“ایک نظر سیلاب زدہ پاکستان پر”
تحریر: “زنیرہ ارشد”
شدید غربت میں حمیدہ تنہا بیوہ عورت بھائی اور بھابھی کی وفات کے بعد لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنی چار یتیم بھتیجوں کی کفالت کرتی رہی تھی _آج وہ بہت خوش تھی کیوں کہ اپنی تین بھتیجیوں کی ذمہ داری بخوبی نبھانے کے بعد چوتھی بھتیجی کے لیے وہ جہیز کا مکمل سامان تیار کر چکی تھی اور مطمئن تھی کہ وہ بہت جلد اپنی آخری ذمہ داری نبھا کا سرخرو ہونے والی ہے_
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ حسب معمول گھر کے کاموں میں مصروف تھی کے پانی کا تیز ریلا حمیدہ کے پاؤں کے ساتھ آ کر ٹکرایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی پہلے گھٹنوں اور پھر گردن تک آن پہنچا_حمیدہ اور اس کی بھتیجی بمشکل اپنی جان بچاتے ہوئے پانی میں بہتے بہاتے ایک اونچے محفوظ مقام تک پہنچیں_اُن کی جان تو بچ گئی لیکن پانی اپنے ساتھ حمیدہ کی سالوں کی محنت کی کمائی اُس کا جمع کیا گیا بھتیجی کے لیے جہیز کا سارا سامان اپنے ساتھ بہا کر لے گیا اور ساتھ میں گھر میں موجود راشن کا تھوڑا بہت سامان جس سے وہ بمشکل گزارا کر رہی تھیں سب اپنے ساتھ بہا کر لے گیا_حمیدہ خالی ذہن اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ آسمان کو تکتی رہ گئی اور اس کی ہی طرح ہزاروں سیلاب متاثرین کبھی نہ پورا ہونے والے نقصان سے دو چار ہوئے ہیں اور اب سیلاب کے بعد آنے والے قحط سے نبٹ رہے ہیں اور مسلسل اپنے رب کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں_
پاکستان کے بیشتر علاقے خیبر پختنخوا، گلگت، بلتستان اور پنجاب سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی )این ڈی ایم اے(نے مئی /جون 2025 میں مون سون کے بارے میں تخمینے جاری کیے، جن میں غیر معمولی زیادہ بارشوں کے امکانات اور فلڈ وارننگ شامل تھی_
جون و جولائی 2025:
پاکستان بھر میں شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس سے ملک کے کئی حصوں بالخصوص خیبرپختون خوا، پنجاب، آزاد جموں و کشمیر سندھ اور بلوچستان میں تباہی مچی_
اگست و ستمبر 2025:
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں)GLOF( گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے میں تیزی آئی، جس سے سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ میں اضافہ ہوا_
مون سون کی بارشوں کی شدت میں اضافے کے باعث مختلف دریاؤں، خصوصاً مشرقی دریاؤں، میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا_
بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے چناب ،راوی اور ستلج میں بھی سیلاب کے امکانات پیدا ہوئے_
سال 2025 کے سیلاب سے بچنے کے لیے حکومت کی طرف سے پاکستان میں کچھ ابتدائی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے تاہم مون سون کی غیر معمولی بارشوں اور دیگر عوامل کی وجہ سے پھر بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی_
حفاظتی اقدامات:
قبل از وقت وارننگ سسٹم:
مارچ 2025 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے جدید قبل از وقت وارننگ سسٹم کو مکمل طور پر فعال کرنے کا اعلان کیا،جو 10 ماہ قبل تک پیش گوئی کر سکتا ہے اور نقصان میں 45 فیصد تک کمی لا سکتا ہے _اس سسٹم کے تحت ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع میں خطرے کے نقشے جاری کیے گئے _
ان اقدامات کے باوجود، جون 2025 میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے خیبر پختون خوا، پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں تباہ کن سیلاب آئے_نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کہ ایک اہل کار نے بھی اعتراف کیا کہ ادارہ جاتی ناکامیاں غیر منظم منصوبہ بندی نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو مزید بڑھا دیا ہے_
وقت کے حکمران دور اندیش نہیں ہیں_اگر وقت رہتے مزید ڈیم بنا لیے جاتے تو سیلاب کا سارا پانی تباہی مچانے کی بجائے ذخیرہ کر لیا جاتا تو اس کا استعمال ملک کی فلاح میں کیا جاتا_اور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا آئندہ سالوں کومحفوظ بنا لیا گیا ہے؟اور کیا سلاب کے بعد آنے والے قحط اور بے گھر لوگوں کے نقصان کو پورا کیا جا سکے گا؟
سیلاب کے بعد ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں_ بہت سوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے اور جو باقی بچ گئے ہیں اب ان کے پاس کھانے کو کھانا اور رہنے کو گھر نہیں ہے_عوام کو ساری ذمہ داری حکومت پر نہ ڈالتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت کام لینا ہوگا_
ہمارا پیارا وطن عزیز پاکستان وقتاً فوقتاً بہت سارے ایسے حالات سے دوچار ہوتا رہا ہے مگر اس کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا ہے _ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام مل کر کام کریں جو علاقے سیلاب سے محفوظ رہے ہیں وہاں کے لوگ سیلاب زدگان کو امداد مہیا کریں_ہر شہری اور دیہاتی درخت لگانے کی طرف راغب ہو اور بلاوجہ درخت کاٹنے سے گریز کریں_حکومت مزید ڈیم بنا کر آنے والی سالوں کو محفوظ بنائے،دریاؤں اور ندی نالوں کے کناروں کے گردغیر قانونی قبضوں) سوسائٹیز( کو ختم کروا کے ملک کے تحفظ کو حتمی بنایا جائے ،عوام کو اس چیز پر عمل درامد کروایا جائے کہ وہ قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے اور ملک میں اسلامی قانون نافذ کرے اور ملک سے بے حیائی اور فحاشی کو مٹانے کے لیے سخت اقدامات کرے تاکہ یہ ملک جو لا الہ الا اللہ کے نظریے کے تحت حاصل کیا گیا تھا وہاں حقیقی معنوں میں اسلام کا دور دورہ ہو اور ہم اپنے آنے والے سالوں کو محفوظ کر سکیں کیونکہ یہ صرف سال ہا سال آنے والے ناگہانی آفات نہیں ہیں بلکہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں جو ہم کرتے آ رہے ہیں_
دعا ہے کہ اللہ تعالی پاکستان سمیت تمام امت مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین شکریہ!






