آئمہ مساجد کا وظیفہ: مولانا فضل الرحمٰن کا خوف بلاوجہ نہیں
کالم نگار عابد محمود عزائم
پاکستان میں مذہب ایک اجتماعی شناخت ہے جو ہمارے قومی وجود کے خمیر میں رچی بسی ہے۔ اسی مذہبی روح کی نمائندگی کرنے والے ائمۂ مساجد ہماری معاشرتی زندگی کے وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتے ہیں۔ وہ صرف نماز کی امامت نہیں کرتے، بلکہ دلوں کی اصلاح، نسلوں کی تربیت اور معاشرتی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کے قدموں سے منبر کی سیڑھیاں روشن رہتی ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ جو دوسروں کے دلوں کو منور کرتے ہیں، وہ خود معاشی تنگی کے اندھیروں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ائمہ مساجد کی زندگی سادگی، خدمت اور قربانی کا استعارہ ہے، لیکن ان کی گزر بسر کا دار و مدار اکثر محلے کے چندے، عطیات اور کمیٹی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ ہمیشہ سے میرا یہ مؤقف رہا ہے کہ ائمہ کو ریاست کی طرف سے باقاعدہ تنخواہ ملنی چاہیے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، ہم ٹیکس ادا کرتے ہیں، لہٰذا اگر ریاست اپنے شہریوں کو سہولیات دیتی ہے تو امام مسجد بھی اس کے مستحق ہیں۔ اگر حکومت وظیفے کے ذریعے امام کی زندگی میں استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے تو یہ بظاہر ایک فلاحی قدم ہے، مگر یہ کہانی اتنی سادہ نہیں۔ حال ہی میں پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر کے 65 ہزار آئمہ کرام کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔ بظاہر یہ اقدام خیرخواہی اور دینی خدمت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا مؤقف ہے کہ “امام مسجد کو چندے کی غیر یقینی آمدنی پر نہیں چھوڑا جا سکتا، ریاست اس کا سہارا بنے گی تاکہ وہ وقار کے ساتھ دین کی خدمت کر سکے۔” یہ بات بظاہر درست لگتی ہے کہ اگر امام مسجد بھی اسی ریاست کا شہری ہے تو سہولت کا حق دار ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ریاستی کفالت کے ساتھ فکری آزادی کیسے برقرار رہے گی؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی ریاست کسی مذہبی یا فکری طبقے کی کفالت شروع کرتی ہے تو کچھ عرصے بعد وہ اس کے نظریات، زبان اور منبر پر اپنا سایہ ڈال دیتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن جیسے رہنماؤں کی تشویش اسی تجربے سے جنم لیتی ہے۔ ان کے نزدیک “یہ اقدام آئمہ کرام کو سرکاری ملازم بنانے کی ایک تدریجی سازش ہے۔ آج تنخواہ ملے گی، کل خطبے کے موضوع کا حکم آئے گا۔”
اگرچہ ان کی سیاست اور طرزِ عمل پر اختلاف ممکن ہے، مگر اس مخصوص معاملے میں ان کا اندیشہ محض ایک قیاس نہیں بلکہ تاریخی تجربات کا نچوڑ ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مسجد ہمیشہ ریاست کے تابع نہیں رہی، بلکہ ریاست کو مسجد کے تابع ہونا چاہیے تھا۔ مسجد امت کا مرکز تھی، جہاں سے صداقت کی صدا بلند ہوتی تھی اور ظلم کے خلاف احتجاج ابھرتا تھا۔ اگر یہ منبر سرکاری بیانیے کا ترجمان بن گیا تو پھر سچائی کی صدا کہاں سے اٹھے گی؟
ریاست کے خلاف بولنا ہرگز کوئی فرض نہیں اور ریاست مذہب کی دشمن بھی نہیں، مگر ریاست کو مذہب، علما، مساجد اور مدارس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کا حق بھی نہیں دیا جا سکتا۔ اگر امام مسجد ریاستی تنخواہ پر ہوگا تو وہ غلط پالیسیوں پر تنقید کرنے سے پہلے نوکری کے انجام کا سوچے گا۔ جب روزی کا دروازہ بند ہونے کا خدشہ ہو تو زبانیں خود بخود بند ہو جاتی ہیں۔ یقیناً کئی ممالک میں خطبۂ جمعہ سرکاری طور پر طے کیا جاتا ہے اور وہاں امن و نظم بھی ہے، مگر ان ممالک کی مذہبی تاریخ، سماجی ساخت اور ریاستی نیت ہم سے مختلف ہے۔ ہمارے ہاں جب بھی مذہب ریاست کے قریب ہوا، سیاست نے اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ افغان جنگ کے دوران منبر و محراب کو سیاسی مقاصد کے لیے بروئے کار لایا گیا۔ بعد میں مختلف حکومتوں نے مذہب، مدارس اور علماء کو اپنے مفادات کے لیے کبھی جہ۔اد، سیاست، مسلکی تعصب اور کبھی “اعتدال” کے عنوان سے استعمال کیا۔ اب اگر امام مسجد کو سرکاری تنخواہ دی جائے تو بعید نہیں کہ کل اسے “قومی مفاد” کے نام پر مخصوص موضوعات پر بولنے کا پابند کر دیا جائے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کے پی کے میں آئمہ کو حکومت سے تنخواہیں ملتی ہیں اور تاحال ان کی آزادی پر قدغن نہیں لگی۔ یہ خوش آئند بات ہے، مگر اصولی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا اس آزادی کی ضمانت آئندہ بھی باقی رہے گی؟ اگر حکومت واقعی خیرخواہی چاہتی ہے تو اس نظام کو ایسے تحریری اصولوں اور شرائط کے ساتھ لانا چاہیے جن سے مداخلت کا راستہ بند ہو۔
ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ جب ریاست نے مدارس کی کفالت کی کوشش کی تو وہاں سے دینی روح رفتہ رفتہ ماند پڑ گئی۔ کئی ممالک میں حکومتوں نے مساجد و مدارس کو اپنے تابع کر کے معاشرے سے دینی تشخص ہی ختم کر دیا۔ ہمارے ہاں جب ہزاروں سرکاری ادارے نجکاری کی نذر ہو رہے ہیں، ملازمین فارغ کیے جا رہے ہیں تو ایسے میں اچانک آئمہ مساجد سے “محبت” کا اظہار سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ واقعی ایک فلاحی جذبہ ہے یا کسی بڑے فکری منصوبے کی تمہید؟
جب آئی ایم ایف سے بندھی ہوئی ریاست اپنے بجٹ، پالیسی اور نصاب میں خود مختار نہیں تو مذہبی بیانیے میں خودمختاری کیسے برقرار رکھ سکتی ہے؟ بعض حلقے کہتے ہیں کہ حکومت کا اصل مقصد مذہب کو “اعتدال” کے دائرے میں لانا ہے۔ اعتدال یقیناً مطلوب ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اعتدال کس تعبیر کا ہوگا؟ وہ جو قرآن و سنت سے پھوٹتا ہے، یا وہ جو بین الاقوامی طاقتوں کے بیانیے سے ہم آہنگ ہے؟ اگر ریاست یہ طے کرنے بیٹھ جائے کہ دین کی تشریح کون کرے گا تو دین کی روح رفتہ رفتہ تحلیل ہو جاتی ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ امام مسجد کو عزت، وقار اور استحکام ضرور دیا جائے، مگر اس کے ساتھ فکری آزادی کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جائے۔ حکومت اگر واقعی ائمہ کرام کی فلاح چاہتی ہے تو ایک “امام ویلفیئر فنڈ” قائم کیا جا سکتا ہے، جس کی نگرانی ریاست کے ساتھ ساتھ علماء، سماجی تنظیمیں اور مقامی کمیونٹیز بھی کریں۔ ریاست فنڈ میں اپنا حصہ ڈالے مگر منبر کی آزادی پر ہاتھ نہ ڈالے۔ اسی طرح “کمیونٹی پارٹنرشپ ماڈل” کے تحت مساجد کو عوامی ملکیت کے دائرے میں رکھا جائے، تاکہ مسجد کا تعلق محلے کے دل سے جڑا رہے، کسی دفتر کے فائل سے نہیں۔ آئمہ مساجد کے لیے باقاعدہ تربیتی نظام ہونا چاہیے تاکہ وہ دینی رہنمائی کے ساتھ معاشرتی اصلاح کا کردار بھی ادا کر سکیں، مگر یہ تربیت فکر کی اصلاح کے لیے ہو، بیانیے کی تبدیلی کے لیے نہیں۔
مسجد اگر منبرِ صداقت رہی تو یہ ملک سلامت رہے گا، مگر اگر مسجد سرکاری منصوبے کا حصہ بن گئی تو ہم اپنی فکری آزادی کھو بیٹھیں گے۔ آئمہ کرام کے معاشی تحفظ کی ضرورت اپنی جگہ درست ہے، مگر فکری خودمختاری اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ ریاست اگر واقعی دین سے محبت کرتی ہے تو اسے اس محبت کو منصوبے کے بجائے خدمت کی صورت میں ظاہر کرنا ہوگا۔ مسجد ریاست کی تابع نہیں، بلکہ ریاست مسجد کی امانت ہے اور اگر اس امانت پر سیاست کا رنگ چڑھ گیا تو پھر منبرِ رسول ﷺ سے سچ کی صدا نہیں، اقتدار کی بازگشت گونجے گی۔
(عابد محمود عزام)
ضربِ مومن اور روزنامہ اسلام: الزامات اور حقائق
پاکستان کی مذہبی صحافتی تاریخ میں ہفت روزہ ضربِ مومن اور روزنامہ اسلام دو ایسے نام ہیں جو محض اخبارات نہیں، بلکہ تحریکوں کا استعارہ ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جنہوں نے صحافت کے تاریک گوشوں میں روشنی بھری، جب الفاظ فروخت ہو رہے تھے اور ضمیروں پر نرخ لگ چکے تھے۔ اُس دور میں مذہبی طبقے، دینی مدارس، مذہبی جماعتوں اور شخصیات کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، اسلام کے خلاف پروپیگنڈا عروج پر تھا اور دہ۔ شت گر۔ دی کو اسلام کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا۔ ایسے میں ان اخبارات نے خبر کو کاروبار نہیں بلکہ امانت سمجھا۔ صفحات کو منافع کے لیے نہیں، بلکہ امت کی بیداری کے لیے استعمال کیا۔ نہ صرف سچ عوام تک پہنچایا، بلکہ گھروں تک فکری تربیت پہنچائی۔ دونوں اخباروں نے ہمیشہ مذہبی جماعتوں، شخصیات اور دینی مدارس کو جگہ دی، ان کی آواز کو نمایاں کیا اور ہر موقع پر دینی حلقوں کا ساتھ دیا۔
دینی صحافت نے اندھی تقلید نہیں کی، بلکہ حالات کے آئینے میں حق کا رخ دیکھا، دلیل سے بات کی اور ایمان سے لکھی۔ یہ اخبارات نظریے اور ضمیر کے تابع تھے اور ضمیر ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ضربِ مومن اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب امتِ مسلمہ روسی در۔ ندگی کے سامنے تنہا کھڑی تھی۔ دنیا خاموش تھی، اقوامِ متحدہ اندھی تھی اور عالمی میڈیا مغرب کا ترجمان بن چکا تھا۔ ایسے میں ضربِ مومن نے قلم کو تلوار بنایا۔ امت کے درد کو محسوس کیا اور صحافت کو نیا مفہوم دیا کہ قلم وہی معتبر ہے جو دین کی خدمت میں چلے۔ یہی اخلاص تھا جس نے اسے نظریاتی دباؤ، حکومتی پابندیوں اور عالمی مزاحمت کے باوجود زندہ رکھا۔ ضربِ مومن بند تو ہوا، مگر اس نے جو فکری روشنی پیدا کی، وہ بعد کے ہر دینی اخبار کی بنیاد بن گئی۔
میں نے خود بچپن سے ضربِ مومن پڑھا، پھر جامعۃ الرشید میں اس کے مواد کا باریک مشاہدہ کیا اور بعد ازاں اس میں لکھنے کا موقع بھی ملا۔ اسی تسلسل میں جب دینی صحافت کو نئے دور میں ایک پُرخلوص، باوقار اور متوازن نمائندے کی ضرورت تھی تو روزنامہ اسلام نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ روزنامہ اسلام کے مختلف شعبوں میں بھی کئی سال ذمہ داریاں سنبھالے رکھیں۔ روزنامہ اسلام جذبے سے دانش تک کے سفر کی علامت ہے۔ اس نے امت کے مسائل کو جذبات کے نہیں، عقل و استدلال کے ساتھ بیان کیا۔ جب عالمی طاقتوں نے اسلام کو دہ۔ شت گر۔ دی کے مترادف قرار دیا اور مذہبی آوازوں پر میڈیا کے دروازے بند کیے جا رہے تھے، تب روزنامہ اسلام نے اعتدال کی راہ اپنائی۔ نہ خوف سے پیچھے ہٹا، نہ اشتعال سے آگے بڑھا۔ اس اخبار نے لبرل ازم، سیکولر ازم اور الحاد کے فکری حملوں کا علمی اور مدلل جواب دیا۔ یہ ریاست مخالف نہیں تھا، مگر اندھی ریاست پرستی کا بھی قائل نہیں۔ یہ دین کا وکیل تھا۔ اس نے بتایا کہ ریاست سے وفاداری ہوسکتی ہے، مگر وابستگی صرف اسلام سے ہونی چاہیے۔ روزنامہ اسلام کے خصوصی صفحات، خصوصاً “خواتین کا اسلام” اور “بچوں کا اسلام” نے گھروں کو فکری تربیت گاہوں میں بدل دیا۔ یہ وہ صحافت تھی جو اصلاح کو خبر کے قالب میں ڈھالتی تھی۔
حالیہ دنوں میں جب مفتی عبدالرحیم کی جانب سے سانحہ لال مسجد میں طالبات کی شہا۔ دت کی نفی اور افغان طا۔ لی بان کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید سامنے آئی تو کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ماضی میں انہی اخبارات نے ان واقعات کو مختلف انداز میں کیوں پیش کیا۔ سوال اٹھایا گیا کہ اُس وقت جھوٹ بولا گیا تھا یا آج جھوٹ بولا جا رہا ہے؟ درحقیقت نہ ماضی جھوٹ تھا، نہ آج جھوٹ ہے۔ یہ اعتراض فہمِ زمانہ کی کمی کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا کہ ضربِ مومن اور روزنامہ اسلام نے ماضی میں طا۔ لی بان کو “مجا۔ ہد” کہا اور آج “دہ۔ شت گر۔ د” کہہ دیا، دراصل فہم کا مغالطہ ہے۔ جب طا۔لی بان اسلام کے لیے قربانیاں دے رہے تھے، وہ مجا۔ ہد تھے۔ جب وہ غیر ملکی افواج سے برسرپیکار تھے، وہ ہیرو تھے، جب اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا تھے تو عظیم لوگ تھے، لیکن جب وہ نسلی و لسانی تعصبات کا شکار ہو کر پاکستان دشمن قوتوں کے آلہ کار بن گئے، جب انہوں نے تی تی پی کے ذریعے معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنایا، تب ان پر تنقید بھی حق ہے اور اب وہ ظالم ہیں۔ جہاں تک لال مسجد کے سانحے کا تعلق ہے، اُس وقت اطلاعات متضاد تھیں، ریاست حملہ آور تھی، میڈیا منقسم تھا اور مذہبی طبقہ مشتعل۔ حقائق کسی کو معلوم نہیں تھے اور درست اعداد و شمار دستیاب نہ تھے۔ دینی اخبارات نے اُس وقت انسانی المیے پر آواز اٹھائی، جو ان کا دینی و اخلاقی فریضہ تھا۔ اگرچہ ریاستی دباؤ بہت زیادہ تھا، مگر انہوں نے ظلم کے خلاف لکھنے سے گریز نہیں کیا۔ بعد میں جب شواہد سامنے آئے تو معتبر علماء اور اہلِ علم کے مؤقف میں وضاحت پیدا ہوئی۔ بہت سے علماء نے اپنے موقف سے رجوع کیا۔ یہ تبدیلی نہیں، بلکہ سچائی کی تصحیح تھی۔ سچائی پر لوٹ آنا ہی دراصل صحافتِ ایمان کی علامت ہے۔
یہ اخبارات نہ ریاست دشمن تھے نہ ریاست پرست۔ انہوں نے ہمیشہ “اصلاحِ ریاست” کے اصول پر بات کی۔ اگر ریاست اسلامی نظریات کے ساتھ کھڑی ہوئی تو انہوں نے اس کی تائید کی اور اگر وہ انحراف کی راہ پر چلی تو حق گوئی سے گریز نہیں کیا۔ یہی توازن ان کا امتیاز ہے۔ ضربِ مومن نے امت میں حرارتِ ایمان پیدا کی، جبکہ روزنامہ اسلام نے حکمت و توازن کی فضا قائم کی۔ ان دونوں کا صحافتی معیار اتنا بلند تھا کہ مخالف نظریاتی حلقے بھی اس کے معترف تھے۔ یہ دونوں اخبار پاکستانی صحافت کو ایمان اور علم کے دو ستون عطا کر گئے۔ ضربِ مومن اور روزنامہ اسلام اسی ضمیر کی وہ آواز ہیں جنہوں نے امت کو بتایا کہ خبر کا مقصد اطلاع نہیں، اصلاح ہے۔
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اخبارات ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ہیں، مگر یہ محض الزام ہے۔ دونوں اخبارات کی پالیسی ہمیشہ سچی، معیاری، تعمیری اور معتدل رہی۔ انہوں نے جو بات درست سمجھی، اسے بے خوف ہو کر لکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر پابندیاں لگیں، دفاتر بند کیے گئے، مگر انہوں نے حق کہنا نہیں چھوڑا۔ اگر یہ ریاست کے نمائندے ہوتے تو پابندیاں نہ لگتیں، ضربِ مومن بند نہ ہوتا۔ لال مسجد کے واقعے کے وقت آمر پرویز مشرف کے خلاف انہوں نے کڑا اور سخت موقف اپنایا، چاہے اسٹیبلشمنٹ اس پر ناراض ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بار سچ مگر سخت موقف اپنایا۔ یہی جرأتِ ایمانی ان کی پہچان ہے۔
(عابد محمود عزام)
بریلوی مکتب فکر: اکثریت بے وقعت کیوں؟
بریلوی مکتبِ فکر کے معروف عالمِ دین مولانا حامد سعید کاظمی نے ایک اجلاس میں نہایت درد بھرے لہجے میں کہا: “ہم ستر فیصد ملکی آبادی کا حصہ ہیں اور ہماری کوئی وقعت و حیثیت نہیں۔ فضل الرحمٰن ایک بیان دیتا ہے تو پوری دنیا میں اس کا وزن محسوس کیا جاتا ہے اور ہم یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارا بیان اخبار میں جگہ پائے گا یا نہیں۔” یہ جملے محض شکوہ نہیں، بلکہ ایک پورے طبقے کے زوال اور بے وزنی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ “ستر فیصد” والا تخمینہ مبالغہ آمیز لگتا ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ بریلوی مکتبِ فکر پاکستان میں سب سے بڑی مذہبی اکثریت رکھتا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد کے باوجود یہ مکتب فکر ادارہ جاتی اور سیاسی سطح پر غیر مؤثر کیوں ہے؟
تاریخ پاکستان کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ دیوبندی مکتب نے مدارس، تنظیموں اور فکری اداروں کے ذریعے اپنی شناخت منوائی۔ دینی مدارس پر خصوصی توجہ دی، جس سے ہر شعبہ میں افراد میسر آئے۔ ان کے ہاں تعلیم، تحقیق، تنظیم اور قیادت کا ایک واضح نظام موجود ہے۔ اس کے برعکس بریلوی مکتب کی بنیاد مزارات، خانقاہوں اور گدیوں پر رکھی گئی، جو روحانی وابستگی کا سرچشمہ تو بنے، مگر فکری و تنظیمی مرکز نہ بن سکے۔ یہاں قیادت علم و صلاحیت کے بجائے موروثیت، شہرت اور خاندانی وراثت سے منتقل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ فکری تسلسل ٹوٹ گیا، ادارہ جاتی نظم بکھر گیا اور قیادت شخصیات تک محدود رہ گئی۔
بریلوی سیاست ہمیشہ ردِعمل سے جنم لیتی رہی ہے۔ گستاخیِ رسول ﷺ کا کوئی واقعہ ہو یا سیاسی محرومی کا احساس، جذبہ عروج پر ہوتا ہے، مگر پالیسی سازی، مکالمہ اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا فقدان نمایاں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریکیں وقتی طور پر تو جذبات بھڑکاتی ہیں، مگر دیرپا اثر نہیں چھوڑتیں۔ بریلوی قیادت زیادہ تر مشائخ، گدی نشینوں اور واعظین پر مشتمل رہی ہے۔ ان میں سے اکثر نے نہ تحقیق و تصنیف میں کوئی نمایاں کردار ادا کیا، نہ جدید فکری مباحث میں۔ منبر پر زیادہ تر مناقب، کرامات، واقعات اور روایتی خطابات سنائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً تعلیم یافتہ طبقہ ان سے دور ہوا اور یہ مکتب عوامی مذہب کی سطح تک محدود رہ گیا۔ جبکہ دوسری طرف دیوبندی مکتب نے علمی جرائد، تحقیقی مراکز اور فکری فورمز قائم کیے جنہوں نے جدید فکری چیلنجز میں بھرپور حصہ لیا۔
بریلوی مکتب کا ایک بڑا مسئلہ مرکزی نظم کا فقدان بھی ہے۔ نہ کوئی ایسا ادارہ جو مدارس، تنظیموں اور قیادت کو ایک لڑی میں پرو دے، نہ کوئی مربوط نظامِ تعلیم جو دینی و عصری علوم کو ساتھ لے کر چلے۔ مدارس اب بھی روایتی نصاب تک محدود ہیں، جہاں سیاست، صحافت، سماجیات، قانون اور معیشت جیسے موضوعات کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ نتیجتاً ان کے فارغ التحصیل علماء جدید فکری دنیا سے کٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ ملک کے بڑے آستانے اور خانقاہیں لاکھوں عقیدت مندوں اور کروڑوں کے بجٹ رکھتی ہیں، مگر یہ وسائل شخصی نمائش اور روحانی تقریبات تک محدود ہیں۔ علمی منصوبے، تحقیقی اکیڈمیاں، یا تھنک ٹینک اب تک خواب ہیں۔
میڈیا میں بھی ان کا کردار غیر منظم ہے۔ “مدنی چینل” جیسے پلیٹ فارم اگرچہ عوام میں مقبول ہیں، مگر ان کا مواد زیادہ تر جذباتی اور منبرانہ ہے، صحافتی یا تحقیقی نہیں۔ اس کے برعکس دیوبندی مکتب نے اپنے اخبارات، میگزین اور ویب پلیٹ فارمز کے ذریعے بیانیہ مضبوط کیا۔ “ضربِ مومن”، “روزنامہ اسلام”، “خواتین کا اسلام” اور “بچوں کا اسلام” نے بیس پچیس سال پہلے سے فکری سطح پر اثرات مرتب کرنا شروع کردیے تھے۔
تی ایل پی نے بریلوی عوامی طاقت کو ضرور منظم کیا، مگر ان کی سیاست اب بھی جذباتی نعروں اور احتجاجی ردِعمل تک محدود ہے۔ سیاسی قوت کے لیے جو فکری تربیت، صبر، استقامت اور پالیسی وژن چاہیے، وہ ابھی ناپید ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بریلوی مکتب میں ایسے اہلِ علم کم ہیں جو الحاد، سیکولر ازم، لبرل ازم یا مذہبی بیزاری جیسے جدید فکری چیلنجز پر سنجیدہ تحقیقی کام کر رہے ہوں۔ نہ کوئی تھنک ٹینک، نہ ریسرچ سینٹر، نہ علمی مجلات۔ اسی خلا نے ان کے فکری بیانیے کو وقت سے پیچھے چھوڑ دیا۔
بریلوی مکتب کی ایک نفسیاتی کمزوری یہ بھی ہے کہ اس کی شناخت ہمیشہ “ہم ان سے مختلف ہیں” کے اصول پر قائم رہی، بجائے اس کے کہ “ہم امتِ مسلمہ کا حصہ ہیں۔” یہی رویہ فکری تنہائی اور نوجوان نسل سے دوری کا سبب بنا۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا اور فکری مکالمے کی دنیا میں رہتا ہے، مگر بریلوی خطابت کا انداز اب بھی پرانے منبر اور پرانی زبان میں الجھا ہوا ہے، لیکن یہ کہنا بھی انصاف نہ ہوگا کہ بریلوی مکتب صرف کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ اس مکتب میں محبتِ رسول ﷺ، روحانیت اور عوامی اثر جیسی بے پناہ قوتیں موجود ہیں۔ اگر یہی قوتیں علم، فکر اور تنظیم کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو یہ مکتب امت کے فکری و روحانی منظرنامے کا مرکز بن سکتا ہے۔
یہ تحریر کسی مکتب کی تضحیک نہیں، بلکہ اصلاح اور خود احتسابی کی دعوت ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ بریلوی قیادت اپنی روحانی طاقت کو فکری نظم میں ڈھالے، اپنی عوامی اکثریت کو تعمیری سمت میں لے جائے اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبے کو عملی حکمتِ عملی کا عنوان دے۔ اگر ایسا ہو گیا تو بریلوی مکتبِ فکر امت کے اتحاد، فکری توازن اور روحانی استحکام کا محور بن سکتا ہے۔
(عابد محمود عزام)
جامعۃ الرشید کے ناقدین کیا سوچتے ہیں؟
پاکستان کی مذہبی، فکری اور تعلیمی دنیا میں اگر کسی ادارے نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بہت نمایاں، مختلف اور اثرانگیز کردار ادا کیا ہے تو وہ جامعۃ الرشید کراچی ہے۔ یہ ادارہ اپنے مزاج، نظم و نسق اور دینی و عصری امتزاج کے باعث روایتی مدارس کے سلسلے میں ایک نیا باب ہے۔ اس کے مہتمم مفتی عبدالرحیم صاحب نے دینی تعلیم کو ایک نئے شعور، نئی حکمت اور جدید اندازِ پیشکش کے ساتھ متعارف کرایا۔ تاہم جیسا کہ ہر کامیاب تحریک کے ساتھ مخالفتوں کے دروازے کھلتے ہیں، جامعۃ الرشید اور اس کی قیادت کے گرد بھی اختلافات، بدگمانیاں اور الزامات کا ایک حلقہ موجود ہے۔
جامعۃ الرشید نے آغاز ہی سے اپنے نظامِ تعلیم اور طرزِ عمل میں وہ جدت اختیار کی جو روایتی مدارس کے لیے غیر معمولی تھی۔ درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ یہاں میڈیا، فنانس، مینجمنٹ، تحقیق، زبان اور عصری فکری مباحث کو نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں روایت پسند طبقے نے اس پر شک کی نگاہ ڈالی، جن کے نزدیک دین کا نظامِ تعلیم ایک مکمل روایت ہے جس میں تبدیلی “بدعت” کے مترادف ہے، جب کہ جامعۃ الرشید کا مؤقف یہ تھا کہ یہ تبدیلی نہیں، تجدیدِ وقت کی ضرورت ہے۔
چند برس قبل جامعۃ الرشید نے مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان کے نام سے ایک نیا تعلیمی بورڈ قائم کیا، جس نے دینی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے بعض اکابرین اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے اسے مدارس کے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی قوت پہلے ہی گروہی تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں ایک نیا بورڈ مزید انتشار پیدا کرے گا۔ جامعہ نے نہایت متوازن موقف پیش کیا کہ یہ اقدام کسی کو توڑنے کے لیے نہیں، بلکہ نظامِ تعلیم کو مضبوط، معیاری اور مربوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ادارہ شفاف نظم، تحقیقی معیار اور اصلاحِ نصاب کے ساتھ تجربہ کرتا ہے تو اسے مخالفت نہیں، بلکہ حوصلہ افزائی ملنی چاہیے۔
جامعۃ الرشید پر ایک اور عام الزام “اسٹیبلشمنٹ سے قربت” کا لگایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جامعہ نے کبھی ریاست یا فوج سے تصادم کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ اس کا مؤقف یہ ہے کہ ریاست کی مضبوطی ہی قوم کی مضبوطی ہے۔ جامعہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ ریاست سے مکالمہ کرنا، اصلاح کی بات کرنا اور قومی پالیسیوں میں دینی نقطۂ نظر پیش کرنا “اسٹیبلشمنٹ نوازی” نہیں، بلکہ ایک تعمیری رویہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تصادم نہیں، تعمیر چاہتے ہیں۔ ریاستی قوتوں کے ساتھ مل کر دینی تعلیمات کے مطابق تعمیر کرنا بہترین خدمت ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کئی رہنما اور کارکنان جامعۃ الرشید سے فکری اختلاف رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مفتی محمودؒ اور مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے درمیان ایک فتویٰ کی بنیاد پر اختلاف پیدا ہوا تھا، اگرچہ بعد میں دونوں بزرگوں کے مابین تعلقات بحال ہو گئے تھے، لیکن جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان میں اختلاف باقی رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جامعۃ الرشید جمعیت کے بعض کارکنوں کے نشانے پر آتا گیا۔ سانحہ لال مسجد میں طالبات کی شہا۔ دت کی نفی کے معاملے میں بھی جمعیت کے بہت سے کارکنوں نے جامعۃ الرشید کے خلاف پروپیگنڈا کیا، حالانکہ وفاق المدارس کے علمائے کرام اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں کا موقف بھی یہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جامعۃ الرشید کا روزنامہ اسلام ہمیشہ دینی جماعتوں، مدارس اور شخصیات کا حامی رہا اور جمعیت علمائے اسلام کے بیانیے کو بھی مثبت انداز میں پیش کرتا رہا۔ تاہم بعض مواقع پر یہی اخبار بھی جمعیت کے کارکنان کی تنقید کا نشانہ بنا۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں جامعہ کے نسبتاً ریاست حامی رویے کی وجہ سے یہ اختلاف مزید گہرا ہوا اور مجمع العلوم الاسلامیہ کے قیام کے بعد تو مخالفت ایک منظم مہم کی صورت اختیار کر گئی۔ اکثر پروپیگنڈوں کے پیچھے یہی مخصوص مذہبی سیاسی طبقہ سرگرم دکھائی دیتا ہے۔
جامعۃ الرشید پر ایک اور اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کا ماضی عسکریت پسند حلقوں سے وابستہ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ ادارہ کبھی جہا۔ دی تحریکوں کے قریب تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دور کے حالات مختلف تھے۔ روس اور امریکا جیسی اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف مزاحمت کو اس وقت نہ صرف ریاست بلکہ پوری دینی قیادت نے ضروری سمجھا تھا۔ جب عالمی اور ملکی حالات بدلے تو جامعۃ الرشید نے بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کی۔ اصلاح، مکالمہ اور فکری تعمیر کا راستہ اپنایا۔ اس تبدیلی پر اعتراض بے معنی ہے، کیونکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق مؤقف بدلنا کمزوری نہیں، بلکہ حکمت ہے۔ تمام بڑی دینی شخصیات اور جماعتیں مختلف ادوار میں اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتی رہی ہیں۔
کچھ علماء کو جامعۃ الرشید کے وسیع نظم، کارپوریٹ طرزِ انتظام اور میڈیا سرگرمیوں پر بھی اعتراض ہے۔ ان کے خیال میں جامعہ نے دینی ماحول کو ادارہ جاتی یا “کاروباری” انداز میں بدل دیا ہے، مگر جامعہ کا مؤقف ہے کہ جب دوسروں نے میڈیا کو دین کے خلاف استعمال کیا تو ہم نے اسی میڈیا کو دین کی خدمت میں لگا دیا۔ ہم منبر سے اترے نہیں، منبر کو نئی دنیا تک پہنچایا ہے۔
درحقیقت جامعۃ الرشید اور اس کے ناقدین کے درمیان اختلاف کی جڑ “روایت اور تجدید” کا تصادم ہے۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ دین کی بقا روایت کے تسلسل میں ہے، جبکہ دوسرا یہ مانتا ہے کہ عصری فہم اور تجدیدِ فکر بھی ضروری ہے۔ جامعۃ الرشید کا مؤقف ہے کہ وہ روایت شکن نہیں، بلکہ روایت آگاہ تجدید پسند ادارہ ہے۔ اسی لیے روایت پرست طبقہ اسے “باغی” اور جدید پسند حلقے اسے “ادھورا اصلاحی ماڈل” قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جامعۃ الرشید نے ان دونوں کے درمیان توازن کی راہ نکالی ہے۔
تمام تر مخالفتوں، الزامات اور بدگمانیوں کے باوجود جامعۃ الرشید نے اپنی فکری قوت، تنظیمی نظم اور علمی معیار کے ذریعے ایک منفرد پہچان قائم کی ہے۔ اس کے فارغ التحصیل طلبہ آج میڈیا، معیشت، تحقیق، تعلیم اور بین الاقوامی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ جامعہ کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ مدرسہ ہوتے ہوئے بھی دنیا سے ہم قدم ہے۔ جامعہ کا پیغام واضح ہے:
ہمیں مخالفت سے نہیں، جمود سے خطرہ ہے۔ یہی جملہ اس ادارے کے کردار کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ جامعۃ الرشید نے جمود توڑا، سوچ کو وسعت دی اور روایت کو نئی زندگی بخشی۔ یہ محض ایک مدرسہ نہیں، بلکہ ایک فکری، تعلیمی اور اصلاحی تحریک ہے، جس نے دینی فکر کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچا دیا ہے۔
آخر میں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کیا مذہب صرف ماضی کا ورثہ ہے، یا حال و مستقبل کی رہنمائی کا نظام بھی؟ اگر دین ہر دور کی رہنمائی کے لیے آیا ہے تو مدارس کو بھی ہر دور کے انسان کے لیے مفید بننا ہوگا۔ جامعۃ الرشید اسی پیغام کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ مخالفت کے باوجود اثر اس کے ساتھ ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان اداروں کو زندہ رکھتی ہے جو فکر کو جمود سے آزاد کرتے ہیں۔
(عابد محمود عزام)
ائمہ مساجد کا وظیفہ: خدمت دین یا ریاستی مداخلت؟
حکومتِ پنجاب کی جانب سے صوبے بھر کی 65 ہزار مساجد کے ائمہ کرام کو ماہانہ وظیفہ دینے کا فیصلہ یقیناً ایک تاریخی اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ بظاہر یہ اقدام دینی خدمات انجام دینے والے ائمہ کرام کی مالی معاونت اور دینی طبقے کے احترام کے اظہار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ امر اپنی جگہ مسلم ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں دینی مراکز، مساجد اور مدارس کی سرپرستی بھی شامل ہے، کیونکہ ائمہ و مدرسین بھی اسی طرح قوم کی خدمت کر رہے ہیں جس طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد کرتے ہیں۔ ان کی ضروریات پوری کرنا دراصل ریاست کی اخلاقی، دینی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی خیر و برکت کا ذریعہ ثابت ہوگا، یا اس کے پس پردہ کچھ ایسے عوامل موجود ہیں جو منبر و محراب کی آزادی کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں؟
اگر حکومت کا مقصد دینِ اسلام کی خدمت اور ائمہ کرام کی تکریم ہے تو یہ بلاشبہ ایک مبارک اور لائقِ ستائش قدم ہے۔ امامِ مسجد محض نماز پڑھانے والا فرد نہیں، بلکہ وہ قوم کے اخلاق، فکر اور روحانیت کا معمار ہوتا ہے۔ اس کی مالی کفالت کا انتظام دراصل ایک دینی فریضہ ہے، تاکہ وہ معاشی پریشانیوں سے آزاد ہو کر دین کی خدمت میں یکسو رہ سکے، لیکن اگر اس اقدام کے پس پردہ سیاسی مقاصد یا مذہبی طبقے کو سرکاری دائرۂ اثر میں لانے کی کوشش ہے تو یہ صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مذہب کو سیاست کے تابع کیا گیا تو دین کی روح کمزور پڑ گئی اور منبر و محراب سے صدائے حق کے بجائے حکمرانوں کی خوشامد کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 3 لاکھ 27 ہزار مساجد موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے صرف 65 ہزار کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا گیا؟ کیا یہ صرف محکمہ اوقاف کی زیرِ نگرانی مساجد ہیں یا پھر انتخاب میں مخصوص مسالک، علاقوں یا سیاسی وابستگیوں کو ترجیح دی گئی ہے؟ اگر اس عمل میں شفافیت برقرار نہ رکھی گئی تو یہ فیصلہ مساجد کے اتحاد کے بجائے اختلاف و انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ حکومت کے زیرِ انتظام ہونا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ رعایا پر معروف میں حاکم کی اطاعت شریعت کا حکم ہے، مگر جب اطاعت عقیدے یا فکر کے بجائے مالی مفاد کے تابع بن جائے تو یہی اطاعت ’’انحصار‘‘ میں بدل جاتی ہے اور انحصار کبھی آزادی نہیں دیتا۔ اگر مساجد کا نظام براہِ راست حکومت کے ماتحت آگیا تو خطرہ ہے کہ منبر و محراب سے وہی کچھ کہا جائے گا جو سرکار چاہے گی۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب منبر حکومت کے زیرِ اثر آتا ہے تو وہ قوموں کے بیدار ضمیر کے بجائے حکمرانوں کے ضمیر کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اگر حکومت واقعی ائمہ کرام کی معاونت کرنا چاہتی ہے تو پہلا قدم ملک کے نظام کو اسلامی خطوط پر استوار کرنا ہونا چاہیے۔ اسلامی قوانین پر عملداری ہو، شرعی فیصلوں کو ریاستی تحفظ حاصل ہو اور عدل و انصاف قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔
چند ہزار روپے ماہانہ دے کر اگر منبر و محراب کی آواز کو محدود یا خاموش کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ دین کے نام پر ایک خطرناک سودے بازی ہوگی۔ البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ بہت سے ائمہ کرام واقعی مالی مشکلات اور معاشی تنگی کا شکار ہیں۔ ان کے بھی اہلِ خانہ ہیں، ان کے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات کے تقاضے ہیں۔ اس لیے اگر حکومت نیک نیتی سے یہ بوجھ بانٹنا چاہتی ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، مگر شرط یہ ہے کہ مساجد کے نظام میں سرکاری مداخلت نہ ہو۔ شرپسندی کی روک تھام اگرچہ ضروری ہے، مگر ائمہ کرام کو اپنے دینی و فکری موقف کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل رہنی چاہیے۔ کسی مسلک یا جماعت کو دوسرے پر ترجیح نہ دی جائے اور یہ وظیفہ کسی سیاسی یا نظریاتی وابستگی سے مشروط نہ ہو۔ منبر و محراب کی آزادی محض ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ دین کی بقا کی ضمانت ہے۔ حکومت اگر واقعی دین کی خادم بننا چاہتی ہے تو اسے علماء کرام کے پیغام کو آزادی دینی چاہیے۔ ائمہ کرام کو مالی سہولت دینا بلاشبہ ایک نیک عمل ہے، مگر اس کے ساتھ ان کی فکری و دینی آزادی کی حفاظت بھی لازمی ہے۔
حکومت کے ساتھ تعلق تب خیر کا ذریعہ بنتا ہے جب وہ تعلق دین کے تابع ہو، نہ کہ دین کو حکومت کے تابع کر دیا جائے۔ اگر یہ فیصلہ اسلامی شعور کو بیدار کرنے کے بجائے سیاسی تسکین کے لیے کیا گیا تو یہ منبر و محراب پر پہلا حملہ تصور ہوگا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ائمہ کرام کی تکریم کے ساتھ ساتھ ملک میں اسلامی عدل و اخلاق کا نظام نافذ کرے اور ائمہ کرام کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ منبر و محراب کی عزت تب ہی باقی رہتی ہے جب ان کی زبان صرف اللہ کے حکم کی ترجمان ہو، نہ کہ کسی حکومت کی۔
(عابد محمود عزام)
بازار میں کتاب کیوں نہیں؟
ایک کتاب کی تلاش میں قریبی مارکیٹ کی خاک چھاننا پڑی، مگر نہ مطلوبہ کتاب ملی، نہ ہی کتابوں کی دکانیں نظر آئیں۔ کتاب نایاب نہیں تھی، مگر کتابیں بیچنے والی دکانیں ضرور نایاب ہو چکی ہیں۔ قدم قدم پر برانڈز کا شور، ریسٹورنٹس کے ذائقے اور موبائل شاپس کی بھرمار ہے، مگر کتابوں کی خوشبو مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ یہ منظر کسی ایک علاقے یا شہر تک محدود نہیں۔ اب چھوٹی آبادیوں سے لے کر بڑی سوسائٹیوں تک، ہر جگہ شاپنگ مالز، بوتیکس، گروسری اسٹورز اور کیفے تو دکھائی دیتے ہیں، مگر کتابوں کی دکانیں خال خال نظر آتی ہیں۔ کتاب کے سوا ہر چیز دستیاب ہے۔ جیسے جیسے معاشرہ ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھتا گیا، کتاب پیچھے رہتی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ بازار میں وہی چیز بکتی ہے جس کی طلب ہو اور کتاب اب طلب میں نہیں رہی۔ ہر چیز کی ڈیمانڈ ہے، مگر کتاب کی نہیں۔ اسی لیے ہر چیز آسانی سے مل جاتی ہے، مگر کتاب نہیں ملتی۔ دل چاہتا ہے کہ ہر بازار، ہر سوسائٹی اور ہر کالونی میں کتابوں کی دکانیں بھی اسی طرح ہوں جیسے کپڑوں، جوتوں یا فاسٹ فوڈ کی دکانیں ہوتی ہیں، مگر ایسا ہونا مشکل ہے، کیونکہ کتاب کی طلب ہی ختم ہو چکی ہے۔
کتاب سے بے رغبتی دراصل معاشرتی زوال کی علامت ہے۔ کتاب تہذیب، شعور، فکر اور علم کی نمائندہ ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں کتابوں کی رونق ماند پڑ جائے، وہاں ذہنی پسماندگی خود بولتی ہے۔ یہ صرف علم سے دوری نہیں، بلکہ سوچ کے زوال کی علامت ہے۔ ہم اپنی ظاہری آسائشوں پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، مگر کتاب پر چند سو روپے خرچ کرنے میں تامل کرتے ہیں۔ کسی برانڈڈ کپڑے یا موبائل کی قیمت پوچھنے میں جھجک نہیں ہوتی، مگر کتاب کے نرخ سن کر اکثر کہا جاتا ہے: “اتنی مہنگی کتاب؟” حالانکہ وہی شخص روزانہ چائے، فاسٹ فوڈ یا فالتو مشاغل پر اس سے کہیں زیادہ خرچ کر دیتا ہے۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ ہم نے علم کو عیش و عشرت کے مقابلے میں غیر ضروری شے سمجھ لیا ہے۔
جب معاشرہ کتاب سے منہ موڑ لیتا ہے تو جہالت، تعصب، سطحی سوچ اور غیر سنجیدگی خود بخود پھیل جاتی ہے۔ تب گفتگو میں گہرائی نہیں رہتی، سوچ میں وسعت نہیں آتی اور کردار میں توازن ختم ہو جاتا ہے۔ آج اکثریت کے لیے کتاب ایک “بورنگ چیز” بن چکی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں کتاب نہیں، موبائل ہے۔ ان کی نگاہوں کے سامنے علم کے صفحات نہیں، بلکہ سوشل میڈیا کی چمکتی اسکرین ہے۔ انہیں مطالعے سے وہ لطف نہیں ملتا جو چند سیکنڈ کے ویڈیوز میں محسوس ہوتا ہے۔ جو قوم اپنی نسلوں کے ہاتھ میں کتاب نہیں دے سکتی، وہ انہیں مستقبل کی روشنی بھی نہیں دے سکتی۔ ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز سے تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کتاب خرید کر نہیں پڑھی۔ بہت سوں نے تو غیر نصابی کتاب کا مطالعہ کبھی کیا ہی نہیں۔ کبھی لائبریری نہیں گئے، کبھی کتابوں سے دوستی نہیں کی۔
کتابوں کی دکانوں کا کم ہونا دراصل ہماری ذہنی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو ہر چیز خریدنا سکھایا، مگر کتاب خریدنے کی عادت نہیں دی۔ اگر والدین خود کتاب دوست نہیں ہوں گے تو بچے مطالعہ کیسے پسند کریں گے؟ اگر ہم اپنے معاشرے کو دوبارہ فکری بلندی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب سے رشتہ جوڑنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد، دفاتر اور گھروں میں کتب بینی کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ کتاب صرف علم کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان کی تربیت کا سب سے حسین وسیلہ ہے۔ یہ دلوں کو نرم، ذہنوں کو روشن اور معاشروں کو مہذب بناتی ہے۔ اگر ہم نے کتاب کھو دی تو دراصل ہم نے اپنی پہچان کھو دی۔
(عابد محمود عزام)
ریل جیل کا درویش اور الزام تراشی کا متنازع کردار
تاریخ کے صفحات میں بعض نام محض شخصیات کے طور پر نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک نظریے کی علامت بن کر زندہ رہتے ہیں۔ انہی میں ایک تابندہ نام سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا ہے۔ وہ مردِ درویش جس کی خطابت نے غلام قوموں کے دلوں میں آزادی کی روح پھونکی، جس کی جرات نے فرنگی استعمار کے ایوانوں میں لرزہ طاری کیا اور جس کی درویشی نے سیاست کو عبادت کا رنگ بخشا۔ حال ہی میں بدنامِ زمانہ سابق سفیر حسین حقانی نے اپنے ایک ٹویٹ میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ پر چندے میں خردبرد کا الزام لگا کر اپنی فکری پستی اور تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ الزام نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی ہے، بلکہ ایک ایسی درویش صفت شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش ہے جس کی ساری زندگی فقر، استغنا اور قربانی کی مثال رہی۔
حسین حقانی 2008ء سے 2011ء تک امریکا میں پاکستان کا سفیر رہا۔ بعد ازاں میمو گیٹ اسکینڈل میں وطن دشمن سرگرمیوں کے انکشاف نے اس کی حقیقت بے نقاب کر دی۔ اس نے امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو ایک خفیہ میمو بھیجا جس میں پاکستانی فوجی قیادت کے خلاف امریکی مدد مانگی گئی۔ 2012ء میں سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن نے قرار دیا کہ حسین حقانی نے آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کی۔ ہم اس واقعہ کے دنوں میں کراچی میں زیرِ تعلیم تھے۔ ہمیں صحافت بابائے صحافت پروفیسر متین الرحمٰن مرتضیٰ پڑھاتے تھے اور استاد محترم کراچی یونیورسٹی میں چالیس سال پروفیسر رہے۔ وہ کئی بار بتایا کرتے کہ حسین حقانی کراچی یونیورسٹی میں ان کا شاگرد رہا ہے، مگر میمو گیٹ اسکینڈل کے بعد وہ اس تعلق پر نادم تھے۔ یہ بھی کہتے کہ حسین حقانی دورانِ تعلیم ہی اخلاقی طور پر درست راہ پر نہیں تھا۔ وہ میرا شاگرد ضرور ہے، مگر اب میری شرمندگی بن چکا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ جس شخص کے اپنے استاد اس کے کردار سے نادم ہوں، وہ آج اس مردِ درویش پر انگلی اٹھا رہا ہے جس نے اپنی زندگی فقر، امانت اور قربانی کے اصولوں پر گزاری۔ ایک ایسا شخص جو خود متنازع اور وطن دشمن ثابت ہو چکا ہو، اگر کسی ولی صفت رہنما پر الزام لگائے تو یہ دراصل الزام نہیں، اپنی اخلاقی شکست کا اعتراف ہوتا ہے۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام برصغیر کی دینی و سیاسی تاریخ میں روشنی کے مینار کی طرح چمکتا ہے۔ ان کی شخصیت میں درویشی اور قیادت، فقر اور خطابت، عبادت اور سیاست کا حسین امتزاج تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسلام اور آزادیٔ وطن کے لیے وقف کر دیا۔ وہ برطانوی سامراج کے خلاف اس جرات اور اعتماد سے بولتے تھے کہ مولانا محمد علی جوہرؒ نے انہیں “مقرر نہیں، ساحر” کہا، جبکہ علامہ محمد اقبالؒ نے انہیں “اسلام کی چلتی پھرتی تلوار” قرار دیا۔ شاہ صاحبؒ نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز تحریکِ خلافت سے کیا، جہاں ان کی خطابت نے غلام ذہنوں میں بغاوت کی چنگاری بھڑکائی۔ شاہ صاحبؒ فرمایا کرتے تھے: “احرار کا مقصد حکومت حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسانوں کو حریت کا شعور دینا ہے۔” ان کی سیاست اقتدار کی نہیں، غیرتِ قومی کی بیداری کی سیاست تھی۔ وہ کہتے: “ہم نے سیاست اس لیے نہیں کی کہ کرسی حاصل ہو، ہم نے سیاست اس لیے کی کہ ملت کی غیرت جاگے۔” ان کی زندگی کا بڑا حصہ ریل اور جیل کے درمیان گزرا۔ خود کہا کرتے تھے:“ہماری زندگی دو لفظوں میں سمٹ آئی ہے، ریل اور جیل۔” انہوں نے 18 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر کبھی اصول پر سمجھوتا نہیں کیا۔ انگریز حکومت کے ریکارڈ میں ان کے خلاف صرف ایک “جرم” درج تھا: “برطانوی حکومت کے خلاف تقریر!” علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی تجویز پر علمائے ہند نے متفقہ طور پر انہیں “امیرِ شریعت” تسلیم کیا۔ تحفظِ ختمِ نبوت کی تحریک ان کی قیادت میں ایک مقدس جہا۔ د بن گئی۔ شاہ صاحبؒ فرمایا کرتے تھے: “جس قوم کے دل میں ختمِ نبوت کا درد نہیں، وہ ایمان کے بوجھ کی اہل نہیں۔” ان کی قیادت میں علماء و مشائخ نے قا۔ دیا۔ نیت کے خلاف عظیم عوامی تحریک برپا کی۔ ان کی درویشی، قناعت اور بے نیازی ان کے کردار کی اساس تھی۔
ایک بار کسی نے بڑی رقم نذرانے کے طور پر پیش کی تو مسکرا کر فرمایا: “ہم نے اگر دولت کی گود میں سر رکھا تو حق کی آواز کون اٹھائے گا؟” اور وہ رقم تحریک کے اخراجات میں لگا دی۔ ان کی صاحبزادی نے لکھا: “ہمارا گھر جیل سے مختلف نہ تھا؛سادگی، قناعت اور صبر ہی ہمارا سرمایہ تھا۔” ان کی خطابت نے غلاموں کو آزادی کا شعور دیا، بے حسوں کو بیدار کیا اور دین کی غیرت کو زندہ کیا۔ شاہ بخاریؒ نے ہمیشہ یہ اصول اپنایا کہ سیاست کا مقصد اقتدار نہیں، خدمتِ دین ہے۔ ان کا مشہور جملہ تھا: “ہم نے کبھی حکومت کے دروازے پر دستک نہیں دی، ہم نے ہمیشہ قوم کے دروازے پر دستک دی ہے۔”
مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا ظفر علی خانؒ اور مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ جیسے اکابر سب ان کی دیانت اور پارسائی کے معترف تھے۔ ان کے مخالفین نے بھی کبھی ان پر مالی بدعنوانی کا الزام نہیں لگایا۔ لہٰذا جب ایک متنازع اور وطن فروش شخص ان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرے تو یہ دراصل اس کی اخلاقی پستی اور فکری افلاس کی دلیل ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ایک عہد ساز رہنما، مردِ حر اور عاشقِ رسولؐ تھے۔ ان کی زندگی ایمان، جرات اور درویشی کا مرقع تھی۔ ان پر جھوٹے الزامات تاریخ کے چہرے پر دھول کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی قربانی اور استغنا کی روشنی صدیوں تک اہلِ حق کے دلوں کو منور کرتی رہے گی، جب کہ حسین حقانی جیسے کردار اپنی سازشوں کے اندھیروں میں ہمیشہ گم رہیں گے۔
سوال مگر یہ ہے: جس شخصیت کی پوری زندگی قناعت، ایمان اور خدمتِ دین سے عبارت ہو، اس پر مالی خردبرد کا الزام لگانے والا کون ہے؟ ایک ایسا شخص جو اپنے ہی وطن کے راز بیگانوں تک پہنچاتا رہا، جس کے بارے میں عدالت کہہ چکی کہ اس کی وفاداری پاکستان سے نہیں۔ وہ اگر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ پر الزام لگائے تو یقین جانیے، یہ الزام بخاریؒ کے نہیں، بلکہ حقانی کے ضمیر پر کلنک ہے۔ تاریخ کے کسی مستند ماخذ میں شاہ بخاریؒ پر مالی بدعنوانی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ان کے مخالف بھی ان کی دیانت، سچائی اور استغنا کے قائل رہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر کے ضمیر کی آواز تھے۔ ان کی خطابت نے غلاموں کو آزادی کا راستہ دکھایا، ان کی سیاست نے دین کو عزت بخشی اور ان کی درویشی نے انسانیت کو سادگی و ایمان کا سبق دیا۔ آج اگر کوئی مفاد پرست یا لبرل ذہن ان کے کردار پر انگلی اٹھاتا ہے تو دراصل وہ اپنے ماضی کے سیاہ دھبوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ تاریخ مگر گواہ ہے کہ درویشوں پر الزام لگانے والے ہمیشہ رسوا ہوتے ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام صداقت، قربانی اور غیرتِ ایمانی کا استعارہ ہے۔ وہ دنیا سے رخصت ہو چکے، مگر ان کی آواز آج بھی اہلِ حق کے دلوں میں گونجتی ہے۔
(عابد محمود عزام)
سنجیدہ موضوع پر طنز فکری زوال کی نشانی
مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی کتاب “دجال: کون، کب، کہاں؟” ایک فکری، تحقیقی اور بصیرت افروز تصنیف ہے۔ بظاہر اس کتاب کا محور دجال کی ذات اور اس کے فتنوں کا بیان ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسی جامع اور تجزیاتی تصنیف ہے جو انسانی تاریخ، موجودہ عالمی نظام اور آنے والے فتنوں کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ مصنف نے دجال کے خطرناک فتنے کے فکری، سیاسی، معاشی اور تہذیبی مظاہر کو نہایت عالمانہ انداز میں سامنے رکھا ہے۔ کتاب میں قیامت کی چھوٹی، بڑی علامات، امام مہدیؑ کا ظہور، حضرت عیسیٰؑ کا نزول اور یاجوج و ماجوج کے خروج جیسے عظیم واقعات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ تاہم مصنف نے ان واقعات کے پس منظر میں موجود تاریخی، فکری اور روحانی عوامل پر بھی گہری روشنی ڈالی ہے۔
مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے عالمی صہیو۔ نیت، یہو۔ دی عقائد اور ان کے مذہبی تصورات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک صہیو۔ نی نظام، بین الاقوامی مالیاتی ادارے، سودی معیشت اور جدید عالمی حکومت کے قیام کی کوششیں اسی دجالی فکر کی توسیع ہیں۔ یہ کتاب محض مذہبی یا روایتی زاویہ نہیں رکھتی، بلکہ اس میں معاشی، سیاسی اور فکری پہلوؤں کو بھی نہایت سلیقے سے مربوط کیا گیا ہے۔ سودی نظام کے تباہ کن اثرات، عالمی معیشت میں طاقت کے توازن اور میڈیا کے ذریعے ذہنی غلامی کے نئے طریقوں پر جو بصیرت افروز تجزیہ مصنف نے پیش کیا ہے، وہ ہر سنجیدہ قاری کے ذہن و دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ کتاب کے مختلف ابواب میں مصنف نے اسلامی تاریخ کے ادوار پر نگاہ ڈالتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ حق و باطل کا معرکہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ یہ جدوجہد انبیاء علیہم السلام کے زمانے سے آج تک جاری ہے۔ دجالی نظام ایک مکمل تہذیبی و فکری نظام ہے جو بتدریج انسانی معاشروں میں سرایت کرتا چلا جا رہا ہے۔ مصنف نے اس فتنے سے بچاؤ کے لیے روحانی اور فکری اصول بھی بیان کیے ہیں۔ انہوں نے سورۃ الکہف کی حکمت پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح نبوی دعاؤں، صبر، تقویٰ اور فتنوں کے زمانے میں گوشہ نشینی اور ضبطِ نفس کی اہمیت کو بھی نہایت بصیرت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔
بدقسمتی سے بعض لوگ اس سنجیدہ اور فکری موضوع کو طنز و تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ ناقدین تعصب، لاعلمی یا مصنف اور ان کے ادارے سے بغض کی بنیاد پر کتاب پر تنقید کرتے ہیں۔ بعض افراد طنزیہ انداز میں یہ جملہ بھی دہراتے ہیں کہ “دجال جامعۃ الرشید تک پہنچ گیا ہے”۔ یہ جملہ بعض لوگ مفتی زرولی خانؒ سے منسوب کرتے ہیں، جو اپنی مخصوص مزاحیہ گفتگو میں اس قسم کے جملے متعدد علماء سے متعلق بھی کہا کرتے تھے، لیکن ایسے اقوال علمی نہیں، بلکہ جذباتی رویّے کی عکاسی کرتے ہیں۔
اگر دجال اور اس کے فتنوں کا ذکر محض مذاق یا تضحیک کا موضوع بن جائے تو یہ خود زوالِ فکری اور کمزور ایمان کی علامت ہے۔ قرآن و سنت میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگنے اور اس کے خطرات سے آگاہ رہنے کی صریح ہدایات موجود ہیں۔ چنانچہ اگر ہم اس موضوع کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں تو دراصل ان واضح تعلیمات سے غفلت برت رہے ہیں، جو دجال سے متعلق احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ یقیناً کسی بھی علمی تصنیف سے اختلاف رائے ممکن ہے۔ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی کتاب کے نکات پر بھی کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اختلاف کا طریقہ علمی اور مہذب ہونا چاہیے، تعصب یا طنز پر مبنی نہیں۔ اگر کسی نقطے پر شرحِ صدر نہ ہو تو دلیل کے ساتھ رد کیا جائے، مگر استہزا اور تحقیر سے نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ناقدین کی ایک بڑی تعداد ان افراد پر مشتمل ہے جو جامعۃ الرشید کی ترقی اور کامیابی کو تعصب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ یہ کتاب مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے اسی ادارے میں رہتے ہوئے لکھی تھی، اس لیے بعض لوگ اپنی ذاتی ناپسندیدگی کو علمی تنقید کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
درحقیقت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے اس کتاب میں ایک فکری دعوت اور بیداری کی صدا بلند کی ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ ہم زمانۂ فتنہ و انتشار میں جی رہے ہیں اور جو شخص اس میں آنکھیں بند رکھے گا، وہ حقیقت کی روشنی سے محروم رہ جائے گا۔ “دجال: کون، کہاں، کب؟” محض ایک مذہبی تصنیف نہیں، بلکہ ایک فکری دستاویز ہے جو سوچنے، سمجھنے اور بیدار ہونے کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ضروری مطالعہ ہے جو دین، امت اور انسانیت کے مستقبل سے فکری وابستگی رکھتا ہے۔
(عابد محمود عزام)






