تسلسل کا فقدان اور پاکستانی کرکٹ کا زوال
تحریر: سلمان احمد قریشی
ایشیا کپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی ایک اور شکست نے شائقین کرکٹ کو سخت مایوس کر دیا۔ روایتی حریف کے خلاف ناکامی اب معمول بنتی جا رہی ہے اور یہی سب سے تشویش ناک پہلو ہے۔ اس شکست نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پاکستان کرکٹ کی موجودہ سمت درست ہے یا ہم غیر ضروری تجربات اور گروپنگ کے چکر میں اپنی پہچان کھو بیٹھے ہیں۔ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف پول میچ میں شکست کے بعد ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم تنقید کی زد میں ہے۔ ہر بار کی طرح شکست کا ملبہ کبھی بیٹنگ لائن پر، کبھی فیلڈنگ پر اور کبھی فاسٹ بولنگ پر ڈالا جاتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ زیادہ گہرا ہے۔یہ سلیکشن، کپتانی کی غیر یقینی، گروپنگ اور مسلسل نت نئے تجربات کا نتیجہ ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ہمیشہ جوش و جذبے سے بھری رہی ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مقابلے ہمیشہ دنیائے کرکٹ کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں بھارت نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اب تک 12 میچز ہوئے ہیں جن میں بھارت نے 8 جیتے، پاکستان صرف 3 میں کامیاب ہوا، جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔اسی طرح ون ڈے انٹرنیشنل میں دونوں ٹیمیں 135 بار آمنے سامنے آئیں، پاکستان نے 73 اور بھارت نے 58 میچ جیتے جبکہ 4 بے نتیجہ رہے۔مجموعی طور پر ون ڈے میں پاکستان آگے ہے لیکن پچھلے دس برسوں کے نتائج بھارتی برتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ کی پہچان ہمیشہ فاسٹ بولنگ رہی ہے۔ وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر اور محمد آصف جیسے عظیم بولرز کی دھاک دنیا بھر میں مانی جاتی تھی۔ مگر آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔ شاہین شاہ آفریدی، جنہیں پاکستان کی گیند بازی کا ہتھیار سمجھا جاتا ہے، ایشیا کپ میں بے اثر ثابت ہوئے۔ وکٹیں لینے کی صلاحیت میں کمی اور لائن و لینتھ کا فقدان کھل کر سامنے آیا۔اس کے علاوہ محمد عامر اور حسن علی کو بار بار آزمایا گیا لیکن وہ بھی تسلسل سے کارکردگی نہ دکھا سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فاسٹ بولنگ کا وہ خوف باقی نہیں رہا جس کے سہارے پاکستان بڑے حریفوں کو دباتا تھا۔نئے باولرز جیسے نسیم شاہ، محمد حسنین، شاہنواز دہانی، وسیم جونیئر اور عباس آفریدی کو موقع دیا گیا لیکن یہ سب زیادہ تر ”ٹیسٹ کیس” بن کر رہ گئے۔ کسی پر اعتماد نہ کیا گیا، اور کسی کو تسلسل کے ساتھ کھلایا نہیں گیا۔ نتیجتاً بولنگ کا شعبہ بھی تجربات کی نذر ہو گیا۔ اس غیر سنجیدہ پالیسی نے فاسٹ بولنگ کی پہچان کو بھی داغدار کر دیا۔
پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ ہمیشہ کمزور کڑی رہی ہے۔ اس پر مزید ظلم یہ ہوا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے تجربہ کار اور مستقل مزاج کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر رکھا گیا۔ یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا کیونکہ بیٹنگ لائن اپنی بنیاد سے محروم ہو گئی۔کپتانی کے معاملے میں بھی غیر یقینی کا شکار رہی۔ کبھی شاداب، کبھی شان مسعود، کبھی کسی اور کو آزمانے کا تجربہ ہوا۔ بار بار کپتان بدلنے سے ٹیم میں گروپنگ بڑھی اور کھلاڑی ایک دوسرے کے اعتماد کو سہارا دینے کے بجائے الگ الگ کیمپوں میں بٹ گئے۔ یہ صورتحال ٹیم اسپرٹ کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
بھارتی ٹیم اس وقت بہترین منصوبہ بندی اور تسلسل کی حامل ہے۔ ان کے پاس کوہلی، روہت، کے ایل راہول، بومرا اور جڈیجا جیسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے فارمیٹس میں شاندار تسلسل قائم رکھا ہے۔ ان کے ہاں آئی پی ایل سے نکلنے والا ٹیلنٹ ڈومیسٹک اور نیشنل ٹیم کے ساتھ جڑ کر پروفیشنل کھلاڑی بنتا ہے۔ پاکستان میں پی ایس ایل تو ہے مگر ڈومیسٹک کرکٹ کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
پاکستان کرکٹ میں گروپنگ کوئی نئی بات نہیں، مگر اب یہ زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ کھلاڑی ایک دوسرے کے لیے سپورٹ سسٹم کے بجائے ایک دوسرے کے مخالف کیمپ بن گئے ہیں۔ کپتان کو بااختیار بنانے کے بجائے بورڈ کی سطح پر بھی بار بار مداخلت کی جاتی ہے۔ یہ عمل ٹیم کی کارکردگی کو مزید متاثر کرتا ہے۔اس کے برعکس بھارتی ٹیم کو دیکھیں تو وہاں تسلسل اور منصوبہ بندی ہے۔
پاکستانی کرکٹ میں ایک اور بڑا مسئلہ کمرشل ازم ہے۔ پی ایس ایل نے کھیل کو مالی سہارا دیا مگر اسی کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی ترجیحات بدل گئیں۔ کارکردگی کے بجائے میڈیا کوریج اور اشتہارات اہم بن گئے۔بدقسمتی سے یہاں ہیرو ازم کو کارکردگی پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ہمیں پروفیشنل کرکٹرز کی ضرورت ہے جن کی بنیاد صرف کارکردگی ہو۔ مگر ایک رجحان شاہد آفریدی کے زمانے میں شروع ہوا، جہاں ایک اوسط کھلاڑی کو محض میڈیا اور کمرشل اشتہارات کے سہارے ہیرو بنا دیا گیا۔اس کے برعکس یونس خان، جو واحد فاتح ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپتان ہیں اور سرفراز احمد، جنہوں نے چیمپئنز ٹرافی جتوائی، میڈیا کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ مصباح الحق جیسا بیٹسمین اور کپتان، جس نے مشکل وقت میں ٹیم کو سہارا دیا، میڈیا کے ”ٹک ٹک” بیانیے کا شکار بنا دیا گیا۔ یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ کارکردگی دکھانے والے گمنام رہ جاتے ہیں جبکہ میڈیا اسٹارز قوم کے ہیرو بن جاتے ہیں۔سابق کرکٹرز کی لابیاں بھی اس کلچر کو مزید فروغ دیتی ہیں۔ ان کے ذاتی مفادات اور میڈیا پوزیشننگ نے بھی اصل ٹیلنٹ کو دبایا ہے۔
اس تمام بحران میں سب سے اہم حل یہ ہے کہ بابر اعظم کو فوری طور پر ٹیم میں واپس لایا جائے۔ وہ نہ صرف پاکستان کے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں بلکہ ان کی کپتانی نے ٹیم کو ماضی میں استحکام دیا ہے۔ بابر کی بیٹنگ کلاس اور مستقل مزاجی ٹیم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے بغیر پاکستان کی بیٹنگ لائن یتیم نظر آتی ہے۔پاکستان کرکٹ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ غیر ضروری تجربات کے ذریعے اپنی ساکھ مزید داؤ پر لگانا چاہتی ہے یا پھر ایک مستقل اور مضبوط پالیسی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ بابر اعظم اور رضوان کی واپسی ناگزیر ہے۔ بولنگ میں شاہین کو دوبارہ اپنی فارم بحال کرنی ہوگی جبکہ نئے بولرز کو تسلسل کے ساتھ کھلانا ہوگا۔ کپتانی میں استحکام اور گروپنگ کا خاتمہ بھی لازمی ہے۔
اب ایک سنجیدہ فیصلہ۔۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بھارت جیسے مضبوط حریف کے سامنے دوبارہ فتوحات حاصل کریں تو ہمیں چند بنیادی اقدامات کرنے ہوں گئے سلیکشن صرف اور صرف میرٹ پر ہونی چاہیے۔بولنگ میں تسلسل کے ساتھ کھلاڑیوں کو آزمایا جائے، بار بار تبدیلی نہ کی جائے۔کپتانی کے معاملے میں ایک واضح فیصلہ کر کے اسے کم از کم چند برس کے لیے برقرار رکھا جائے۔ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ اصل ٹیلنٹ نکھر کر سامنے آئے۔میڈیا اور کمرشل ازم کے بجائے کارکردگی کو اصل معیار بنایا جائے۔ایشیا کپ کی حالیہ شکست نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ محض انفرادی کارکردگی پر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ٹیم کو تسلسل، منصوبہ بندی اور میرٹ کی ضرورت ہے۔ جب تک پروفیشنل ازم کو اپنایا نہیں جاتا، گروپنگ ختم نہیں کی جاتی اور ہیرو ازم کے بجائے کارکردگی کو اہمیت نہیں دی جاتی، بھارت کے خلاف شکستوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور شائقین کرکٹ کی مایوسیاں مزید بڑھیں گی۔








