میاں افضل گروپ کی روایتِ کامیابی اور امیدِ نو

تحریر محمد زاہد مجید انور

*ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹوبہ ٹیک سنگھ ہمیشہ سے اپنی روایات، اصولی سیاست اور مہذب انتخابی ماحول کے باعث نمایاں رہی ہے۔ وکلاء برادری کا یہ معزز ادارہ نہ صرف قانون کی بالادستی کا نشان ہے بلکہ یہاں ہونے والی ہر سرگرمی ایک پیغام دیتی ہے کہ مضبوط جمہوری عمل ہی پیشہ وارانہ ترقی کی بنیاد ہے۔گزشتہ روز اسی تسلسل کی ایک خوبصورت جھلک اُس وقت دیکھنے میں آئی جب سابق صدر ڈسٹرکٹ بار اور شہر کے معروف سینئر قانون دان چوہدری ناصر اقبال ایڈووکیٹ نے ڈسٹرکٹ بار کے سالانہ انتخابات کے سلسلے میں میاں افضل گروپ کے نامزد امیدوار برائے صدر بار، میاں محمد احسن ایڈووکیٹ کے اعزاز میں ایک پُروقار عشائیے کا اہتمام کیا۔تقریب نہ صرف حاضری کے اعتبار سے کامیاب رہی بلکہ اس میں موجود گرمجوشی، باہمی احترام اور انتخابی وقار نے ایک خوشگوار ماحول پیدا کر دیا۔ سابق صدور سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ وکلاء برادری آج بھی بار کی مضبوطی اور اتحاد کو فوقیت دیتی ہے۔چوہدری ناصر اقبال ایڈووکیٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم میاں محمد افضل ایڈووکیٹ کی خدمات، اُن کی پیشہ ورانہ دیانت اور وکلاء سے محبت کو اُن کی کامیابی کا اصل راز قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میاں افضل گروپ ہمیشہ کی طرح آئندہ انتخابات میں بھی سرخرو ہوگا، اور میاں محمد احسن ایڈووکیٹ کی کامیابی یقینی ہے۔ ان کا لہجہ پُراعتماد بھی تھا اور وکلاء برادری کے اجتماعی فیصلے پر یقین کا مظہر بھی۔صدر بار کے امیدوار میاں محمد احسن ایڈووکیٹ نے خطاب میں جہاں وکلاء کا شکریہ ادا کیا وہیں اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کامیابی کی صورت میں وکلاء کی فلاح و بہبود، بار کی بہتری، اور مسائل کے حل کو اولین ترجیح دیں گے۔ اُن کے انداز میں سنجیدگی بھی تھی اور خدمت کا عزم بھی، جو ایک اچھے قائد کے لیے ناگزیر خصوصیات ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی بار کی پالیسی، اس کا ماحول اور اس کی سمت کا تعین صدر کی شخصیت اور وژن سے ہوتا ہے۔ اگر بار کا قائد ایماندار، تجربہ کار اور وژن رکھنے والا ہو تو نہ صرف بار مضبوط ہوتی ہے بلکہ نوجوان وکلاء کے لیے نئی راہیں بھی کھلتی ہیں میاں افضل گروپ کی کامیابی کی روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ وکلاء برادری کارکردگی اور خدمت کے تسلسل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اگر میاں محمد احسن ایڈووکیٹ تجربے، تحمل اور خدمت کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو یقیناً بار ایسوسی ایشن کو نہ صرف بہتر قیادت ملے گی بلکہ اس کے مثبت اثرات پورے ضلع میں عدالتی اُمور پر بھی مرتب ہوں گے۔آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے وکلاء ہمیشہ سے باشعور اور اصول پرست رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں بھی دانشمندانہ فیصلے کیے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے۔ انتخابات ایک دن کا عمل ضرور ہے، مگر اس کے اثرات پورے سال تک بار کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔دعا ہے کہ بار انتخابات میں وہی قیادت منتخب ہو جو وکلاء برادری کا سر فخر سے بلند کرے، اور بار کو ترقی، اتحاد اور خدمت کی نئی منزلوں سے ہمکنار کرے۔*