کو روکنا ہوگا۔غزہ اوراسرائیل کےدرمیان جنگ جاری ہےاوراسرائیل کی جنگ صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہوتا جائے گا۔مشرق وسطی کاخطہ اگر بدامنی کا شکار رہا،تو اس کا مطلب ہوگا کہ عالمی برادری کو امن کی ضرورت نہیں۔امریکہ سمیت کئی طاقتوں کا اسرائیل کی طرف جھکاؤ بتا رہا ہے کہ ان کی خواہش بھی یہی ہے کہ مشرق وسطی میں امن قائم نہ ہو سکے۔دوحہ میں جو عرب اسلامی سربراہی اجلاس ہوا،امید ہے کہ یہ امن کے لیے عظیم پیش قدمی ثابت ہوگی۔