ڈیوٹی نہیں صرف فرض

تحریر… انورشاہ

عرفان فیض ایس ایچ او صدر تھانہ چوک سرور شہید … وہ
افسر جو صرف ڈیوٹی نہیں کرتا، فرض نبھاتا ہے”
تحریر( انورشاہ )ہر شہر میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض خبریں نہیں ہوتے—وہ کردار تراشتے ہیں، ہیرو سامنے لاتے ہیں، اور لوگوں کو دکھاتے ہیں کہ فرض شناسی آج بھی زندہ ہے۔مظفرگڑھ میں چند دن پہلے پیش آنے والا واقعہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔معروف یوٹیوبر شہزاد عرف ویلا منڈا کے والد صادق ملانہ کو چار مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ خوف، بے بسی اور اندیشوں نے خاندان کو گھیر لیا۔ کچھ لوگوں نے حسبِ عادت اسے “پرینک” کہہ کر ہلکا لینے کی کوشش بھی کی، مگر واقعہ حقیقت تھا—اور بہت سنگین۔درخواست جب پولیس تک پہنچی تو ڈی پی او مظفرگڑھ نے فوری نوٹس لیا، پنجاب پولیس ایکٹو ہوئی…
مگر اس پورے کیس میں اگر کوئی شخصیت اصل ستون کی طرح کھڑی تھی، تو وہ تھے ایس ایچ او تھانہ چوک سرور شہید – عرفان فیض یہ وہ افسر ہے جو فائل نہیں دیکھتا سیدھا مسئلے کی جڑ تک جاتا ہے۔یہ وہ پولیس آفیسر ہے جو وردی کو روایتی طاقت نہیں سمجھتا، ذمہ داری سمجھتا ہے۔ایف آئی آر انہی کے تھانے میں درج ہوئی۔قیادت بھی انہی نے سنبھالی، ٹیم بھی انہی نے بنائی، ٹریس بھی انہوں نے کیا، اور سب سے بڑھ کر کارروائی کی ہمت بھی انہوں نے دکھائی۔جدید طریقوں سے ملزمان تک پہنچا گیا۔مقامِ واردات تک رسائی، مناسب حکمت عملی، اور پھر وہ لمحہ جب پولیس اور چاروں اغواکار آمنے سامنے آئے یہ چند سیکنڈ نہیں تھے یہ عرفان فیض کی کمانڈ، حوصلے اور فیصلہ سازی کا امتحان تھا۔پھر تاریخ نے وہ منظر دیکھا کہ چاروں مسلح اغواکار مقابلے میں ہلاک ہوئے
اور صادق ملانہ بحفاظت بازیاب ہو گئے۔یہ کامیابی صرف ایک کیس کی کامیابی نہیں تھی یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اگر ایس ایچ او عرفان فیض جیسا افسر موجود ہو… تو جرم کہیں بھی سر نہیں اٹھا سکتا۔ایسے افسر روز روز نہیں ملتے۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر پوری فورس کو فخر ہونا چاہیے۔جنہیں دیکھ کر نوجوان پولیس آفیسرز سیکھیں کہ اصل کام کیا ہے۔ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کے بعد اب انہی کی مدعیت میں مزید قانونی کارروائی بھی آگے بڑھے گی کیونکہ عرفان فیض صرف کارروائی نہیں کرتے، کیس کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔یہ کالم صرف ایک کہانی نہیں یہ خراجِ تحسین ہے اس افسر کے نام جس نے ثابت کیا کہ جب فرض کی بات آئے… تو وردی صرف پہننی نہیں ہوتی، نبھانی پڑتی ہے۔
عرفان فیض۔ ۔۔
آپ جیسے افسر ہی پنجاب پولیس کا فخر ہیں۔