پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوامی جیب پر ایک اور بوجھ

تحریر محمد زاہد مجید انور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ

*حکومت نے ایک بار پھر عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا ہے۔ وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے جہاں غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے، وہیں کاروباری طبقے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 276 روپے 81 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت بھی 4 روپے 7 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 268 روپے 68 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پہلے ہی عام آدمی بجلی، گیس اور دیگر روزمرہ اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھنے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ پر ہی نہیں بلکہ پورے مارکیٹ سسٹم پر پڑتا ہے۔ آٹا، سبزیاں، دالیں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں خودکار اضافہ ہو جاتا ہے۔حکومت کی جانب سے اکثر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے یا روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہر بار قربانی صرف عوام ہی کیوں دیں؟ کیا حکومتی اخراجات میں کمی، غیر ضروری پالیسیوں پر نظر ثانی اور کرپشن کے خاتمے کے ذریعے بوجھ کم نہیں کیا جا سکتا؟ایک عام مزدور، جو دن رات محنت کر کے اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتا ہے، جب اسے ہر دوسرے مہینے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر ملتی ہے تو اس کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ تنخواہیں جمود کا شکار ہیں جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔یہ وقت ہے کہ حکومت محض وقتی فیصلوں کے بجائے ایک پائیدار اور منصفانہ معاشی پالیسی مرتب کرے۔ عوام کو ریلیف دینا، ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا اور ان کی زندگی آسان بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔عوامی ردعمل ایک رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا: “روزانہ کا کرایہ بڑھانا پڑتا ہے، مگر لوگ دینے کے قابل نہیں، آخر ہم اپنے بچوں کو کیا کھلائیں؟”ایک گھریلو خاتون نے کہا: “مارکیٹ میں سبزی، آٹا، چینی سب مہنگی ہو جاتی ہیں، بجٹ سے گھر چلانا ناممکن لگنے لگا ہے۔”ایک طالبعلم نے کہا: “ہماری فیسیں اور ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھ گئے ہیں، تعلیم حاصل کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔”ایک مزدور نے شکوہ کیا: “ہم دن رات محنت کرتے ہیں لیکن کمائی پیٹرول اور بلوں میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔”یہ وہ آوازیں ہیں جو ہر گلی، ہر محلے اور ہر شہر سے سنائی دے رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کب ان آوازوں کو سننے کے لیے تیار ہو گی*