سلانٹی،پاپڑ، کُر کُرے اور بچوں کے امراض۔ سی ایم پنجاب کے نام
تحریر: مبشر نور کمیانہ
۔۔۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلانٹی پاپڑ، کُر کُرے،نمکو،چپس وغیرہ ہلکی پھلکی اور موڈ تبدیل کرنے کی غذائیں ہیں۔ یہ پریشانی کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اکثر دوست یار کہیں بیٹھ کر ایسی اشیاء کھا رہے ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق سلانٹی، پاپڑ،کُرکُرے،پیزے، شوارمے میں شامل شگر، کولیسٹرول اور دیگر اجزاء انزائٹی بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اب سردیوں کے آغاز سے پہلے ہی گلی محلوں میں سلانٹی، پاپڑ، نمکو کی رنگین پیکنگ نے بچوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ افسوس کہ ان خوبصورت چمکدار پیکٹوں کے اندر ذائقہ نہیں بلکہ زہر چھپا ہوا ہے۔ غیر معیاری، سستے، مضرِ صحت اور کیمیکل سے تیار یہ اشیاء بچوں کے گلے، معدے اور جگر کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ بچوں میں گلے کی خرابی، کھانسی، بخار اور پیٹ درد کی شکایات عام ہو گئی ہیں۔
پاکستان میں جو اچھے برانڈز ہیں وہ کھانے پینے کی اعلی اقسام کی پروڈکٹس تیار کر رہے ہیں۔جن پر پبلک کو یقین ہوتا ہے کہ اِن برانڈز کی یہ اشیاء مضر صحت نہیں ہیں۔ ایسے برانڈز کو خود بھی چاہیے کہ مارکیٹوں کا وزٹ کیا کریں جو افراد کسی مشہور برانڈکے نام سے ملاوٹ والی کیمیکل سے تیار کردہ دو نمبر اشیاء فروخت کر کے بچوں کو بیما رکر رہے اُن کے خلاف سخت ایکشن لیں اور حکومت سے ان دو نمبر جعلی غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کو بند کرنے کی اپیل کی جائے۔جو لوگ گھر گھر میں دو نمبر اشیاء تیار کر رہے ہیں ان پر پابندی لگنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ اچھے اچھے برانڈز کو بھی بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ پبلک کو بھی بیما رکر رہے۔
یہاں دیکھے دیکھی ہر کوئی اپنا کاروبار کرنے کے شوق اور پیسہ کمانے کے لالچ میں دو نمبر پروڈکٹس تیار کرنے لگ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے مارکیٹوں میں غیر معیاری دونمبر اشیاء بے خوف و خطر فروخت ہو رہی ہیں۔ نہ فوڈ اتھارٹی کا کوئی چکر، نہ ہی کسی چیکنگ ٹیم کی موجودگی ہے۔ جب تک متعلقہ ادارے حرکت میں نہیں آئیں گے۔ معصوم بچوں کی صحت یوں ہی خطرے میں رہے گی۔
ایک اور بڑا مسلہ یہ بھی ہے کہ فیکٹریوں،ہسپتالوں جیسی جگہوں کے آس پاس بہت گندے ہوٹل کھلے ہوتے ہیں جو انتہائی گندہ ناقص کھانا سالن تیار کرتے ہیں جس کو کھا کر لوگ پیٹ درد اور خونی بواسیر جیسی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ صٖفائی کاذرا بھی انتظام نہیں ہوتا۔ سبزی و گوشت کوبغیر دھوئے، بغیر صاف کیے پکا کے رکھ دیتے ہیں۔ ایسے گندے ہوٹلوں کے مالکان کو بھاری جرمانہ کر کے ہوٹلوں کا جڑ سے خاتمہ ہونا چاہیے۔
افسوس کہ فوڈ اتھارٹی افسران کو سب معلوم ہونے کے باوجود بھی وہ اِس طرف توجہ نہیں دے پا رہے۔ پبلک کو ہمیشہ یہی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ فوڈاتھارٹی افسران اِن تمام دونمبر کاروباری افراد سے اپنا ماہانہ کمیشن لے کر رفو چکر ہو جاتے ہیں، عوام جائے بھاڑ میں۔
تیزا ب اور مضر صحت آئل و کیمیکل اور خطرناک کلرز سے بنے سلانٹی‘ پاپڑ‘کُر کُرے، چپس، جیلی فش اور نمکو کھانے سے بڑی تعداد میں بچے گلے اور پیٹ کے مختلف امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ مختلف شہروں میں جگہ جگہ گلی محلوں میں مضر صحت اشیاء بنانے کے کارخانے قائم ہیں جن کو تیزچٹخارے دار بنانے کے لئے تیزاب کی ایک خاص مقدار کا استعمال کیاجا رہا ہے۔ مضر صحت آئل اور کلرز کا استعمال بھی کیاجا رہا ہے۔ ان کارخانو ں میں صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہیں کیاجا رہا بلکہ گندی جگہو ں پر پاپڑ بنائے جا رہے ہیں۔
پچاس 50روپے کلو کے مضر صحت آئل سے پاپڑ بناکر سپلائی کئے جا رہے ہیں۔ یہ آئل مرغی کی آلائشوں سے تیار کیاجاتا ہے اور نواحی علاقوں میں گندی جگہوں پر کڑاہے رکھ کر تیار کر رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں دو نمبرجعلی مضر صحت پاپڑ‘سلانٹی‘ چپس اور نمکو بنانے کے کارخانے قائم ہیں جہاں چھوٹے بچوں کو تھوڑی سی اُجرت کے عوض اُن سے مشقت کرائی جا رہی اور پاپڑوں کی پیکنگ کرائی جا تی ہے۔ یہ مضر صحت چیزیں ہر دکان پر بک رہی ہیں اور بچے انہیں کھا کر گلے اور پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں بچے مختلف اشیا کھانے کے باعث شدید انفیکشن ہونے پر داخل ہو رہے ہیں۔
ہمارے والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اپنے بچوں کی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ والدین جب اپنے بچوں کے ہاتھوں میں سلانٹی یا پاپڑ دیکھتے ہیں تو شاید اندازہ نہیں کر پاتے کہ وہ دراصل اپنے بچوں کے جسم میں زہر داخل کر رہے ہیں۔جو والدین ایک سال کے بچے کو بھی بازاری اشیاء پر لگا دیتے ہیں وہ خود اپنے بچوں پر بہت بڑا ظلم کر رہے ہیں۔ ہم سب کو اس بارے سوچنا ہو گا کیونکہ آنے والا دور بہت مشکل دور آ رہا،مستقبل میں ہم سب کی زندگی مشکلات سے بھر جائے گی۔لہذا! ہم سب کو اپنے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
سی ایم پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے مطالبہ ہے کہ فوڈ اتھارٹی کو فعال کیاجائے اور مضر صحت اشیاء بنانے والوں اور جعلی غیر رجسٹرڈ کارخانوں کو سیل کیا جائے تاکہ ملک سے گندگی کا خاتمہ کیا جا سکے اور اس عمل میں غفلت کے مرتکب فوڈ اتھارٹی کے افسروں و اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
ایک طرف حکومت صحت پر اربوں روپے کے اخراجات کر رہی ہے مگر بچوں کو مضر صحت اشیا کھانے سے بچانے کے لئے موثر اقدامات نہیں ہیں۔ اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ فوڈ سیفٹی ٹیمیں فوری طور پر کارروائیاں کریں۔ اسکولوں اور بازاروں کے اردگرد فروخت ہونے والی اشیاء کا معیار چیک کیا جائے اور مضر صحت مصنوعات کو ضبط کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کیونکہ ذائقے کی چند لمحوں کی خوشی اگر بیماریوں کی شکل میں عمر بھر کا دکھ بن جائے تو پھر یہ خوشی نہیں، زہر ہے۔
نوٹ: یہ تحریر لکھنے کا مقصد کسی کاروباری افراد کو نشانہ بنانا یا کسی کا کاروبار بند کروانا نہیں بلکہ دونمبر جعلی غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ اشیاء کی فروخت سے پیدا ہونے والی امراض بارے توجہ دلانا ہے۔













