جہاں استاد رہبر ہو ، وہاں محنت رائیگاں نہیں جاتی
تحریر: سلمان احمد قریشی
الحمدللہ! اوکاڑہ کی دھرتی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر محنت، اخلاص اور حوصلے کو اپنا شعار بنا لیا جائے تو محدود وسائل بھی رکاوٹ نہیں بنتے۔ حال ہی میں گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج آف کامرس، اوکاڑہ کی طالبہ کرن نے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، لاہور کے زیرِ اہتمام منعقدہ امتحانات ڈپلومہ ان کامرس میں صوبہ پنجاب بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف اپنے والدین اور اساتذہ بلکہ پورے ادارے اور شہر اوکاڑہ کا نام بھی روشن کر دیا ہے۔
یہ کامیابی دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ محنت رنگ لاتی ہے، لگن منزل سے ہمکنار کرتی ہے اور خلوصِ نیت کے ساتھ اٹھایا گیا ہر قدم تاریخ کے اوراق پر کامیابی کے چراغ جلا جاتا ہے۔ کرن کی یہ شاندار کامیابی ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ والدین کی دعاؤں، اساتذہ کی رہنمائی اور ادارے کے بہترین تعلیمی ماحول کی بھی مرہونِ منت ہے۔
ہر کامیاب طالب علم کے پیچھے تین بڑے ستون ہوتے ہیں: والدین، اساتذہ اور ادارہ۔ والدین کی دعائیں اور قربانیاں کسی بھی منزل تک پہنچنے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ دوسری جانب مخلص اساتذہ اپنی شبانہ روز محنت اور مسلسل رہنمائی سے طالب علم کے ذہن کو تراشتے ہیں، کردار کو نکھارتے ہیں اور منزل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ جبکہ ادارہ وہ چھت فراہم کرتا ہے جہاں یہ ساری کوششیں پروان چڑھتی ہیں۔
کرن کی کامیابی دراصل ایک اجتماعی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے، جس میں ان کے والدین نے ہمت دی، اساتذہ نے راہنمائی کی اور ادارے نے ایک مثبت ماحول فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ کامیابی صرف ایک طالبہ کی نہیں بلکہ پورے شہر اوکاڑہ اور صوبہ پنجاب کی کامیابی ہے۔
اس موقع پر گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج آف کامرس، اوکاڑہ کے پرنسپل رانا احسن کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سرکاری ادارے کے محدود وسائل میں انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں اور وژنری سوچ کے ذریعے ایسا علمی ماحول پیدا کیا جو کسی بڑے نجی ادارے سے کم نہیں۔
انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت اخلاص اور عزم کے ساتھ ادارے کی خدمت کرے تو کم وسائل بھی بڑی کامیابیوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ رانا احسن نہ صرف ایک بہترین منتظم ہیں بلکہ ماہر تعلیم اور علم دوست شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کی رہنمائی میں ادارے کا تعلیمی ماحول ایسا بنا جس میں کردار سازی، ذہنی صلاحیتوں کی آبیاری اور مثبت سوچ کو پروان چڑھایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ ادارہ اوکاڑہ جیسے شہر میں اپنی مثال آپ بن چکا ہے۔
ہمارا معاشرہ ایک عجیب توازن کا شکار ہے۔ ہم انتظامی افسران کی تعریف و توصیف میں بینر آویزاں کرتے ہیں، ڈی پی او اور ڈی سی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر اوٹ پٹانگ حرکات اور کانٹینٹ کو لائکس اور شیئرز کے ذریعے سراہتے ہیں، لیکن اساتذہ کو ان کا جائز مقام دینے سے کتراتے ہیں۔ جن کی رہنمائی سے کامیابی کی بنیاد رکھی جاتی ہے، وہی سب سے زیادہ نظر انداز ہوتے ہیں۔ یہ معاشرتی رویہ اس بات کا غماز ہے کہ ہم طاقت سے مرعوب ہیں اور شو آف کے قائل ہیں۔ ایسے رویوں کے نتیجے میں معاشرتی بہتری کبھی ممکن نہیں ہو سکتی۔ جب تک اساتذہ کو عزت اور پذیرائی نہیں دی جاتی، تعلیمی اور اخلاقی زوال بڑھتا جائے گا، اور یہی زوال ہمارے معاشرتی بگاڑ کی اصل جڑ ہے۔ افسوس کہ حکومت بھی نتائج دینے والے اساتذہ اور محنتی طلبہ و طالبات پر فوکس کرنے کے بجائے سطحی اقدامات تک محدود ہے۔
کرن کی کامیابی اس بات کی عملی تصویر ہے کہ سرکاری ادارے اگر وژنری قیادت اور مخلص اساتذہ کے ساتھ چلیں تو کسی صورت نجی اداروں سے کم نہیں ہوتے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ادارے کمرشل ازم سے پاک ہوتے ہیں۔ یہاں طلبہ کو نہ صرف کم فیس میں معیاری تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ان کی کردار سازی پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
آج جب تعلیم کاروبار کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور نجی ادارے بھاری فیسوں کے ذریعے والدین پر بوجھ ڈال رہے ہیں، اس پس منظر میں گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج آف کامرس، اوکاڑہ جیسے اداروں کی کامیابی یقیناً ایک روشن مثال ہے۔ یہ ادارہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور عزم بلند، تو کم وسائل بھی رکاوٹ نہیں بن پاتے۔
یہ کامیابی صرف ایک پوزیشن یا ایک ایوارڈ نہیں بلکہ پورے شہر اوکاڑہ کے لیے اعزاز ہے۔ ایسے مواقع شہر کی پہچان بن جاتے ہیں، نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوتے ہیں اور تعلیمی اداروں کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔ کرن کی کامیابی یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہے کہ کامیابی دولت یا وسائل کی محتاج نہیں بلکہ محنت، لگن اور استقامت کی مرہونِ منت ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کرن کی پہلی پوزیشن نہ صرف ان کے خاندان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ یہ پورے اوکاڑہ اور پنجاب کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اس کامیابی پر ہم طالبہ کرن، ان کے والدین، مخلص اساتذہ اور پرنسپل رانا احسن کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ یہ کامیابی آنے والی مزید بلندیاں حاصل کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو اور یہ ادارہ اسی طرح کامیابیوں کی منزلیں طے کرتا رہے۔








