تحریکِ ختمِ نبوت کے عظیم مجاہد مولانا محمد صدیق اختر سلفیؒ
تحریر : زبیر احمد صدیقی 

چونڈہ کی دھرتی کے سپوت کی پچاس سالہ دینی و تحریکی خدمات
آج سے سترہ سال قبل مورخہ 24 اکتوبر 2008 بروز جمعتہ المبارک تھا اور سترہ سال کے بعد آج بھی 24 اکتوبر 2025 بروز جمعتہ المبارک ہے۔۔۔۔
شہدائے چونڈہ کی سرزمین ہمیشہ بہادروں، جانبازوں اور دین کے سچے خادموں کی جائے پیدائش رہی ہے۔ اسی دھرتی نے ایک ایسے مرد مجاہد کو بھی جنم دیا جس نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے اپنی زندگی کا بیش قیمت حصہ وقف کر دیا۔ یہ عظیم ہستی ہیں حضرت مولانا محمد صدیق اختر سلفی رحمہ اللہ علیہ، جو تحریکِ ختمِ نبوت کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
مولانا محمد صدیق اختر سلفیؒ ایک جری، نڈر اور علم و عمل کے پیکر انسان تھے۔ آپ نے ساری زندگی تحریکِ ختمِ نبوت کے لیے بھرپور خدمات سرانجام دیں۔ آپ کے وعظ و خطابات نے نوجوانوں میں ایمان کی حرارت پیدا کی اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کو عام کیا۔
آپ کے شاگردوں اور معاصر علما کے مطابق، مولانا سلفی رح نے دینی و علمی میدان میں غیر معمولی محنت کی۔ قرآن و سنت کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ انہوں نے باطل نظریات کے خلاف قلم اور زبان دونوں سے جہاد کیا۔ آپ کے خطابات ہمیشہ مدلل، دل نشین اور علم و بصیرت سے بھرپور ہوتے تھے۔
مولانا محمد صدیق اختر سلفی رح کا تعلق ایک نہایت دین دار اور علمی گھرانے سے تھا۔ بچپن ہی سے آپ کو دینی علوم سے گہری دلچسپی تھی۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے مکتب میں حاصل کی، بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف نامور اداروں میں داخلہ لیا اور ممتاز اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران جب چونڈہ کا میدان سرخ آگ میں دہک رہا تھا، اس وقت بھی مولانا صاحب عوام کے حوصلے بلند رکھنے اور صبر و استقامت کی تلقین کرتے رہے۔ وہ نہ صرف دینی رہنما بلکہ ایک محبِ وطن پاکستانی بھی تھے جنہیں اپنے وطن سے بے پناہ محبت تھی۔
1973ء کے آئین کی تدوین کے دوران جب عقیدۂ ختمِ نبوت کے دفاع کے لیے تحریک نے زور پکڑا تو مولانا صدیق اختر سلفی رح صفِ اول میں نظر آئے۔ آپ نے جلسوں، جلوسوں اور عوامی اجتماعات میں پرجوش انداز میں شرکت کی اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی۔
آپ کی زندگی کا ہر لمحہ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھا۔ علمی کاموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے نوجوان نسل کی اصلاح و تربیت میں بھی گہرا کردار ادا کیا۔ ان کے شاگرد آج بھی مختلف علاقوں میں دین کی خدمت کر رہے ہیں اور اپنے استاد کی تعلیمات کو عام کر رہے ہیں۔ اس مجاہد ختم نبوت
مولانا صدیق اختر سلفی رح نہ صرف عالمِ دین بلکہ ایک باکردار انسان بھی تھے۔ ان کی گفتگو میں نرمی، انداز میں وقار اور طبیعت میں انکساری نمایاں تھی۔ آپ نے ہمیشہ اتحادِ امت اور باہمی رواداری کا درس دیا۔
سن 1953ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے دوران ملتان اور سیالکوٹ جیل میں کئی ماہ پاپند سلاسل رہے ۔آپ نے ہوری دنیا کی مرزائیت کو للکارتے ہوئے کہا کہ جب تک میرے جسم میں جان اور منُہ میں زبان ہے ۔آخرالزمان پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حُرمت اور تحفظ ختم نبوت کی خاطر خون کا آخری قطرہ تک بہادوں گا لیکن کسی کزاب لعین ،ظلی، بروزی ،نبوت کے دعویدار کی دعوت وتبلیغ اور کسی سے کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا۔ کی دہائی میں جب بعض قوتوں نے ختمِ نبوت کے نظریے پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو مولانا سلفی رح نے ہر سطح پر اس کا جواب دیا۔ بلکہ 29 جولائی 1988 ء بروز جمعتہ المبارک کو مرزا کا چیلنج قبول کرکے چونڈہ سے لنڈن تک للکارا اور 5 اگست 1988 ء بروز کو جب میدان عمل میں کوئی مباہلہ کے لیے نہ نکالا تو فتح مباہلہ منائی اور قیامت تک ان کی زریت کو بھی چیلنج دے دیا ساتھ مرزائیت پر اتمام حجت کے لیے اشتھار بھی شائع کیا۔ آپ کے خطابات نے عوام میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی آگہی پیدا کی اور لوگوں کے دلوں میں نبی کریم ﷺ سے محبت کو مزید بڑھایا۔ اور کافی تعداد میں ہندوں خاندان اور مرزائی اسلام میں داخل ہوگئے ۔
آج بھی سترہ سال کے بعد پھر جمعتہ المبارک کو آپ کی وفات کا دن ہے آپ 24 اکتوبر 2008 ء جمعتہ المبارک کے دن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا فانی کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملے ۔ آنکھیں کھُلی ہوئی تھی روح تعاقب کرتی ہوئی اعلی علین کو پرواز کرگئی ۔ اناللہ واناالیہ راجعون ۔
خواجہ حافظ لئیق احمد بٹ حفظ اللہ کے سُسر ڈاکٹر ارشاد علی ارشاد اپنی تعزیتی نظم میں مولانا کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں۔
آنکھیں کُھلی ہوئی تھیں۔
جب میں نے انہیں دیکھا۔
شائد کوئی پیغام تھا۔
جب میں نے انہیں دیکھا ۔
وقت صلاۃ تھا سب کو ہی انتظار سویا ہوا امام تھا۔۔۔
جب میں نے انہیں دیکھا
جنازے پہ تھا لوگوں کا ایک جم غفیر یہ انہی کا فیض عام تھا۔
جب میں نے انہیں دیکھا۔
۔۔تحفظ ختم نبوت کے لیے وہ تیغ بے نیام تھا جب میں نے نہیں دیکھا
آپ کی وفات علاقے کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا۔ اسوقت قدیمی پل ایک کانفرنس بھی جاری تھی سیالکوٹ چونڈہ کے علاوہ آل پاکستان سے آنے والے معزز مہمانان گرامی اور علماء کرام کیساتھ ہزاروں افراد نے غم و اندوہ کے ساتھ آپ کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی آپ کے دو جنازے ہوئے ایک چونڈہ میں پروفیسر حافظ مطیع الرحمان حفظ اللہ نے پڑھایا اور دوسرا مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان سینٹر پروفیسر حافظ ساجد میر رح نے نماز جنازہ پڑھائی اللھمہ اغفروارحمہ ۔۔۔۔۔
آج بھی ان کے عقیدت مند ہر سال ان کی یاد کو تازہ کرتے ہیں اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ ان کے ان کی مسند کے وارث حضرت مولانا خواجہ ڈاکٹر حافظ شفیق اختر حفظ اللہ ، حضرت مولانا خواجہ حافظ لئیق احمد بٹ حفظ اللہ ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔
یقیناً حضرت مولانا محمد صدیق اختر سلفی رح کی زندگی ایمان، علم، اخلاص اور جہدِ مسلسل کا روشن باب ہے۔ وہ نہ صرف چونڈہ بلکہ پورے خطے کے لیے باعثِ فخر اور امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔۔۔۔۔






